استنبول یونیورسٹی ترکی میں آن لائن کشمیر کانفرنس

استنبول یونیورسٹی ترکی میں آن لائن کشمیر کانفرنس

  

کشمیر ریجنل اینڈ انٹرنیشنل ڈائمینشنز کے موضوع پر عالمی دانشوروں کا اظہارِ خیال

کشمیر ریجنل اینڈ انٹرنیشنل ڈائمینشنز کے موضوع پر استنبول یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے زیر اہتمام دو روزہ انٹرنیشنل کانفرنس کا انعقاد 29،30جون کو عمل میں لایا گیا۔صدارت ریکٹر استنبول یونیورسٹی جناب ڈاکٹر محمود آق تھے۔ اس کانفرنس کے پہلے دن پاکستان سے وفاقی وزیر اطلاعات جناب شبلی فرازچیف گیسٹ تھے۔سردار مسعود خان صاحب پریزیڈنٹ آزاد جموں وکشمیر،ترکی میں پاکستان کی طرف سے سفیر سجاد قاضی ایمبیسیڈر آف پاکستان انقرہ،علی شاہین صاحب ممبر آف پارلیمنٹ ترکی پالیمان فرینڈ شپ،کالم نگار فاروق عادل، کشمیر امریکن کونسل کے چئیرمین غلام نبی فائی کے علاوہ دیگر مقررین نے گفتگو کی۔

ڈاکٹر خلیل طوقار نے ویلکم سپیچ میں تما م مہمانان کا شکریہ ادا کیا۔انھوں نے کشمیر کے مسائل اور لوگوں کے حوالے سے تاریخ کے حوالے دیتے ہوئے بڑی تفصیل سے اپنی گفتگو میں کشمیریوں کے انسانی حقوق کی پامالی کی تصویر کشی کی۔

ریکٹر استنبول یونیورسٹی ڈاکٹر محمود آق نے کانفرنس کے مقاصد بیان کیے اور اسے کشمیر کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا۔

سردار مسعود خان صاحب پریزیڈنٹ آزاد جموں وکشمیر نے کہا کہ ڈاکٹر فرحان مجاہد چک قطرکا خصوصی شکریہ ادا کرتا ہوں جنھوں نے کشمیر کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارم مہیا کیا۔ ڈاکٹر محمود آق کا شکریہ کہ انھوں نے اس کانفرنس کا انعقاد کیا۔ میں رجب طیب اردغان سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے کلیدی کردار ادا کریں۔

جناب ظفر احمد نے کہا کہ کشمیر کے موضوع پر یہ ایک مفید کانفرنس ہے۔ انڈیا کے زیر قبضہ جموں کشمیر کے لوگوں کو قتل وغارت اور اغوا کا سامنا ہے۔ مقامی پولیس، مقامی حکمران اورحکومت اگر خلاف ہو تو شہریوں کی آزادی ختم ہو کر رہ جاتی ہے۔ دہشت پسند ہندو ظلم وستم ڈھا رہے ہیں۔

جناب سلمان خان نے کہا کہ ساؤتھ افریقہ کی سرزمین نیلسن منڈیلا کے حوالے سے جدوجہد کی ایک داستان ہے، جہاں لوگوں نے آزادی کے لیے جنگ کی اور ظلم وستم برداشت کیے۔پیپل ٹو دی پاور کی بات کی۔

مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاؤن کی کوئی منطق نہیں ہے، وہاں جذبات کی آزادی نہیں ہے بات کرنے کی آزادی نہیں ہے۔ ہمیں اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے یونیٹی پیدا کرنی ہوگی۔

پروفیسر ڈاکٹر امتیاز خان نے کہا جموں اور کشمیر میں کشمیریوں کا رہنا مشکل بنا دیا گیا۔ ریپ اور گینگ ریپ کیے گئے۔انڈیا حکومت ان گنت مظالم ڈھا رہی ہے۔ تقسیم ہند کے وقت یہ طے ہوا تھا کہ مسلم اکثریت علاقے پاکستان میں اور ہندو اکثریت والے علاقے بھارت میں شامل ہوں گے۔ اس حوالے سے بھارت کا جموں وکشمیر پر حملہ کرکے اس پر قبضہ کرنا کسی طرح بھی انسانی حقوق کے مطابق نہیں۔

