رویت کا مسئلہ، اتفاق رائے سے حل کریں!

رویت کا مسئلہ، اتفاق رائے سے حل کریں!
رویت کا مسئلہ، اتفاق رائے سے حل کریں!

  

مرکزی رویت ہلال کمیٹی نے اعلان کیا کہ ذوالحج کا چاند نظر نہیں آیا، یکم جمعرات اور عیدالاضحیٰ یکم اگست کو ہو گی، سعودی عرب میں چاند نظر آنے پر عید 31جولائی کو ہونے کا اعلان کیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد حسین چودھری نے رویت ہلال کمیٹی کے فیصلے سے اتفاق نہیں کیا اور کہا ہے کہ سائنس کی رو سے چاند نظر آ گیا ہے جو ان کی وزارتی ویب سائیٹ پر دیکھا جا سکتا ہے۔ فواد چودھری نے تو رویت ہلال کمیٹی کے اجلاس سے کئی روز پہلے کہہ دیا تھا کہ عید 31جولائی کو ہو گی اور یہ ان کی وزارت کی طرف سے بنائے گئے پانچ سالہ ہجری کیلنڈر کی رو سے ہے، تاہم رویت ہلال کمیٹی نے اپنے اجلاس کے بعد کہا کہ چاند نظر آنے کی شرعی شہادت موصول نہیں ہوئی۔ فواد چودھری نے ایک ٹی وی انٹرویو میں دلیل بھی دی اور سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا اگر بادل ہوں گے تو یقینا چاند نظر نہیں آئے گا اور ایسا ہی ہوا،، اپنے کیلنڈر کے حق میں انہوں نے دلیل دی کہ اگر نماز کے اوقات گھڑی کے مطابق ہو سکتے ہیں تو چاند کے لئے سائنس کی مدد ممنوع کیسے ہے۔

چاند کی رویت کا تنازعہ نیا نہیں دیرینہ ہے۔ پہلے یہ علماء کے درمیان ہوتا اور اب سائنس اور رویت کا مقابلہ کرایا جا رہا ہے۔ ہم نے تو اپنی ہوش میں کئی بار اسی لاہور میں دو دو عیدیں دیکھی ہیں جبکہ چاند کی رویت کے حوالے سے شہادت کے لئے اوکاڑہ تک کا سفر بھی کیا ہوا ہے یہ سلسلہ کسی نہ کسی طرح رک گیا۔ پھر رویت ہلال کمیٹی کے ساتھ مفتی پوپلزئی آف پشاور کا اختلاف شروع ہو گیا۔ ان کو ہر مرتبہ چاند ایک روز پہلے نظر آ جاتا تھا، ان کے بقول ان کو رویت کی معقول شہا دتیں مل جاتی ہیں تو اعلان کرتے ہیں، مفتی پوپلزئی کا مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے حوالے سے ایک اعتراض یہ بھی ہے کہ کمیٹی شہادتوں کا انتظار نہیں کرتی۔ خیبرپختونخوا کا بیشتر علاقہ پہاڑی ہے اور دور دراز سے شہادت ملنے میں دیر ہو جاتی ہے اس حوالے سے دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ مفتی پوپلزئی والی کمیٹی کا جو فیصلہ ہوتا ہے سعودی عرب میں بھی رویت اسی روز ہوتی ہے یوں ان کے اور سعودی عرب کے درمیان ہمیشہ اتفاق ہی نظر آیا، جبکہ رویت ہلال کمیٹی واضح نشاندہی پر ہی چاند کا اعلان کرتی ہے تو تبھی سعودی عرب سے ایک روز کا فرق ہوتا ہے اور یہ منطقی بھی ہے۔ مفتی پوپلزئی کا تو عیدالفطر اور اب ذوالحج کے چاند پر بھی ذکر سامنے نہیں آیا لیکن فواد چودھری کا پھڈا جوں کا توں ہے حالانکہ رویت ہلال کمیٹی کو محکمہ ماحولیات اور محکمہ موسمیات کی معاونت ہمیشہ حاصل ہوتی ہے اور اب تو وزارت سائنس کا نمائندہ بھی مدعو کر لیا جاتا ہے۔ یوں جدید آلات کے ساتھ دو متعلقہ محکموں کی بھی نمائندگی ہوتی ہے اور وزارت سائنس کا نمائندہ بھی موجود ہوتا ہے۔ اس کے باوجود رویت ہلال کمیٹی اور فواد چودھری کے درمیان اتفاق نہیں ہو پاتا یہ کوئی اچھی علامت نہیں ہے۔ مرکزی رویت ہلال کمیٹی بھی وفاقی حکومت ہی نامزد اور اسی کے مینڈیٹ کے مطابق کام کرتی ہے اور محکمہ سائنس کا تعلق بھی وفاقی حکومت سے ہے۔ اس لئے ان دونوں کے درمیان اتفاق رائے اور مکمل تعاون ہونا چاہیے۔ بدقسمتی سے ملکی سیاست کی طرح یہاں بھی ایسا نہیں ہو رہا، حالانکہ یہ کوئی مشکل کام نہیں، وزارت سائنس بھی محکمہ موسمایت اور ماحولیات کی طرح اپنی رائے پوری دلیل کے ساتھ پیش کر سکتی ہے۔

