اورگیم بدل گئی…………

اورگیم بدل گئی…………
اورگیم بدل گئی…………

  

بھارت جو بدمست ہاتھی کی طرح خطے میں پھنکارے مارتا پھر رہا تھا اور گزشتہ سات دہائیوں سے اس خبط کا شکار تھا کہ اُس کی خارجہ پالیسی بڑی تیزی سے کامیابیوں کاسنگ میل عبور کر رہی ہے یہاں تک کہ بھارت خود ساختہ سپر پاور بننے کا خواب دیکھنے لگا شاید اس کی وجہ یہ تھی کی عالمی طاقتوں کا جھکاؤ بظاہر بھارت کی طرف کچھ ضرورت سے زیادہ ہی نظر آرہا تھا، جس کی سب سے بڑی وجہ اس کی بہت بڑی تجارتی منڈی ہے، جس سے بہت سے ممالک کا مفاد جڑا ہے امریکہ سمیت یورپ بھر کے ممالک یہاں اپنی مصنوعات فروخت کرکے بھاری زرِمبادلہ کما رہے ہیں اسی تجارتی حجم کے باعث چین نے بھی لداخ میں ہونے والے مسائل کو بڑی حکمت اور تدبر سے سلجھایا، مگر بھارت کو محدود پیمانے پر اس کے کئے کی سزا بھی دے دی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاک بھارت تنازعات کا حل کسی طور بھی عالمی طاقتوں کے مفاد میں نہیں ہے اس لئے وہ پاکستان اور بھارت دونوں سے اپنے اپنے مفادات کی حد تک معاہدے کرتے اور تعلقات قائم رکھتے ہیں حقیقتاًاصل ہدف اپنی تجارت کو فروغ دینا اور بہترین زرمبادلہ حاصل کرناہے اسی لئے بہت سے ممالک کشمیر سمیت دیگر تنازعات پر لب کشائی کرنا اپنے مفادات کے لئے خودکشی تصور کرتے ہیں۔

اس تناظر میں عالمی طاقتوں کی آشیر باد کے باعث بھارتی سرکار کا خیال تھا کہ اب وقت آ ن پہنچاہے کہ اس کی تھا نیداری کو خطے میں تسلیم کر نا خطے کے ممالک کی مجبوری ہو گی، اسی خوش فہمی کی وجہ سے بھارت چین پر اپنی دھونس جما کر دنیا کو اپنے حلیف ممالک کی طرف سے اپنی پشت پناہی ثابت کرنا چاہتا تھا، مگر چین کی طرف سے مرمت اور ایران کے کورے جواب نے چونے میں اینٹ کا کام کیا ہے اب گیم نئی دہلی کے ہاتھوں سے نکلتی دکھائی دے رہی ہے، کیونکہ سیاست اور کھیل میں کسی بھی وقت پا نسہ پلٹ سکتا ہے۔ لداخ میں چین کی طرف سے تذلیل کا سلسلہ ابھی ختم نہیں ہوا تھا کہ ایران نے بھی ریلوے لائن بچھانے کے منصوبے سے ہاتھ کھینچ کر بیچ چوراہے ہنڈیا پھوڑ دی اور بھارت کو چاروں شانے چت ہونے پر مجبور کر دیا۔تاریخ اُٹھا کر دیکھ لیجیے آپ کو معلوم ہو گا کہ جس بھی ملک نے اپنے ہمسایہ ممالک کے لئے مشکلات پیدا کرنے کی کوشش کی بالاآخر وہ ملک خود ہی مشکلات سے دو چار ہوگیا اور یہاں تک کہ اس کی سالمیت کو بھی خطرات لاحق ہو گئے اس کی قریب ترین مثال روس کی ہے جس کو اسی طرح کی حرکات کی بنا پر کئی لخت ہونا پڑا اس کے بعد عراق اور جرمنی بھی اسی طرح کے مدوجزر سے گزرے ہیں۔ اب بھارت بھی اسی تاریخ کو دہرا نے نکلا ہے یہ بھارت کی سرشت میں شامل ہے کہ اُس نے کبھی دھوکہ دہی و مکاری نہیں چھوڑی اس نے ہمیشہ ہمسایہ ممالک کو تنگ کرنے کا کوئی موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دیا، جس کی وجہ سے پاکستان و چین سمیت بنگلا دیش، نیپال اور بھوٹان بھی نئی دہلی سرکار سے نالاں نظر آتے ہیں۔

