مذاکرات ناکام ہونے کا خدشہ،چین نے مزید 40ہزار فوجی لداخ پہنچا دیئے

  مذاکرات ناکام ہونے کا خدشہ،چین نے مزید 40ہزار فوجی لداخ پہنچا دیئے

  

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) لداخ میں چین کے ہاتھوں کرنل سمیت بیس بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد دونوں ممالک کے درمیان ہونیوالے مذاکرات کے ناکام ہونے کا خد شہ پیدا ہو گیا، چین نے بھارت کی سرحد کیساتھ 40 ہزار فوجی لائن آف ایکچول کنٹرول (ایل اے سی) پر پہنچا دیئے۔بھارتی خبر رساں ادارے نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ دونوں ممالک ایل اے سی سے فوج ہٹانے پر گفت و شنید کر رہے ہیں، اسی دوران خبریں مل رہی ہے کہ مشرقی لداخ میں چین نے چالیس ہزار سے زائد فوجی ایل اے سی پر پہنچا دیئے ہیں، چین نے دفاعی سسٹم، آرٹلری سمیت دیگر اہم ہتھیار بھی سرحد پر پہنچا دیئے ہیں۔بھارتی خبر رساں ادارے نے ایجنسیوں کے حوالے سے بتایا ہے دونوں ممالک کے در میان کشیدگی میں کمی کے حوالے سے ابھی تک کسی بات پر اتفاق نہیں ہوا چین اپنی فوج پیچھے ہٹانے کا ارادہ نہیں رکھتا اور اس علاقے میں نگرانی والی پوسٹ تعمیر کرنے کیلئے کوشاں ہے بھارتی فوجیوں کے پیچھے ہٹ جانے کے بعد پیپلز لبریشن آرمی بلندی والی پہاڑیوں پر قبضہ کر لے گی۔خبر رساں ادارے کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان آخری بار مذاکر ا ت 14 اور 15 جولائی کو ہوئے تھے جس میں فوجیں پیچھے ہٹانے پر اتفاق نہیں ہو سکا۔خبر رساں ادارے کے مطابق چند روز قبل بھارتی قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول نے اپنے چینی ہم منصب سے ٹیلیفون پر رابطہ کر کے اہم ایشو کو اٹھایا تھا تاہم یہ مذاکرات کامیاب ہوتے نہیں دکھا رہے ہیں اور چین اپنی فتح برقرار رکھے گا۔دوسری طرف خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے چین کے ہاتھوں مرنیوالے کرنل سمیت 20 بھارتی فوجیوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت ہمارا اہم پارٹنر ہے، لد ا خ پر پیپلز لبریشن آرمی کے لڑائی والے اقدام ناقابل قبول ہیں۔دفاعی تجزیہ کار اجے شکلا کا کہنا ہے بھارتی فوج میں اس بات کی تشویش پائی جاتی ہے کہ فوجی انخلا کے معاہدے کا نتیجہ بھارتی علاقہ گنوانے کی صورت میں برآمد ہو گا۔ان کا کہنا تھا کہ چینی فوجی پہلے ہی دو کلو میٹر کے اس علاقے میں بیٹھے ہیں جس کا بھارت روایتی طور پر دعویدار اور وہاں گشت بھی کرتا رہا ہے، اب یہ طے پایا ہے کہ دونوں طرف کے فوجی دو، دو کلومیٹر تک پیچھے ہٹیں گے اور چار کلومیٹر کا بفر زون قائم ہو جائیگا جوکہ مکمل طور پر بھارتی علاقے میں ہے۔سینئر بھارتی فوجی افسروں نے نشاندہی کی کہ بھارتی فوجی تاریخی طور پر پٹرولنگ پوائنٹ 14، 15، 17 اور 17 اے میں پٹرولنگ کرتے رہے ہیں۔ بفر زون کے معاہدے کا مطلب ہے کہ اب یہ علاقے بھارت کی رسائی سے باہر ہوں گے۔ادھر حکومتی ذرائع نے بتایا کہ چین پانگونگ تسو جھیل کے علاقے سے انخلا پر بات کرنے کیلئے تیار نہیں، جہاں اس نے فنگر 4 اور فنگر 8 کے درمیان کے آٹھ کلو میٹر بھارتی علاقے پر قبضہ کر رکھا ہے۔حاضر سروس سینئر جنرل کا کہنا ہے کہ بھارت کو دوہری مشکل کا سامنا ہے، ایک طرف چین پانگونگ تسو میں فوجی موجودگی پر بضد ہے۔دوسری جانب بھارتی علاقوں میں بفر زون قائم کیا جا رہا ہے، خبر رساں ادارے دی ہندو کی رپورٹ کے مطابق بھارتی فوجیں اپنے ہی علاقے سے ڈیڑھ کلومیٹر پیچھے ہٹ گئی ہیں۔خبر رساں ادارے کے مطابق حکام پریشان ہیں کہ اگر کو ئی مستقل حل نہ ڈھونڈا گیا تو یہی حقیقی کنٹرول لائن (ایل اے سی) قرار پائے گی۔ دوسری طرف امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے چین کے ہاتھوں مرنے والے کرنل سمیت 20 بھارتی فوجیوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت ہمارا اہم پارٹنر ہے، لداخ پر پیپلز لبریشن آرمی کے لڑائی والے اقدام ناقابل قبول ہیں۔ وزیر دفاع مارک ایسپر کا کہنا ہے کہ امریکا پورے ایشیا میں اپنی فورسز کو تیار کر رہا ہے اور ان کی از سر نو تعیناتی عمل میں لا رہا ہے تا کہ چین کے ساتھ ممکنہ مقابلے کے لیے تیار ہوا جا سکے۔بھارتی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سیکرٹری سٹیٹ کا کہنا ہے کہ امریکا نے اگلی جی 7 میٹنگ میں بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کو مدعو کیا ہے، بھارت اور امریکا کے درمیان تعلقات نئی نہج پرچل رہے ہیں۔ ہندوستان کیساتھ مذاکرات میں مزید مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔۔دوسری طرف چین کے ساتھ کشیدگی کے درمیان امریکا کے ساتھ بھارتی بحریہ کی فوجی مشقیں شروع ہو گئی ہیں، یہ مشق جزیرہ انڈمان اور نکوبار کے قریب کی گئی جہاں بھارتی بحریہ کا مشرقی بیڑہ پہلے سے ہی تعینات ہے۔بھارتی بحریہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ مشق دراصل پیسیج ایکسرسائز کا ایک حصہ تھی جو وقتا فوقتا ایک بحریہ دوسرے ممالک کی بحریہ کے ساتھ کرتی رہتی ہے۔ترجمان کا کہنا ہے کہ امریکی جنگی جہازوں کا بیڑا یو ایس ایس نیمتز بحر ہند سے گزر رہا تھا اور اس دوران دونوں ممالک کی بحریہ نے مل کر یہ مشق کی۔ ماضی میں بھی بھارتی بحریہ جاپان اور فرانس کی بحریہ کے ساتھ ایسی ہی مشقیں کر چکی ہے۔انڈین بحریہ کا کہنا ہے کہ رواں سال کے آخر میں ان کی بحریہ آسٹریلوی، امریکی اور جاپانی بحریہ کے ساتھ خلیج بنگال میں بھی مشقیں کرے گی۔

چین بھارت کشیدگی

مزید :

صفحہ اول -