مشہور جرنلسٹ مروے شبنم صاحبہ نے کہا کہ میں نے ترک میڈیاوفد جس کے سربراہ ڈاکٹر خلیل طوقارتھے کے ساتھ آزاد جموں و کشمیر کا دورہ کیا۔ ہندو نیشلسٹ آرگنائزر اور بی جے پی پارٹی اور نریندر مودی جو کہ آئی ایس ایس آر کا ممبر رہا ہے یہ سب ہندوستان کو ہندو سٹیٹ بنانا چاہتے ہیں اور اس حوالے سے مسلمانوں اور خاص طور پر جموں وکشمیر کے مسلمانوں پر زندگی کا دائرہ تنگ کیے ہوئے ہیں۔

ڈاکٹر غلام نبی میر نے آرٹیکل کا ذکر کیا جس کو ختم کرکے انڈیاا ور مودی حکومت نے کشمیر کی حیثیت کو تبدیل کرنے کی کوشش کی ہے اور پورے کشمیر کو یرغمال بنا لیا ہے۔انڈیا نے کشمیر میں ہمیشہ کشمیریوں کے حقوق کی پامالی کی۔ اقوام متحدہ نے اس کا نوٹس بھی لیا۔کیا وجہ ہے جو کشمیریوں کو اپنی رائے دینے کا حق نہیں دیا جاتا کہ انھیں کیا فیصلہ کرنا ہے۔نو جسٹس نو پیس۔ یہی بات کشمیر کے حوالے سے کہی جاسکتی ہے۔

ڈاکٹر فاروق عادل نے کہا جرمن ریسرچر کے میڈیا کنٹیکٹ کے حوالے سے ریسرچ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کا مسئلہ یہ ہے کہ انھیں بھارت حکومت کی طرف سے دہشت گرد قرار دیا جارہا ہے۔ڈاکٹر فاروق عادل نے کشمیر میں انڈیا حکومت کی طرف سے ڈھائے گئے مظالم کے حوالے سے بات کی۔

استنبول یونیورسٹی ترکی میں کشمیرا ور مسئلہ کشمیر کے حوالے سے انسانی حقوق کی بازیابی کو ممکن بنانے کے لیے منعقدہ آن لائن کانفرنس کے دوسرے دن قونصلیٹ جنرل آف پاکستان بلال خان پاشا گیسٹ آف آنر تھے۔

پروفیسر ڈاکٹر ولید رسول نے کہا کہ خاص طور پراپنے لیڈر ڈاکٹر جے این فائی کاشکریہ ادا کرتا ہوں جنھوں نے کشمیریوں کی جدوجہد کا ساتھ دیا ہے۔ میں تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں جناب پریزیڈنٹ آف ترکی جناب رجب طیب اردغان کا جنھوں نے عالمی سطح پرکشمیریوں کی خواہش اور مسائل کویونائیٹڈ نیشن آرگنائزیشن میں پیش کیا۔

ترکی میں قونصلیٹ جنرل آف پاکستان بلال خان پاشانے اپنی گفتگو میں کہا کہ میں استنبول یونیورسٹی کی فیکلٹی کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ اتنے اہم موضوع پر یہ کانفرنس منعقد کی ہے۔ پہلے دن کی پروسیڈنگز بڑی اہم رہیں۔ پروفیسر خلیل طوقار کا بھی بہت بہت شکریہ کہ انھوں نے اس کانفرنس کے انعقاد کے لیے مخلصانہ کوششیں کیں۔

