عمران خان سے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کی ملاقات،پنجاب میں انتظامی عہدوں اور بعض وزراء کی تبدیلی پر مشاورت،آٹا،گندم مافیا کیخلاف ایکشن کی ہدایت

عمران خان سے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کی ملاقات،پنجاب میں انتظامی عہدوں اور ...

  

اسلام آباد (آن لائن،مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے بدھ کو وزیر اعظم آفس میں وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کی،ملاقات میں صوبے سے متعلق امور،سیاسی صورت حال اور گندم،آٹے کی دستیابی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، ون آن ون ملاقات میں صوبے کے انتظامی امور میں بہتری کے حوالے سے مختلف تجاویز پر بھی بات چیت ہوئی اور اس بارے میں وزیر اعظم عمران خان نے عثمان بزدار کو احکامات بھی جاری کئے خاص طور پر پنجاب میں آٹے اور گندم کی قیمتوں میں استحکام لانے کے حوالے سے ہدایات دیں او کہا کہ کسی طور پر بھی صوبے میں گندم اور آٹے کا بحران پیدا نہیں ہونا چاہیے اور ذخیرہ اندوز مافیا کے خلاف سخت کارروائی کی جائے کیونکہ وافر گندم موجود ہے جو بھی گندم ذخیرہ کریں انہیں کسی صورت نہ چھوڑا جائے۔وزیر اعظم نے کہا کہ انہوں نے مافیاز پر ہاتھ ڈالا ہے اور عوام کی بہتری کے لئے وہ اقدامات اٹھاتے رہیں گے،ملاقات میں صوبے میں بعض انتظامی عہدوں اور بعض وزراء کی تبدیلیوں پر بھی مشاورت ہوئی اور اس حوالے سے آئندہ آنے والے دنوں میں اہم فیصلے متوقع ہیں اس سے قبل پنجاب اسمبلی کے رکن محمد لطیف نذر نے بھی وزیر اعظم سے ملاقات کی اور انہیں اپنے حلقے کے مسائل سے متعلق آگاہ کیا،وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ عوام کو مہنگائی سے نجات دلانا اور شفاف انداز میں منصوبے مکمل کرنا ان کی ترجیح ہے۔کورونا کی وباء کا پھیلاؤ کم ہو رہا ہے اور آئندہ آنے والے دنوں میں معاشی صورت حال بھی بہتر ہو جائے گی جس کے بعد ترقیاتی منصوبوں کے لئے فنڈز کے اجراء کو یقینی بنایا جائیگا۔دریں اثناوزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان بنگلہ دیش کے ساتھ باہمی تعاون،احترام اور برابری کی بنیاد پر دوطرفہ تعلقات کو مضبوط کر نے کا خواہاں ہے،دونوں ملکوں کو پائیدار امن اور خوشحالی کیلئے علاقائی تعاون کو فروغ دینے کی ضرورت ہے،خطے میں سلامتی اور خوشحالی کیلئے مسئلہ کشمیر کا پرامن حل ضروری ہے۔ وزیر اعظم نے ان خیالا ت کا اظہار بدھ کے روز بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد سے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران کیا۔ اس موقع پر وزیر اعظم عمران خان ے بنگلہ دیش میں کورونا وائرس وباء کی وجہ سے انسانی جانوں کے ضیاع پر اظہار تعزیت کیا اور وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے بنگلہ دیشی قیادت کے اقدامات کو سراہا،دونوں رہنماؤں نے کورونا وائرس کے درپیش چیلنجز سے نمٹنے کیلئے اٹھائے گئے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا،وزیر اعظم عمران خان نے انہیں انسانی زندگیوں اور روزگار کو بچانے کے لئے اپنی حکومت کی طرف سے کئے گئے اقدامات سے متعلق آگاہ کیا۔عمران خان نے بنگلہ دیشی وزیر اعظم کو ترقی پذیر ممالک کیلئے قرضہ میں ریلیف دینے کے عالمی اقدام سے متعلق بھی آگاہ کیا،وزیر اعظم نے بنگلہ دیش میں حالیہ سیلاب سے جانی ومالی نقصان پر بھی افسوس کا اظہا ر کیااور اس قدرتی آفت میں متاثر ہونیوالے افراد کی جلد بحالی کیلئے دعا کی۔وزیر اعظم نے یہ بات زور دے کر کہی کہ پاکستان بنگلہ دیش کے ساتھ قریبی تعلقات کو اہمیت دیتا ہے اور معمول کے مطابق دوطرفہ رابطوں اور عوامی سطح پر تبادلوں کی اہمیت کو اجاگر کیا۔سارک کے حوالے سے پاکستان کے عزم کو کو دہراتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ دونوں ملکوں کے مابین پائیدار امن اور خوشحالی کے لئے علاقائی تعاون کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ وزیر اعظم نے بنگلہ دیشی ہم منصب کو مقبوضہ کشمیر کی تشویش صورت حال سے متعلق بھی آگاہ کیا اورخطے کی سلامتی اور خوشحالی کیلئے مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کی اہمیت پر زور دیا۔