مطیع اللہ جان کی ”بازیابی“

مطیع اللہ جان کی ”بازیابی“

  

پاکستان کے سیاسی اور صحافتی حلقوں میں اس خبر پر شدید مسرت اور اطمینان کا اظہار کیا گیا ہے کہ اسلام آباد میں مقیم سینئر اور معروف اخبار نویس (یا میڈیا پرسن) مطیع اللہ جان بخیرو خوبی گھر واپس پہنچ گئے ہیں۔انہیں وفاقی دارالحکومت کے تھانہ، آبپارہ کے علاقے جی سکس ون تھری میں واقع ایک سرکاری گرلز سکول کے سامنے سے اغوا کیا گیا تھا،جہاں وہ اپنی اہلیہ کو چھوڑنے کے لیے گئے تھے کہ وہ وہاں تدریس کا فریضہ سرانجام دیتی ہیں۔ان کی گاڑی اس سکول کے باہر کھڑی تھی، جبکہ ان کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہو رہا تھا۔سکول کی عمارت پر نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج سے پتہ چلا کہ تین گاڑیوں میں سوار نصف درجن سے زیادہ افراد نے انہیں زبردستی ایک گاڑی میں دھکیل دیا۔اس دوران انہوں نے اپنا موبائل فون سکول کے اندر اچھالا، جسے ایک باوردی مسلح شخص نے سکول کے اندر موجود افراد سے حاصل کر لیا۔یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پاکستان ہی نہیں، دُنیا بھرمیں پھیل گئی۔ سیاسی جماعتوں،صحافتی اور انسانی حقوق کی تنظیموں اور سوشل میڈیا صارفین کی طرف سے احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ مطیع اللہ جان کے بھائی نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں حبس بے جا کی رٹ دائر کر دی، جس پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے انتظامیہ کو ان کی فوری بازیابی کا حکم یہ کہہ کر دیا کہ اگر ایسا نہ کیا جا سکا تو پھر بدھ کو کمشنر اسلام آباد اور انسپکٹر جنرل اسلام آباد پولیس شخصی طور پر عدالت کے سامنے پیش ہوں گے۔ راولپنڈی یونین آف جرنلسٹس نے بارہ گھنٹے کی ڈیڈ لائن دے دی کہ اگر لاپتہ اخبار نویس کا سراغ نہ لگایا گیا تو پھر احتجاجی تحریک کا آغاز کر دیا جائے گا۔اپوزیشن رہنماؤں کے ساتھ ساتھ برسر اقتدار جماعت کے رہنما بھی آواز بلند کرنے پر مجبور ہو گئے۔ وزیر اطلاعات شبلی فراز کو اپنی پریس کانفرنس میں صحافیوں کی مداخلت (بلکہ مزاحمت) پر یہ کہنا پڑا کہ مغوی صحافی کا جلد سے جلد پتہ چلانا حکومت کا فرض ہے، اور وہ اسے ادا کرے گی۔ وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے بھی اس خبر کو پریشان کن اور افسوسناک قرار دیا۔ انسانی حقوق کی وزیر ڈاکٹر شیریں مزاری بھی میدان میں اتریں اور بتایا کہ آئی جی اسلام آباد سے بات چیت ہو گئی ہے،وہ اس معاملے کو دیکھ رہے ہیں، پولیس ان کی تلاش میں ہے۔وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے داخلہ و احتساب شہزاد اکبر نے بھی اعلان کیا کہ وزیراعظم نے انہیں مغوی اخبار نویس کو بازیاب کرانے کی ہدایت دی ہے اور اس معاملے کی ایف آئی آر کا اندراج ہو گیا ہے۔