انھوں نے جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بات کی۔کشمیر کے لوگ دباؤ میں ہیں اور ریاستی دہشت گردی کی وجہ سے پریشان حال ہیں روزانہ کی بنیاد پہ غیر قانونی اور غیر انسانی ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے۔لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کی جاتی ہے،معصوم لوگوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ہم ترکی حکومت اور ترکی کے لوگوں کے شکرگزار ہیں کہ وہ اس مشکل وقت میں ہمارے ساتھ کھڑے ہیں۔

ڈاکٹر مبین شاہ پریذیڈنٹ چیمبر آف کامرس جموں اینڈ کشمیر، نے فرمایا کہ ہم کشمیر میں اپنی نسلوں کے حقوق کے لیے فائٹ کر رہے ہیں۔انٹرنیشنل کمیونٹی سے درخواست ہے کہ وہ گراؤنڈ رئیلٹی کو دیکھیں۔تمام کشمیریوں کا ایک سلوگن ہے کہ ا قوام متحدہ اس مسئلے کو کشمیریوں کی خواہش کے مطابق حل کرائے۔

جناب ایمرے آق طونا نے ریجنل اینڈ انٹرنیشنل ڈائمینشنز کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ترکی نے امت مسلمہ کے کئی مسائل کو ہمیشہ اجاگر کیا ہے جن میں کشمیر،فلسطین اور کاشغرکے مسائل اہمیت کے حامل ہیں۔القدس اور کشمیر کے مسائل ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں۔اگر ہم دونوں کے مسائل کا موازنہ کریں تو ایک جیسے حالات نظر آتے ہیں۔او آئی سی نے کشمیر ایشو پر بات کی ہے اور اس حوالے سے کئی میٹنگز ہوچکی ہیں۔ او آئی سی کی ممبر شپ لینے کے لیے انڈیا کی کوششیں دراصل کشمیر ایشو کو دبانا ہے۔

کشمیر کنفلکٹ پر بات کرتے ہوئے جناب سرخالد احمد نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ کشمیر صرف انڈیا اور پاکستان کا ایشو نہیں ہے بلکہ یہ ایشو یونائیٹڈ نیشن کا بھی ہے۔یہ ایک انٹرنیشل ایشو ہے ہمیں اس کو عالمی ایشو کے طور پر ڈسکس کرنا ہے۔ بطور گلوبل سٹیزن ہمیں اس مسئلے کو حل کرانا چاہئے۔ ہیومن رائٹس کی خلاف ورزی کو روکنا چاہئے اور کشمیریوں کو بنیادی انسانی حقوق ملنا چاہئیں۔

اس حوالے سے کانفرنس کے دوران کئی سوالات بھی اٹھائے گئے ا ور ان کے جوابات دیے گئے۔

جناب عاقب علی حیدری نے سوال کیا کہ پوری امت مسلمہ کشمیر کے مسئلے پرایک کیوں نہیں ہے۔ مسلم کمیونٹی اس مسئلے پہ کیوں نہیں سوچتی۔

سر خالد نے جواب دیا کہ مسلم ورلڈ کی موجودہ صورت حال کوئی آئیڈیل صورت حال نہیں ہے ہمیں نوجوانوں کو اس حوالے سے نالج دینا چاہئے تاکہ وہ سب اس بات سے آگاہ ہوسکیں۔

جناب سلمان خان نے کہا کہ یہ ایک یونیورسل مسئلہ ہے۔انڈیا کلیم کرتا ہے کہ مہاراجہ ایک ڈاکومنٹ سائن کر کے دے گیا تھا۔یہ ڈاکومنٹ ویلڈ نہیں ہے کشمیر کا اتنا بڑا رقبہ ایک فیک اوربے وقعت ڈاکومنٹ پہ نہیں بیچا جاسکتا۔

جناب غلام میر نے کہا کہ کشمیر کے حوالے سے انڈیا نے جو غیر قانونی قدم اٹھا یا ہے اس پہ بات ہونی چاہئے انٹرنیشنل لاء کے مطابق انڈیا نے کشمیر پہ غیر قانونی قبضہ کیا ہوا ہے۔ جنیوا کنوینشن کے معاہدوں کی پاسداری سب کا فرض بنتا ہے۔کشمیر ک تنازع (نفلکٹ) دراصل میرے نزدیک ایک انٹرنیشنل تنازع (کنفلکٹ) ہے۔کشمیر انسانی حقوق کا مسئلہ ہے۔

