پاکستان اورامریکہ ایک پیج پر ہیں، وزیر اعظم کا امریکی تھنک ٹینک سے خطاب

پاکستان اورامریکہ ایک پیج پر ہیں، وزیر اعظم کا امریکی تھنک ٹینک سے خطاب
پاکستان اورامریکہ ایک پیج پر ہیں، وزیر اعظم کا امریکی تھنک ٹینک سے خطاب

  



واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیر اعظم عمران خان نے کہاہے کہ نائن الیون کے واقعہ میں کوئی پاکستانی ملوث نہیں تھا ، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ہزاروں جانیں ضائع ہوئیں،امریکہ اور پاکستان ایک پیج پر ہیں، ٹرمپ ایک صاف گو انسان ہیں ، مل کر خوشی ہوئی ۔

امریکی تھنک ٹینک یو ایس انسٹی ٹیوٹ آف پیس میں خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ میں آزاد پاکستان میں پیدا ہونے والی پہلی نسل کا حصہ ہوں، میرے والدین بتاتے تھے کہ غلامی کی زندگی کتنی مشکل تھی۔60 کی دہائی میں پاکستان پورے خطے میں تیزی سے ترقی کرتا ہوا ملک تھا۔ ہم نے یہ سوچنا شروع کردیا تھا کہ یہ وہ ملک ہے جو ہمارا خواب تھا لیکن جلد ہی چیزیں تبدیل ہونا شروع ہوگئیں۔میں نے شوکت خانم بنانے کے بعد سوچا کہ سوشل ورک کے ذریعے ملک کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا بلکہ اگر تبدیلی لانی ہے تو آپ کو سیاست میں آکر حکومت بنانا ہوگی۔نو آبادیاتی نظام کا حصہ رہنے والے ممالک کا سب سے بڑا مسئلہ کرپشن تھا جس کے باعث وہ آگے نہیں بڑھے سکے۔ پاکستان میں 80 کی دہائی میں کرپشن کا دور دورہ شروع ہوا اور جب میں نے 1996 میں پارٹی بنائی تو اس کامنشور کرپشن اور غربت کا خاتمہ تھا۔

انہوں نے کہا کہ15 سال تک میرے ساتھ صرف چند ہی لوگ تھے لیکن پھر اچانک ہی لوگوں نے میری باتوں کو سمجھنا شروع کیا اور ہم نے ایک صوبے میں حکومت بنائی، اس صوبے میں پرفارمنس کی بنا پر ہمیں مرکز میں حکومت بنانے کا موقع ملا۔10 ماہ پہلے ہم نے ملک سنبھالا تو اس وقت ملک دیوالیہ ہونے والا تھا، ہمارے لیے سب سے بڑا چیلنج کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ تھا۔ حکمران طبقہ کرپشن کے ذریعے پیسہ بناتا ہے اور پھرمنی لانڈرنگ کرکے باہر بھیج دیتاہے ، اس طرح ہمیں دہرا نقصان ہوتا ہے۔صدر ٹرمپ سے ملاقات میں بات کی کہ ٹریلین ڈالرز تیسری دنیا کے ممالک سے آ ف شور کمپنیوں کے ذریعے ترقی یافتہ ممالک میں جارہے ہیں اور یہی پیسہ بعد میں منشیات اور دہشتگردی میں استعمال ہوتا ہے جبکہ تیسری دنیا کے ممالک کے لوگ اس کا خمیازہ بھگتتے ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان میں ادارے آزاد نہیں تھے کیونکہ اگر یہ آزاد ہوتے تو یہ تمام منی لانڈرنگ اور کرپشن کو روک پاتے ، ہم ادارے بہتر کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔پڑوسیوں کے ساتھ ہمارے اچھے تعلقات ہونے چاہئیں کیونکہ ہمیں معاشی ترقی کیلئے امن و استحکام کی ضرورت ہے۔ہم نے سب سے پہلے انڈیا کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کی جب بھی تعلقات درست سمت میں جانا شروع ہوتے ہیں تو کچھ نہ کچھ ایسا ہوجاتا ہے کہ ہم پھر سے صفر پر آجاتے ہیں،میں نے انڈین ہم منصب کو کہا تھا کہ اگر آپ ایک قدم آئیں گے تو ہم دو قدم اٹھائیں گے۔انہوں نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ تعلقات بہتر نہیں تھے لیکن ہم نے افغان صدر کو پاکستان بلایا اور اب تعلقات بہتر ہونا شروع ہوگئے ہیں

ہم سب امن عمل کیلئے کام کر رہے ہیں،ہمارے ایران کے ساتھ اتنے گرمجوش تعلقات نہیں ہیں لیکن شاندار تعلقات موجود ہیں۔

مزید : اہم خبریں /قومی