چین جو خطے میں سیاسی تبدیلی کا اصل مؤجب ہے اس نے سی پیک منصوبے کے بعد پاکستان کے ساتھ مل کر دیا میر بھاشا ڈیم کے تعمیری منصوبوں کے علاوہ حال ہی میں ایران کے ساتھ 25 سال پر محیط منصوبوں کے آغاز کا اعلان کیا ہے، جس سے نا صرف چین کو فائدہ ہوگا بلکہ ایران جو اقتصادی پابندیوں کے بوجھ تلے عرصہ دراز سے دبا ہوا ہے اس کو بھی بہت بڑا ریلیف ملنے کا امکان ہے۔ ایران چابہار بندرگاہ سے افغانستان کی سرحد کے قریب ایرانی علاقے زاہدان تک ریلو ئے لائن بھارت کی مدد کے بغیر بچھائے گا جس کا تخمینہ 40 کروڑ ڈالر لگایا گیا ہے، جو 2022ء میں مکمل ہونے کی اُمید ہے ایران نے یہ فیصلہ بھارت کی منصوبے میں عدم دلچسپی کے علاوہ چین کے ساتھ نئی سٹرٹیجک پلاننگ کی وجہ سے کیا۔ اس میں بھارت کی امریکہ نواز پالیسی خاصی حد تک کار فرما رہی کیونکہ بھارت نے امریکہ کی خوشنودی کے لئے اس منصوبے پر چار سال سے کام شروع نہیں کیا، ایران کی بار بار یاد دہانی کے باوجود بھارت ٹس سے مس نہیں ہوا۔ اس میں حیرت کی بات یہ ہے کہ امریکہ نے بھارت پر اس منصوبے کی وجہ سے کوئی پابندی عائد نہیں کی تھی اس کی وجہ بھی سی پیک کو ناکام کرنے کی منصوبہ بندی ہو سکتی ہے، کیونکہ ایران پر پابندیوں کا سلسلہ تو بڑے زور و شور سے ہمیشہ سے جاری رہا ہے تو پھر اس منصوبے کے حوالے سے امریکہ کا چپ سادھ لینا اور اس منصوبے کے لئے نیم رضامندی کا اظہار کسی مفاد کے پیشِ نظر ہی ہو سکتا ہے، مگر بھارت اپنے آقاؤں کی خوشامد کے چکر میں بازی ہار گیا۔

بہر حال مودی سرکار کے لئے تو یہ بہت بڑا دھچکا ہے اس وقت بھارت امریکہ، اسرائیل اور یورپ ایک طرف جبکہ چین، روس، ترکی،ایران اور پاکستان دوسری طرف باہمی تعاون کے منصوبوں پر عمل درآمد میں مصروف ہیں۔اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ ایران ترکی افغانستان اور پاکستان ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کریں تاکہ خطے میں اقتصادی بہتری کے ساتھ ساتھ امن و استحکام بھی پیدا ہو سکے۔ پھر چین اور روس کے علاوہ ازبکستان ترکمانستان اورآذربائیجان بھی شامل ہو سکتے ہیں، جس سے اس خطے کی ترقی کی منازل بہت جلد طے ہو سکتی ہیں۔

بہرکیف سوچ تو دہلی سرکار کی بھی کسی حد تک درست ہے کہ وقت تو آن پہنچا ہے، مگر بھارت کو خواب خرگوش سے جگا کر آئینہ دکھانے کا، حقائق سے پردہ اُٹھانے کا، دھوکہ دہی اور جھوٹ کی سیاہی کو سچ کی روشنی میں بدلنے کا، کشمیری مسلمانوں کے لہو کی قیمت چکانے کا، بھارت میں موجود اقلیتوں کے تحفظ کے لئے آواز بلند کرنے کا اور بھارتی جاسوس و دہشت گردی کے سربراہ کلبوشن یادیو کی حقیقت دنیا کے سامنے آشکار کرنے کا، بلوچستان، خیبر پختونخوا اور کراچی میں دہشت گردی میں بھارتی کردار کو سامنے لانے کا اور مشرقی و مغربی پاکستان کو دولخت کرنے کے محرکات پھر دُنیا پر واضح کرنے کا کہ پاکستان اور ایران دونوں برادر ملک ہیں گوادر اور چابہار دونوں بندرگاہیں ایک ہی اُمت کی میراث ہیں ان کا ایک دوسرے سے کوئی مقابلہ نہیں یہ اُمت کا سرمایہ ہیں۔ ایک دوسرے کی مددگار اور معاون ہیں اگر خدا نے چاہا تو تاقیامت ان دونوں ممالک کا بھائی چارہ اسی طرح قائم رہے گا۔پاکستان و ایران کبھی ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے کا سوچ بھی نہیں سکتے اس کے ساتھ ساتھ افغان امن جلد خطے میں امن و آتشی کا پیغام لے کر اُببھرے گا، جس سے پاکستان کی اہمیت خطے میں مزید بڑھے گی۔ اس میں پاک آرمی کی پیشہ وارانہ قابلیت، حکمت و دانش، صلاحیت اور تیاری کا ڈنکا پوری دُنیا میں مانا جا چکا ہے۔ اس کے صرف ایک ادارے آئی ایس آئی کا ذکر کریں تو یہ دُنیا کی ایجنسیوں میں پہلے نمبر پر ہے اس کی جو وجہ بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں لکھی وہ پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسی کا ستر سال سے پاکستان کو مشکل ترین خطے و محل وقوع میں محفوظ رکھنا ہے۔ بے شک یہ سب اللہ کی مدد و نصرت کے بعد پاک آرمی کی شبانہ روز کی محنت اور کاوشوں کا نتیجہ ہے۔اب بھارت بھی اگر ہوش کے ناخن لے اور ان حقائق کو مان کر خطے میں امن و سلامتی کی طرف قدم بڑھائے اسی میں دونوں ممالک کے مفاد کے ساتھ ساتھ دُنیا کا امن بھی پنہا ں ہے۔

مزید :

رائے -کالم -