کشمیر ہیومن رائٹس ڈائمنشین پہ بات کرتے ہوئے صفی صاحب نے کہا کشمیر ایشو کوئی نیا ایشو نہیں ہے یہ ایجنڈا سیکوریٹی کونسل کے ایجنڈے پہ ہے۔ کشمیر میں مسلمان اکثریت انڈیا کی ہندو اکثریت کی وجہ سے مظالم کا شکار ہے۔۔مودی نے جو وقت چنا ہے وہ اہم ہے کہ اس وقت اس نے کشمیریوں کو ملٹری کریک ڈاؤن اور لاک ڈاؤن کا شکار کیا ہے کشمیریوں کو باقی دنیا اور انٹرنیشنل رابطے سے کاٹ دیا گیاہے اور کورونا وائرس کے حوالے سے کشمیری لوگ جس طرح مسائل اور دکھ کو برداشت کررہے ہیں وہ قابل غور ہے۔

جناب ولید رسول نے کہا کہ ڈاکٹرائن آف چانکیہ جو تھی اسی کو ہندو توا اور بی جے پی نے روا رکھا ہواہے اور وہاں مسلمانوں کو آئسولیشن کا شکار کیا ہوا ہے۔

جناب جلال سوئیدان نے کہا کہ یہ کانفرنس کشمیر کے مسئلے کے حوالے سے اہمیت کی حامل ہے۔

جناب رضا یاسر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کشمیر مسئلے پہ انڈیا اور پاکستان آمنے سامنے ہیں۔ اور کشمیری اس حوالے سے پریشانیاں برداشت کر رہے ہیں۔ کشمیر ایشو جتنی جلدی حل ہوجائے اتنا ہی بہتر ہے۔اسی طرح اسرائیل اور یہودی لابی نے فلسطینی لوگوں کے لیے زمین کو تنگ کیا ہوا ہے۔

ڈاکٹر خلیل طوقار نے جموں وکشمیر کے مسئلہ پر بات کرتے ہوئے کہ ہندوستان نے کشمیریوں کے لیے مسائل پیدا کردیے ہیں۔ ہندوستان نے عسکری طاقت کو استعمال کرتے ہوئے کشمیریوں پر ظلم وستم ڈھائے۔جموں وکشمیر کے لوگوں کو انسانی حقوق ملنے چاہئیں، ہندتو کے پیروی کرنے والی پی جے پی حکومت نے نہ صرف ہندوؤں میں بلکہ تمام مغربی ممالک میں اسلام فوبیاکو پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور کر بھی رہی ہے جو کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کے دشمن بنے ہوئے ہیں۔

جناب عاطف اوزبے نے کشمیر کے مسائل پر بات کرتے ہوئے کہا کہ جموں اور کشمیر میں انسانی حقوق کو سامنے رکھنا چاہئے اور اس حوالے سے پاکستان میں موجود آزاد کشمیر کے لوگوں کو جس طرح سیاسی سرگرمیوں کی آزادی ہے اسی طرح مقبوضہ کشمیر میں بھی ملنی چاہئے۔

اسماعیل بنددریانے کہا کہ کشمیر کے حوالے سے یہ منعقدہ کانفرنس اہمیت کی حامل ہے جہاں کشمیری متاثر ہورہے ہیں وہاں اس مسئلے سے پاکستان بھی متاثر ہورہا ہے۔ کشمیر افغانستان یا جو بھی علاقہ ہو وہاں امن ہونا چاہئے۔امریکہ کو بھی ہندوستان پر دباؤ ڈالنا چاہئے کہ کشمیر کا مسئلہ حل کیا جائے۔

