”میں نے شہرت کی چمک میں زندگی گزاری اور بڑے لوگوں سے ملا لیکن ٹرمپ سے ملاقات سے پہلے۔۔۔ “وزیراعظم نے ایسی بات کہہ دی کہ ہال قہقہوں سے گونج اٹھا

”میں نے شہرت کی چمک میں زندگی گزاری اور بڑے لوگوں سے ملا لیکن ٹرمپ سے ملاقات ...
”میں نے شہرت کی چمک میں زندگی گزاری اور بڑے لوگوں سے ملا لیکن ٹرمپ سے ملاقات سے پہلے۔۔۔ “وزیراعظم نے ایسی بات کہہ دی کہ ہال قہقہوں سے گونج اٹھا

  



واشنگٹن(ڈیلی پاکستان آن لائن )وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ آپ پسند کریں یا نہ کریں لیکن ہمارے امریکہ کے ساتھ تعلقات اچھے ہیں ،ملاقات میں ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ کس طرح دونوں ملکوں کے تعلقات مزید بہتر ہو نگے اور کس طرح رابطوں کے فقدان کو ختم کیا جائے ۔ان کا کہنا تھا کہ میں نے 40 سال لائم لائٹ کی زندگی گزاری اور بہت سے بڑے لوگوں سے ملا ہوں لیکن ٹرمپ سے ملاقات سے پہلے جتنی تجاویز مجھے دی گئی ہیں اتنی پوری زندگی میں کبھی نہیں ملیں۔امریکی تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ آف پیس میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ 2014 اور 2015 کا وقت وہ تھا جب پاکستان اور امریکہ کے بدترین تعلقات تھے،پاکستان امریکہ کی جنگ لڑ رہا تھا،ہم نے 70 ہزار جانیں اور 100 ارب ڈالر سے زائد کا معاشی نقصان برداشت کیا،پاکستان اس جنگ سے باہر آسکتا تھا لیکن ہم نے اس میں حصہ لیا ،لوگ سوچ رہے تھے کہ اتنی دہشتگردی میں پاکستان باقی کیسے رہے گا،ایک ایسی صورتحال میں امریکہ سوچ رہا تھا کہ ہم ڈبل گیم کھیل رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 2009 میں بھی میں نے اسی جگہ کھڑے ہو کر کہا تھا کہ افغانستان کا حل فوج کے ذریعے نہیں ہوسکتا،امریکہ کے لوگوں کو اس وقت افغانستان کا پتہ ہی نہیں تھا،اس وقت پاکستان کی سکیورٹی فورسز ، حکومت اور امریکہ اس بات پر متفق ہیں کہ افغانستان کا مسئلہ صرف مذاکرات کے ذریعے حل کیا جاسکتا ہے،ہم اس پر مل کر کام کر رہے ہیں،یہ اتنا آسان نہیں ہے لیکن اگر ہم مل کر کام کریں گے تو امید ہے کہ افغانستان میں امن آجائے گا۔

مزید : قومی