پیار نہیں، مار؟

پیار نہیں، مار؟
پیار نہیں، مار؟

  

ہمارے سکول کے ایک استاد محترم تعلیم کے حوالے سے طالب علموں کے لئے تعلیم کے ساتھ تازیانے کو لازم سمجھتے کسی بچے کے بال بڑھے نہیں استاد صاحب انہیں بڑھے ہوئے بالوں سے پکڑ کر ایسے زمین پر دے مارتے جیسے عید پر قصائی قربانی کے جانور کو لٹاتا ہے استاد صاحب بچوں کو بازاروں مارکیٹوں میں جانے سے منع فرماتے ان کا فرمانا تھا جو آج بازار گیا وہ کل بھی جائے گا اس فلسفے کی آج سمجھ آئی ہے کہ بچوں کو بازاروں مارکیٹوں میں جانے کی عادت پڑ جاتی ہے جس سے وہ تعلیمی سلسلوں کو دراز نہیں کر پاتے آج انہی استاد صاحب سے پڑھے طلباء اعلی عہدوں پر فائز ہیں اب ہمارے ایک اور استاد محترم تھے بڑے شریف اور نفیس بڑے خلوص بڑی توجہ سے پڑھاتے لیکن بچوں کو سزا دیتے ہوئے ایسی سختی سے کام نہ لیتے کہ بچے تو بچے ہوتے ہیں ایک روز ان استاد صاحب نے سبق یاد نہ کرنے کی پاداش میں بچوں کو قطار میں کھڑا کر لیا اور چھڑی لانے کے لئے کہا ایک طالب علم چھڑی لینے گیا قطار میں کھڑے طلباء پریشان ہوئے کہ آج تو سزا ملنے والی ہے ایک ہم جماعت نے کہا کہ میں قطار کے پہلے نمبر پر کھڑا ہوتا ہوں جیسے ہی استاد صاحب کی پہلی چھڑی پڑی میں بے ہوش ہو جاؤں گا استاد صاحب پریشان ہوجائیں گے اور ایسے سب سزا سے بچ جائیں گے پھر ایسا ہی ہوا استادصاحب نے پہلے طالب علم کے ہاتھ پر چھڑی لگائی وہ بے ہوش ہوااس کے بے ہوش ہوتے ہی استاد صاحب کے اوسان خطا ہوگئے استاد صاحب کا رنگ اڑ گیا اور حواس جاتے رہے یوں پوری کلاس سزا سے تو بچ گئی لیکن آج اس کلاس کے بچے اعلی عہدوں پر نہیں بلکہ اعلی پھٹوں۔ دکانوں اور مارکیٹوں میں کام کرتے ہیں قارئین کرام اس واقع کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ پچھلے دنوں وزیر اعلی پنجاب کی تبدیلی کی ایسی خبریں سننے کو ملیں کہ یقین ہو چلا عثمان بزدار صاحب اب گئے کہ اب گئے پھر کیا ہوا ہمیشہ کی طرح جناب عمران خان وزیراعظم پاکستان نے ایک مرتبہ پھر حلیم طبع وزیراعلیٰ عثمان بزدار پر اعتماد کا اظہار کر دیا،ان کی تعریف کی، وزیراعظم نے کہا کہ عثمان بزدار ایک ڈائنامک چیف منسٹر ہیں وزیراعظم نے وزیراعلیٰ کو تھپکی دی تو میں نے سوچا ایک تھپکی بچوں کو سلانے کے لئے بھی دی جاتی اور شائد یہ وہی تھپکی تھی عمران خان نے عوامی ریلیف کے لئے حکومت پنجاب کے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا، اس شریف استاد صاحب کی طرح ہیں

جنہیں انکے اپنے ہی وزیر سکول کے بچوں کی طرح ڈرا کر ان سے کام نکلوانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں وزیراعظم صاحب پنجاب میں کرپشن ختم نہ ہونے پر برس پڑے تو مجھے پھر ایک واقع یاد آگیا کمرہ امتحان میں نگران صاحب بڑی زوردار آواز سے کہہ رہے تھے سامنے دیکھیں کوئی نقل کرنے کی جرات نہ کرے ورنہ پیپر لے لیا جائے گا اور ساتھ ہی نگران صاحب ایک سفارش والے بچے کے سر پر آتے جاتے ہاتھ پھیرتے اور اسے نرم نگاہی سے دیکھتے اشاروں سے اپنا کام کئے جانے کی تلقین کرتے اور پھر نہ صرف ایک وہ سفارشی طالب علم بلکہ متعدد بچے ایک دوسرے کو دزدیدہ نگاہی سے دیکھتے اور ایک دوسرے کی آنکھوں میں سوالوں کے جواب تلاش کرتے نہ تو کسی سے پرچہ لیا گیا نہ ہی آخر تک نگران صاحب کی آوازوں کی گونج تھم سکی جیسے ہمارے خان اعظم اکثر اونچی اونچی آواز میں یہ کہتے پائے گئے ہیں کہ میں کسی کرپٹ کو نہیں چھوڑوں گا نہیں چھوڑوں گا پھر ہوا یہ کہ عملی طور پر نہیں چھوڑوں گا ہی رہ گیا اور کرپٹ کا لفظ حذف ہو کررہ گیا معاف کیجئے گاصاحب کرپٹ عناصر تو حکومتی صفوں میں ہاتھ باندھے بڑے احترام سے کھڑے ہیں اور ان کو اور کیا چاہئے کہ انکے سامنے عثمان بزدار صاحب کی طرح کوئی ہونٹوں کو جنبش دینے کی ہمت نہ کرے اور وہ جو چاہے کرتا جائے چاہے کرپشن ہی کیوں نہ ہو عمران خان صاحب نے یہ بھی فرمایا کہ پنجاب میں نچلی سطح پر کرپشن ابھی تک ختم نہیں ہوئی تو اس ضمن میں عرض یہ ہے کہ خان صاحب آپ اپوزیشن کو زچ تو کر سکتے ہیں لیکن نچلی سطح سے کرپشن ختم نہیں کر سکتے کیونکہ کرپشن کے خاتمے کے لئے تو کوئی کوشش ہی نہیں کی گئی اور اعلی سطح کی کرپشن کا تو ذکر ہی کیا وہ تو آپ جان چکے ہیں اس کا خاتمہ بھی آپکے بس کی بات نہیں ہمارے علاقے میں ایک بار ایک ایس ایچ او صاحب تعینات ہوئے انکا وطیرہ یہ تھا کہ علاقے کے نہائت شریف لوگوں کو تھانے بلواتے اور ان سے فرماتے آپکے خلاف ایک درخواست ہے شریف لوگ تو درخواست۔ تھانہ۔اور ایس ایچ او کے نام سے ہی تھر تھر کانپتے ہیں ایس ایچ او صاحب اس طرح شریفوں کی جیبوں سے من چاہی رقم نکلواتے اگر کوئی شریف آدمی ایس ایچ او صاحب سے یہ پوچھنے کی جسارت کرتا کہ جناب وہ درخواست کہاں ہے جو اسکے خلاف آئی ہے تو ایس ایچ او صاحب انہیں تھپڑوں اور حوالات میں بند کرنے کی دھمکیوں سے نوازتے بالآخر اس ایس ایچ او کا تبادلہ ہوا تو علاقہ کے لوگوں نے سکھ کا سانس لیا ہمارے حکمران بھی آج معصوم عوام سے درپردہ ایساسلوک ہی روا رکھے ہوئے ہیں لیکن حکمرانوں کو یہ یاد رکھنا چاہئے ایس ایچ اوز کی طرح حکمران بھی بدلتے رہتے ہیں لہذا اس سے پہلے کہ ان کا تبادلہ بھی ہوجائے انہیں عوامی مسائل کے حل اور عوامی ریلیف کے لئے عملی اقدامات اٹھانے چاہئیں تاکہ عوام عمران خان صاحب کے اقتدار میں سکھ کا سانس لے سکیں

مزید :

رائے -کالم -