پنڈورا باکس

پنڈورا باکس
پنڈورا باکس

  

حکومت پہلے ہی سیلف میڈ بحرانوں میں گھری ہوئی تھی، بجلی کا بحران، آٹے کا بحران اور چینی کا بحران وغیرہ اوپر سے ایک قدرتی بحران کورونا کی شکل میں آ گیا۔ اِس بحران سے حکومت کس طرح نپٹ رہی ہے یہ ایک الگ بحث ہے لیکن خیال تھا پہلے سے موجود تمام بحران شاید اس میگا بحران کے پیچھے چھپ جائیں گے لیکن افسوس ایسا نہیں ہوا وہ بحران بھی خبروں میں ہیں اور اُن کا جواب ابھی حکومت کے ذمے ہے لیکن اس دوران حالات کے دباؤ کے تحت ایک نیا پنڈورا باکس کھل گیا ہے، وہ ہے سیاسی مشیروں کی اہلیت اور ضرورت۔

عمران خان نے کم از کم 15 مشیر اور معاون خصوصی رکھے ہوئے ہیں پچاس کی کابینہ میں گویا 30 فیصد غیرمنتخب مشیر ہیں اور پھر یہ سلسلہ رکتا نظر نہیں آتا۔تقریباً مہینے دو بعد کسی مشیر کا اضافہ ہو جاتا ہے۔ قاسم صاحب تو ابھی چند ہفتے پہلے حکومت میں شامل ہوئے ہیں۔ اقتدار میں آنے سے پہلے عمران خان نے کہا تھا کہ حکومت کرنے کے لئے پندرہ بیس وزیر کافی ہیں لیکن اب کابینہ پچاس سے شاید اوپر چلی گئی ہے پھر ہم یہی سنتے آتے ہیں کہ آئین میں پانچ مشیر رکھنے کی گنجائش موجود ہے لیکن یہاں معاملہ 15 سے آگے بڑھ گیا ہے۔ خیر یہ معاملہ بھی کورٹ میں ہے اس کی آئینی اور قانونی پوزیشن عدالتی فیصلے سے واضح ہو جائے گی لیکن تعداد کے علاوہ بھی بہت سارے سنجیدہ سوالات پیدا ہو گئے ہیں۔

کابینہ میں اتنی بڑی تعداد میں مشیروں کا تقرر کوئی معمولی معاملہ نہیں تاہم عوام نے تو کپتان کو بہت ساری باتوں میں الاؤنس دیا ہوا ہے لیکن اس معاملے کی اہمیت کچھ زیادہ ہو گئی ہے مشیروں کی تعداد، پس منظر اور قومی اہمیت کے فیصلوں میں کردار کا معاملہ بہت نمایاں ہو گیا ہے۔ یہ ساری باتیں خود کابینہ کے منتخب سیاسی ارکان سے ہضم نہیں ہو سکیں اور فواد چوہدری اور غلام سرور جیسے وفاقی وزراء نے پبلک میں ان مشیروں کی کابینہ میں موجودگی پر سنجیدہ سوالات اُٹھائے ہیں اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ یہ معاملہ شاید کابینہ کے اجلاسوں میں بھی یقینا زیربحث آیا ہو گا۔ وزراء کی اس بے چینی اور دباؤ کو محسوس کرتے ہوئے عمران خان نے انہیں کہا کہ وہ اپنے اثاثے پبلک کریں۔ کاش یہ حکم عمران خان مشیروں کی تقرری سے پہلے خود دیتے تو بہت اچھا ہوتا۔ مشیروں اور معاونین نے بڑی مشکل سے اس حکم پر عملدرآمد کیا کئی نے تو مقررہ ڈیڈ لائن کے بعد اس پر عمل کیا۔ بہرحال اب جو اُن کے اثاثوں کی تفصیل سامنے آئی ہے تو لوگوں کو کافی حیرانی ہوئی ہے اور پھر یہ سوال ابھی باقی ہے کہ یہ ڈیکلریشن کس حد تک صحیح ہیں کیونکہ اس حکومت میں تو کسی نے اُن کے اثاثے چیک نہیں کرنے۔ ظاہر ہے ان کے لئے کوئی جے آئی ٹی نہیں بننی نہ ایسٹ ریکوری یونٹ نے ان کا پتہ کرنا ہے کیونکہ یہ سارے انتظامات تو سیاسی مخالفوں کیلئے کئے جاتے ہیں اپنوں کے لئے تو نہیں۔ پھر اس میں ایک اور دھماکہ یہ ہوا ہے کہ پانچ مشیروں کے پاس دوہری شہریت ہے۔ اب بڑے سنجیدہ سوالات پیدا ہو گئے ہیں پہلی بات یہ کہ کیا اتنے مشیروں کی آئینی اجازت ہے یا نہیں دوسرا یہ کہ اتنے مشیروں کی واقعی ضرورت ہے اگر ایسا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ پی ٹی آئی میں موجود سیاسی قیادت میں اہلیت کا خلاء ہے جو اپنی جگہ ایک افسوس کی بات ہے۔ تیسرا یہ دوہری شہریت رکھنے والا شخص قومی اسمبلی یا سینیٹ کا الیکشن لڑنے کے لئے نااہل ہے تو دوہری شہریت رکھنے والا شخص کس طرح کابینہ کا رکن بن سکتا ہے۔ اگر قانون اس بات کی اجازت دیتا ہے تو پھر یہ قانونی سقم ہے اور اسے دور کرنے کی ضرورت ہے۔اقامہ رکھنے پر نوازشریف کو وزارت عظمیٰ سے اُٹھا کر جیل بھیج دیا جاتا ہے تو دوہری شہریت رکھنا کوئی جرم نہیں۔اب تو یہ سوال بھی اُٹھ گیا ہے کہ ٹاپ بیوروکریسی کے اثاثے بھی پبلک کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ وہ قومی اہمیت کے فیصلوں میں پوری طرح شریک ہوتی ہے۔ ہمارے پڑوسی ملک بھارت میں تو کسی کو دوہری شہریت رکھنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔

حقیقت یہ ہے کہ بیرون ملک پاکستانی کئی لحاظ سے ہمارا اثاثہ ہیں اور بعض شعبوں کے ماہرین کی حکومت کو ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن اُن کی خدمات کے حصول کیلئے کوئی اصول طے ہونا چاہئیں مثلاً وزارتوں میں ٹاسک فورسز کا سربراہ بنایا جا سکتا ہے وہ تھینک ٹینک کی صورت میں ملک و قوم کی خدمات کر سکتے ہیں۔ کابینہ میں اُن کی شمولیت کے بارے میں واضح قانون سازی کرنا ہو گی جو باقی شعبوں پر بھی لاگو ہو۔ اب کئی مشیروں نے اس سلسلے میں اپنی پوزیشن کی وضاحت کی ہے اور بعض نے تو دوہری شہریت سے انکار کیا ہے لیکن یہ معلومات کابینہ ڈویژن نے جاری کی ہیں، ایک معاون خصوصی زلفی بخاری کا رویہ خاصا جارحانہ اور نامعقول ہے انہوں نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ وزیراعظم چاہیں تو ٹرمپ کو بھی ابھی کابینہ میں شامل کر سکتے ہیں حالانکہ شاید وہ واحد مشیر یا معاون خصوصی ہیں جو پیدا ہی برطانیہ میں ہوئے ہیں اور اُن کی تعلیم اور کسی شعبے میں مہارت کا کسی کو معلوم نہیں۔ اب تو لوگ اِن مشیروں کی ظاہر کردہ دولت کی منی ٹریل بھی مانگ رہے ہیں اور یہ بھی جاننا چاہتے ہیں کہ یہ پاکستان میں کتنا انکم ٹیکس دیتے ہیں۔ پی ٹی آئی اپنے سیاسی مخالفوں کی دولت اور بچوں کے باہر ہونے پر بڑے شدید اعتراضات اُٹھاتی رہی ہے لیکن اب عام آدمی کو پتہ چل گیا ہے کہ حکومت کی کتنی اہم شخصیات کی دولت اور بچے باہر ہیں۔

اب ہمیشہ کیلئے یہ فیصلہ ہو جانا چاہئے کہ دوہری شہریت خواہ وہ مشیروں یا وزیروں کی ہو یا سیاسی قیادت کی یا سرکاری افسروں کی قانون اس کو کس نظر سے دیکھے گا۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہم امپورٹڈ قیادت کے تجربے کئی دفعہ کر چکے ہیں اور بعد میں پچھتاتے ہیں لیکن آنے والی حکومت پھر وہی تجربہ دہراتی ہے کیا قوم معین قریشی، شوکت عزیز، محمد شعیب جیسے لوگوں کو بھول گئی ہے۔ کیا بعد میں کسی نے اُن کی شکل دیکھی ہے اب مشیر خزانہ تیسری دفعہ ایسی پوسٹ پر موجود ہیں کیا یہ 22 کروڑ عوام کی توہین نہیں کہ ایک بھی ایسا شخص دستیاب نہیں جو ملک کی معیشت کا قلمدان سنبھال سکے پھر اِس وقت کرپشن کے خلاف زبردست مہم چل رہی ہے تو ایسے میں حکومت میں شامل ہونے والے لوگوں کا ہر لحاظ سے شفاف ہونا ضروری نہیں؟

دوہری شہریت کا معاملہ نیا نہیں یہ معاملہ ایک دفعہ پہلے بڑے زور شور سے اُٹھ چکا ہے جب ہمارے کلاس فیلو اختر بلند رانا کو آڈیٹر جنرل بنایا جا رہا تھا۔ اُس وقت مختلف لابیوں نے اُن کی دوہری شہریت کا معاملہ بہت اُچھالا تھا۔ کئی ٹی وی چینلز نے اس معاملے پر پورے پروگرام کئے تھے لیکن چونکہ قانون میں اس کی ممانعت نہیں تھی اس لئے وہ آڈیٹر جنرل بن گئے۔ میرا خیال تھا اب اس معاملے پر آئندہ کیلئے کوئی قانون سازی ہو جائے گی لیکن اے بسا آرزو کہ خاک شدہ۔ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ اس معاملے میں مصلحتوں کا شکار رہیں اب بال عمران خان کی کورٹ میں ہے انہیں اس مسئلے پر واضح اور جرأتمندانہ فیصلہ کرنا ہو گا صرف اثاثوں کو پبلک کرنا کافی نہیں ہو گا۔اگر وہ بھی ماضی کی حکومتوں کی طرح مصلحتوں کا شکار ہو گئے تو ہمیشہ کیلئے ہائی مورل گراؤنڈ لوز کر جائیں گے۔

مزید :

رائے -کالم -