جہاں تک فواد چودھری کی طرف سے ہجری کیلنڈر بنانے کا سوال ہے تو یہ اچھا اقدام ہے، لیکن ان کو اس کے لئے اپنے سائنسی ماہرین کی رائے کو حتمی قرار دینے کی بجائے ایک مفید تر مشورہ قرار دینا چاہیے۔ ہماری ذاتی رائے اور حاصل کردہ معلومات کے مطابق وزارت سائنس نے جو کیلنڈر مرتب کیا اس میں اوقات سائنسی یا شرعی لحاظ سے مدنظر نہیں رکھے گئے، یہ بالکل عام فہم والی فکری بات ہے کہ سعودی عرب اور پاکستان میں طلوع و غروب چاند کے اوقات میں بھی اتنا ہی فرق ہے جتنا سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان ”وقت“ کا ہے اور یوں اگر معاملہ فہمی سے کام لیا جائے تو یکم کا چاند سعودی عرب میں پاکستان کے وقت کے حوالے سے دو گھنٹے پہلے نظر آئے گا اور جب یہ پاکستان کی نظری حد میں آئے گا تب تک غروب ہو چکا ہو گا یوں قدرتی طور پر یہ فرق موجود ہے، اب اگر ہجری مہینے کا آغاز اسی حوالے سے کرنا ہے تو پھر ہر ماہ کی یکم سعودی ہجری کیلنڈر کے مطابق ہوگی اور اگر ایسا نہیں تو پھر یہ ایک روزہ فرق ہمیشہ رہے گا، اس لئے اسے اس طرح متنازعہ بنانا درست نہیں، اس لئے اس مسئلہ کو عام بحث بنانے سے گریز ہی بہتر ہے۔ اگر کیلنڈر بنا کر ہی چلنا ہے تو بھی وسیع تر اتفاق رائے ضروری ہے، اس کے لئے کلیدی کردار اسلامی نظریئے کی کونسل ادا کر سکتی ہے جس سے استفسار کے لئے معاملہ بھیجا گیا ہوا ہے، اس کونسل کو آگے بڑھ کر رویت ہلال کمیٹی والی نمائندگی کے حساب سے ایک ایسا ہی اجلاس بلانا چاہیے جس میں ماہرین بھی ہوں اور اس میں اتفاق رائے ہو جائے۔ پھر کوئی تنازعہ نہیں ہوگا۔ آپ پانچ کی بجائے دس سال کے لئے بلکہ سو سال کے لئے بھی کیلنڈر بنوا سکتے ہیں، تاہم اس کے لئے سب کی مرضی شامل ہونا ضروری ہو گا۔

مزید :

رائے -کالم -