خواتین تشدد کیس کا نو سال بعد فیصلہ، مجرم کو 2 سال قید،2لاکھ جرمانہ

خواتین تشدد کیس کا نو سال بعد فیصلہ، مجرم کو 2 سال قید،2لاکھ جرمانہ

  



لاہور(نامہ نگار)ضلع کچہری کی ماڈل ٹرائل کورٹ کے جج ظفر فریدہاشمی نے 9 سال پرانے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے خواتین کو تشدد کانشانہ بناتے ہوئے ناک کی ہڈی توڑنے والے مجرم خورشید کو 2 سال قید اور 2 لاکھ روپے جرمانے کی سزا کا حکم سنا دیا جبکہ مقدمہ میں شریک دوسرے ملزم رشید کو بری کر دیا۔ماڈل ٹرائل کورٹ کے جوڈیشل مجسٹریٹ ظفر فرید ہاشمی نے 4 گواہوں کے بیانات قلمبند کر نے کے بعد مذکورہ بالا فیصلہ سنایاہے۔شاہدرہ پولیس نے 2010ء میں عبدالحمید کی درخواست پر ملزمان خورشید اور رشید کے خلاف مقدمہ درج کیاتھا،ایف آئی آر کے مطابق ملزمان نے اپنے خلاف قتل کا مقدمہ درج کروانے کا بدلہ لینے کے لئے گھر میں داخل ہوکرخواتین کو تشدد کا نشانہ بنایا، سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا ملزمان نے چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے نسیم اختر اور پروین اختر کے ناک کی ہڈی توڑ دی تھی جبکہ ملزمان نے مدعی کو بھی ڈنڈے کے وار کر کے زخمی کیا،ملزمان کے وکیل نے کہا کہ ان کے موکل بے گناہ ہیں،عدالت نے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد مذکورہ بالا حکم جاری کردیاہے۔

تشدد کیس

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...