ہونہار طالب، علم نوجوان شاعر: احمد طارق کی انٹرنیٹ پر دھوم

ہونہار طالب، علم نوجوان شاعر: احمد طارق کی انٹرنیٹ پر دھوم

  

لاہور سے تعلق رکھنے والے اٹھارہ سالہ احمد طارق جن کا شمار پاکستان کے ایسے نوجوان شعراء میں ہوتا ہے جنہیں عالمی سطح پر پزیرائی دی جا رہی ہے۔ احمد اب تک کے نوجوان ترین اردو شاعر ہیں جن کی غزلیں دنیا بھر سے اْردو ادب کی عالمی ویبسائٹ"ریختہ" پر شائع کی گئیں۔ مزید برآں احمد کی شاعری پاکستان کے بیشتر رسالوں میں بھی چھپ چکی ہے۔وہ آج کل یونیورسٹی آف سنٹرل پنجاب لاہور میں میڈیا سٹڈیز کے طالب علم بھی ہیں۔

احمد طارق نے پاکستان میں ہونے والے بڑے ادبی میلوں میں پاکستان کے بڑے ادبی ناموں کے ساتھ پرفارم کیا جن میں عالمی شہرت یافتہ پاکستانی شاعر انور مسعود بھی شامل ہیں،اور اپنی شاعری پیش کر کے ڈھیروں داد سمیٹی۔

احمد کے مشاعرے کی ویڈیوز کی انٹرنیٹ پر دھوم ہے جنہیں سوشل میڈیا پر لاکھوں لوگ دیکھ چْکے ہیں۔ نہ صرف پاکستان بلکہ سرحد پار سے بھی احمد کی شاعری اور اْن کے انداز کو بہت پسند کیا جارہا ہے۔

قرنطینہ کے اس دور میں جب کہ سب کْچھ بند ہے اور لوگ گھروں میں محصور ہیں ایسے میں ادبی ذوق رکھنے والے لوگ اور نوجوان احمد کی معیاری شاعری کو بہت پسند کر رہے ہیں اور لطف اندوز ہو رہے ہیں۔

پاکستان کے اس نوجوان شاعر احمد طارق کی ایک غزل آپ بھی دیکھئے:

غزل

لبوں پہ قہقہے، لیکِن گماں میں روتا ہے!

نہ جانے مسخرا کیسی زباں میں روتا ہے

خْدا سے جا کے کہو مشکلات دْور کرے!

کہیں پہ کوئی مؤذن اذاں میں روتا ہے!

جناب آپ تو ایسے چلا رہے ہیں تِیر

کہ جیسے تِیر حصارِ کماں میں روتا ہے!

ہماری داستاں میں دو ہی لوگ ہیں، اِک تْو!

اور ایک شخص جو اس داستاں میں روتا ہے

کوئی تو باعثِ باران و باد ہے احمد!

کوئی تو ہے جو بھرے آسماں میں روتا ہے

مزید :

ایڈیشن 1 -