ڈاکٹر زکائی قارداش نے کشمیر کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے مسلم کانفرنس کا کردار مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اہمیت کاحامل ہے۔ قیام پاکستان کے وقت مہاراجہ کشمیر نے غلط طور پر کشمیر بھارت کے حوالے کیا اور انگریز حکومت نے اس مسئلے کو ادھورا ہی چھوڑ دیا۔ ہندو جواہر لعل نہرو اور شیخ عبداللہ وہ کردار ہیں جنھوں نے کشمیر کے مسلمانوں کے حقوق کا پاس نہیں کیا۔

ڈاکٹر خلیل طوقار نے اس کانفرنس کے انعقاد کے حوالے سے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔کشمیر کی بیٹیاں ہماری اپنی بیٹیاں ہیں کشمیر کی مائیں ہماری اپنی مائیں ہیں۔اور ان کا دکھ درد ہمارا اپنا دکھ دردہے آپ یقین جانیے ہم ترکوں کو ان مسائل کا شعور ہے ا ور یہ آن لائن کانفرنس اسی شعور کا حصہ ہے۔

ڈاکٹر محمدا شرف کمال نے کہا

ایک مدت گزر گئی کشمیری عوام ظلم وجبر کا شکار ہیں۔نام نہاد جمہوریت اور لبرل ازم کی دعویدار ہندوایجنڈا کی حامل حکومت نے مذہبی منافرت میں اپنے ظلم و تشددسے مقبوضہ کشمیریوں کی زندگی کو عذاب بنا دیا ہے۔یہ سب کچھ اچانک نہیں ہوگیا بلکہ ایک منصوبے کے تحت یہ ساری کاروائی کی گئی۔بڑی بڑی طاقتیں بی جے پی کی ظالم حکومت کی پشت پناہی کر رہی ہیں۔میں امن کے عالمی اداروں سے گزارش کرتا ہوں کہ انسانی مساوات اور انسانی حقوق کو سامنے رکھتے ہوئے کشمیر میں دہشت گردی کے خلاف عملی کوششیں کریں۔ اور پاکستان کی کشمیر کازکا ساتھ دیں۔

آج تصویر لہو میں تر ہے

میرا کشمیر لہو میں تر ہے

جناب غلام نبی نے کہا کہ یہ کانفرنس بڑے واضح ہے ا ور اس میں جو ڈیمانڈ کی گئی ہیں وہ بڑی واضح اور جاندار ہیں کہ کشمیر میں تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے اور ہر قسم کی پابندی ختم کی جائے۔ ہندوستان پاکستان کو الزام دیتا ہے کہ کشمیر میں جو کچھ ہورہا ہے اس کا ذمہ دار پاکستان ہے جو کہ سراسر جھوٹ اور الزام پر مبنی ہے۔

جناب بلال خان پاشا قونصلیٹ جنرل نے کہا کہ اس کانفرنس میں کشمیر کے مسئلے کے حوالے سے کئی حل بیان کیے گئے ہیں۔میرا یقین ہے کہ یہ کانفرنس اورا س کی کوششیں کامیاب ہوں گی۔

آخر میں جموں اور کشمیر کے حوالے سے اس کے مختلف حل پیش کیے گئے۔ کہ جموں وکشمیر کے لوگوں کو اپنی سیاسی سرگرمیوں میں آزاد کیا جائے اور وہ اپنی بات آزادی کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کرسکیں۔ ترکی کے صدر جناب رجب طیب اردغان نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ترکی مسئلہ کشمیر کو حل کرانے میں سرگرم کردار ادا کرتا رہے گا۔ انڈیا کی غیر قانونی سرگرمیوں کی مذمت کی جاتی ہے اور کورونا کے حوالے سے کشمیر کے مسلمانوں کے ساتھ ناروا سلوک کی بھی مذمت کی جاتی ہے۔اور ماورائے عدالت کشمیریوں کے قتل کے بارے میں اقوام متحدہ نوٹس لے۔ انڈین آرمڈ فورسز پبلک سیفٹی ایکٹ کی خلاف ورزی نہ کرے اور انڈیا کشمیر سے لاک ڈاؤن کی حالت کو ختم کرے۔

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -