سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کیلئے عمرکی حد 63 سال مقرر، خبرآگئی

سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کیلئے عمرکی حد 63 سال مقرر، خبرآگئی
سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کیلئے عمرکی حد 63 سال مقرر، خبرآگئی

  



پشاور(ویب ڈیسک)خیبر پختونخوا اسمبلی نے سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر60سال سے بڑھا کر63سال کرنے کیلئے” سول سرونٹس(ترمیمی) بل2019 کی منظوری دے دی ہے، کوئی بھی سرکاری ملازم 25سال ملازمت یا55سال کی عمر سے پہلے ریٹائرمنٹ نہیں لے پائیگا،فیصلہ سےصوبہ کو 3سال میں75ارب کی بچت ہوگی ، اپوزیشن نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے ایوان سے احتجاجاًواک آوٹ کیا جبکہ حکومت نے اپوزیشن کی جانب سے ریٹائرمنٹ کی عمر63سال کی بجائے58سال مقرر کرنے کی ترمیم مسترد کردی ، وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم ضیا اللہ بنگش نے ” خیبر پختونخوا سول سرونٹس (ترمیمی) بل2019فوری طورپر زیر غور لانے کی تحریک پیش کی جس کی رو سے صوبہ کے سرکاری ملازمین کیلئے ریٹائرمنٹ کی عمر60سال سے بڑھا کر63سال کرنے کی تجویز پیش کی گئی جبکہ یہ بھی لازمی کردیا گیا کہ کوئی بھی سرکاری ملازم25سال ملازمت یا 55سال کی عمر سے پہلے ریٹائرمنٹ نہیں لے پائیگا، ایم ایم اے کے رکن عنایت اللہ خان نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے ریٹائرمنٹ کی عمر63سال کرنے کی بجائے58سال کرنے کی ترمیم پیش کی اور موقف اپنا یاکہ3سال میں بچت کی بجائے پنشن کا بوجھ بڑھے گا جبکہ جونیئر افسران کی ترقی کے مسائل جنم لیں گے، اس کے ساتھ نوجوانوں کےلئے روزگار کے مواقع میں بھی کمی آئے گی ، شگفتہ ملک اور عنایت اللہ خان نے کہاکہ اگر صوبائی حکومت کا یہ اقدام فائدہ مند ہوتا تو مرکز اور پنجاب میں بھی تحریک انصاف کی حکومت ہے وہاں ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر میں اضافہ کیوں نہیں کیا جاتا؟ مشیر تعلیم ضیا اللہ بنگش نے کہاکہ صوبائی حکومت نے اس ضمن میں طویل تحقیق کی ہے ، سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر میں توسیع سے تین سالوں کے دوران صوبہ کو75ارب روپے کی بچت ہوگی اسلئے یہ اقدام نہ صرف سرکاری ملازمین بلکہ صوبہ کے عوام کے مفاد میں ہے، صوبائی وزیر اکبر ایوب نے کہاکہ صوبائی کابینہ نے ریٹائرمنٹ کی عمر میں توسیع کے فیصلہ کی منظوری دی ہے اس حوالے سے درجنوں مشاورتی اجلاس ہوئے ہیں اگر کسی کو فیصلہ پر اعتراض ہے تو عدالت جائے اس فیصلہ سے جونیئر افسران کی ترقی کسی صورت متاثر نہیں ہوگی ، اس دوران ایوان میں عنایت اللہ خان کی جانب سے پیش کردہ دو ترامیم پر رائے شماری ہوئی جس میں اپوزیشن کو شکست کا سامنا کرنا پڑا، اپوزیشن ارکان نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے ایوان سے واک آوٹ کیا اس دوران ” خیبر پختونخوا سول سرونٹس (ترمیمی) بل2019کی متفقہ منظوری دی گئی۔ اجلاس کے دوران صوبائی مشیر تعلیم نے ” خیبر پختونخوا مائنز سیفٹی اینڈ رجسٹریشن بل2019، خیبر پختونخواایسنشل پرسنل رجسٹریشن ترمیمی بل2019اورخیبر پختونخوا للسائل والمحروم بل2019بھی ایوان میں پیش کیا۔

مزید : علاقائی /خیبرپختون خواہ /پشاور


loading...