مطیع اللہ جان کو قاضی فائز عیسیٰ کیس پر سپریم کورٹ کے فیصلے پر ایک ٹویٹ کے ذریعے تبصرہ کرنے کے الزام میں توہین عدالت کا نوٹس بھی جاری ہو چکا تھا، اور وہ بدھ کو سپریم کورٹ کے سامنے پیش ہونے والے تھے۔ ان کی ٹویٹ مختلف حلقوں میں زیر بحث تھی کہ ان کے ”اغوا“ نے معاملے کو ایک اور ہی رنگ دے دیا۔ مطیع اللہ جان ایک تجربہ کار اور سرد و گرم چشیدہ اخبار نویس ہیں۔پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے اپنی دھاک بٹھا چکے ہیں۔آج کل یو ٹیوب کے ذریعے اپنے خیالات لوگوں تک پہنچاتے یا یہ کہیے کہ دِل کی بھڑاس نکالتے ہیں۔ان کا منفرد لہجہ اپنی پہچان رکھتا ہے۔ان کے سوالات نوکیلے،بلکہ بعض اوقات پتھریلے بھی ہوتے ہیں۔وہ صاحب ِ کردار سمجھے جاتے، اور عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔الفاظ کے چناؤ اور لہجے کی شدت سے اختلاف کرنے والے بھی شخصی طور پر ان کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ بسا اوقات ان کی قلندرانہ ادائیں اپنے نقادوں سے بھی داد وصول کر لیتی ہیں۔ان کے والد ایک فوجی افسر رہے، اور وہ خود بھی فوج میں کمشن حاصل کر گذرے تھے۔ ان کی رائے سے اختلاف کیا جا سکتا ہے،اگر کسی کو ان سے کوئی شکایت ہو تو وہ قانون کے تحت کارروائی کر سکتا ہے کہ اہل ِ صحافت نہ خود کو قانون سے ماورا سمجھتے ہیں،نہ انہیں سمجھا جا سکتا ہے۔آزادیئ اظہار کا حق دستورِ پاکستان کی دفعہ19کے تابع ہے، اس دائرے سے کوئی باہر نکلے تو اس سے باز پرس ہو سکتی ہے،اور قانون کو اس کے خلاف حرکت میں لایا جا سکتا ہے لیکن کسی شخص،گر وہ، جماعت، ادارے یا محکمے کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ قانون کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کسی کو نشانہ بنائے،خود ہی مدعی، اور خود ہی منصف بن جائے۔

جن افراد نے مطیع اللہ جان کو ”اغوا“ کیا،ان کی نشاندہی ہونی چاہئے، اور قانون کا لمبا ہاتھ ان تک پہنچنا چاہئے۔ مطیع اللہ جان نے ایک ٹویٹ کے ذریعے اپنی واپسی کی خبر ان الفاظ میں دی کہ مَیں خیریت سے واپس آ گیا ہوں۔خدا مجھ پر اور میرے اہل ِ خانہ پر مہربان رہا۔مَیں اپنے دوستوں، ملکی و غیر ملکی صحافی تنظیموں، سیاسی جماعتوں، سوشل میڈیا اور سماجی کارکنوں، وکلا تنظیموں اور عدلیہ کا شکر گزار ہوں جن کے فوری ردعمل سے میری واپسی ممکن ہوئی“۔بتایا گیا ہے کہ مطیع اللہ جان کو اغوا کار اسلام آباد سے کچھ ہی فاصلے پر واقع فتح جنگ کے ویرانے میں پھینک گئے جہاں سے مقامی پولیس نے انہیں اپنے حفاظتی حصار میں لے کر ان کے گھر والوں کو اطلاع دی۔ ان کے بھائی موقع پر پہنچے اور اپنے بھائی کو ساتھ لے کر اسلام آباد چلے گئے۔ مطیع اللہ جان کا کہنا ہے کہ ان کی آنکھوں پر پٹّی باندھ کر پہلے انہیں ایک جگہ لے جایا گیا،پھر اغوا کار مختلف جگہوں پر گھماتے رہے، بالآخر فتح جنگ کے قریب کچے کے علاقے میں چھوڑ کر غائب ہو گئے۔

مغوی اخبار نویس کی بازیابی ہر اس شخص کی کامیابی ہے، جو دستور اور قانون کی بالادستی پر یقین رکھتا ہے۔ پاکستانی معاشرے کے مختلف طبقات اور عناصر نے اس معاملے میں جس یک طرفگی اور یکجہتی کا مظاہرہ کیا،اس سے ان طاقتوں کو نئی توانائی ملی ہے،جو پاکستان کو ایک مضبوط جمہوری ملک بنانے کے لیے مصروفِ جہد ہیں۔لیکن یہ بازیابی اس وقت تک ادھوری رہے گی،جب تک اغوا کاروں کو گرفت میں لے کر بے نقاب نہیں کیا جاتا،اور انہیں ان کے کئے کی سزا نہیں ملتی۔قانون ہاتھ میں لینے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔اس کے ساتھ ہی ساتھ یہ بھی پیش نظر رہے کہ اسلام آباد اسلامی جمہوریہ پاکستان کا دارالحکومت ہے،اسے امن وا مان اور قانون کے نفاذ سے مثالی شہر ہونا چاہیے۔اگر وہاں کے باسی بھی اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھنے لگے، تو پھر دوسرے شہروں کا تو خدا ہی حافظ ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -