میں واحد رکن اسمبلی تھا جس نے امریکہ کی جنگ میں ساتھ دینے کی مخالفت کی تھی:وزیراعظم عمران خان

میں واحد رکن اسمبلی تھا جس نے امریکہ کی جنگ میں ساتھ دینے کی مخالفت کی ...
میں واحد رکن اسمبلی تھا جس نے امریکہ کی جنگ میں ساتھ دینے کی مخالفت کی تھی:وزیراعظم عمران خان

  



اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہم نے سوویت کے خلاف جہاد لڑا اور امریکہ نے ہمیں مدد فراہم کی،جب افغان جہاد کا خاتمہ ہوا تو امریکہ نے پیک اپ کیا اور چلا گیا اور پاکستان پر پابندیاں عائد کردیں۔ان کا کہنا تھا کہ سوویت یونین کے خلاف جہاد کے بعد پاکستان میں 40 لاکھ افغان مہاجرین اور جہادی گروپ تھے،ہمارے ملک میں ہیروئن کلچر تھا،جس کے بعد نائن الیون ہوا اور پاکستان نے ایک بار پھر امریکہ کا ساتھ دیا،اس وقت میں واحد رکن اسمبلی تھا جس نے امریکہ کی جنگ میں ساتھ دینے کی مخالفت کی تھی اور کہا تھا کہ ہمیں نیوٹرل رہنا چاہیے۔امریکی تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ آف پیس میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب ہم ان جہادی گروپوں کو ہتھیار ڈالنے کا کہا تو وہ پاک فوج کے خلاف ہوگئے،یہ پاکستان کی تاریخ کا بدترین دور تھا کیونکہ جو لوگ افغان جہاد کیلئے پاک فوج نے بنائے تھے وہی ان کے خلاف ہوگئے تھے جس کے باعث ہمارے ملک میں حملے ہوگئے،ایک وقت ایسا بھی آگیا تھا جب آرمی شہروں میں بھی نہیں جاسکتی تھی۔انہوں نے کہا کہ ہم نے کبھی بھی قبائلی علاقے میں آرمی نہیں بھیجی تھی کیونکہ یہ دنیا کا سب سے زیادہ اسلحے والا حصہ ہے،2004 میں امریکہ کے دباو کے تحت پاکستان آرمی پہلی بار قبائلی علاقوں میں القاعدہ کا خاتمہ کرنے گئی،جب بھی آپ آرمی کو سول ایریا میں بھیجتے ہیں تو کولیٹرل ڈیمیج بھی ہوتا ہے ،آرمی کے جانے سے کولیٹرل ڈیمیج ہوا جس نے پاکستانی طالبان کی بنیاد رکھی،جس کی قیمت پاکستان نے چکائی،میرے خیال میں ہمیں نیوٹرل رہنا چاہیے تھالیکن چونکہ ہم امریکہ کی جنگ کا حصہ بن گئے تھے تو اس لیے جہادی ہمارے خلاف ہوگئے تھے۔وزیراعظم نے کہا کہ 2014 میں پاکستانی طالبان نے اے پی ایس کے 150 بچوں کا قتل عام کیا،اس کے بعد ہم نے نیشنل ایکشن پلان بنایا اور یہ معاہدہ کیا کہ ہم کسی طور بھی کسی مسلح تحریک کی اپنے ملک میں اجازت نہیں دیں گےہم پہلی حکومت ہیں جنہوں نے مسلح تنظیموں کے خلاف کارروائی شروع کی ہے اور ان کے اداروں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

مزید : قومی