وزیر اعظم عمران خان نے شیخ حسینہ واجد کو دورہ پاکستان کی دعوت دی اورکہا کہ پاکستان باہمی تعاون،احترام اور برابری کی بنیاد پر بنگلہ دیش کے ساتھ قریبی تعلقات کو مضبوط کرنے کیلئے پرعزم ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ گیس کے شعبے میں گھریلو اور صنعتی شعبے کی ضروریات بڑھ رہی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت گیس کے شعبے سے متعلق اجلاس ہوا جس میں پرویز خٹک، شبلی فراز، فہمیدہ مرزا، اسد عمر، عمرایوب،ندیم بابر،شہباز گل نے شرکت کی۔ اجلاس میں ملک میں گیس کی طلب و رسد، گیس انفراسٹرکچر میں درپیش مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔معاون خصوصی ندیم بابر نے ملکی سطح پر گیس پیداوار،طلب و رسد پر بریفنگ دی۔ اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ گیس کے شعبے میں گھریلو اور صنعتی شعبے کی ضروریات بڑھ رہی ہیں،مقامی طور پر گیس کے محدود ذخائر فوری جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ گیس معاملات کا تعلق کسی ایک صوبے سے نہیں بلکہ پورے ملک سے ہے،گیس معاملات پر باہمی مشاورت سے مستقبل کے لائحہ عمل کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم پاکستان کا مزید کہنا تھا کہ گیس شعبے سے متعلق حقائق مشترکہ مفادات کی کونسل کے سامنے رکھے جائیں،گیس شعبے کے نامور ماہرین سے مشاورت کا عمل شروع کیا جائے۔دریں اثنا وزیر اعظم عمران خان نے صحت کے نظام کی بہتری کے لئے نجی شعبے کی شراکت داری کی حوصلہ افزائی کر نے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بدقسمتی سے ماضی میں صحت کی معیاری سہولتوں کی دستیابی خصوصاً پنجاب کے کم ترقی یافتہ علاقوں میں دستیابی کو نظرانداز کیا جاتا رہا، ماں اور بچے کی صحت سے متعلق صحت کے مراکز پر خصوصی توجہ دی جائے۔ بدھ کو وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت صوبہ پنجاب میں صحت کے شعبے کی اپ گریڈیشن کے حوالے سے اجلاس ہوا جس میں وزیر اطلاعات سنیٹر سید شبلی فراز، وزیرِ منصوبہ بندی اسد عمر، مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، وزیرِ اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار، وزیرِ خزانہ پنجاب مخدوم ہاشم جوان بخت، صوبائی وزیرِ صحت ڈاکٹر یاسمین راشد، وزیرِ اعظم کے معاون خصوصی لیفٹنٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ، ڈاکٹر شہباز گل، چیف سیکرٹری پنجاب و دیگر سینئر افسران شریک ہوئے۔وزیرِ اعظم کو صوبہ پنجاب میں صحت کے شعبے کی بہتری اور اپ گریڈیشن خصوصاً وفاق کی معاونت سے صحت کے مختلف منصوبوں پر عمل درآمد اور ان کے عوام الناس کے لئے ثمرات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ صحت کی معیاری سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے گوجرانوالا، لاہور، بہاولنگر، بہاولپور، لیہ، راجن پور، اٹک، میانوالی، چکوال جیسے شہروں میں مختلف ہسپتالوں اور صحت کے جدید مراکز خصوصاً زچہ و بچہ ہسپتالوں اور نرسنگ کالجز کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے جن کی کل لاگت اسی سے نوے ارب روپے ہے۔ رواں سال ان پر تقریباً سترہ ارب روپے خرچ کیے جائیں گے جس کے لئے وفاقی حکومت کا تعاون درکار ہے۔ وزیرِ اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے ماضی میں صحت کی معیاری سہولتوں کی دستیابی خصوصاً پنجاب کے کم ترقی یافتہ علاقوں میں دستیابی کو نظرانداز کیا جاتا رہا۔ انہوں نے کہا کہ ماں اور بچے کی صحت سے متعلق صحت کے مراکز پر خصوصی توجہ دی جائے کیونکہ اس شعبے میں سہولیات ناکافی ہیں۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ صوبے میں معیاری صحت کی سہولیات اور ہسپتالوں کی تعمیرکے ساتھ ساتھ موجود ہسپتالوں کے بہتر انتظام اور ان میں سہولیات کی فراہمی پر خصوصی توجہ دی جائے۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ ہسپتالوں اور خصوصاً قائم کیے جانے والے نئے مراکز صحت کے انتظام کو جدید بنیادوں پر اور منظم طریقے سے چلانے پر خصوصی توجہ دی جائے

عمران خان

مزید :

صفحہ اول -