جناب ہاشمی پھر منظر عام پہ

جناب ہاشمی پھر منظر عام پہ
 جناب ہاشمی پھر منظر عام پہ

  

اسلام علیکم پارے پارے دوستوں سنائیں کیسے ہیں امید ہے کہ اچھے ہی ہونگے جی دوستو سہ پہر چار بجے سوشل میڈیا کا نظارہ کیا تو معلوم ہوا کہ جناب جاوید ہاشمی پھر سے منظر عام پہ نظر آئے جناب ہاشمی جو کہ باغی کے لقب سے مشہور ہیں اپنے جوشیلے ااور دبنگ انداز سے سوشل میڈیا پہ گفتگو کرتے نظر آئے اور شائد غالبا صحافیوں کے ساتھ نشست. جی ہاں جناب ہاشمی جو کہ منجھے ہوئے سیاسی میدان کے کھلاڑی ہیں جنھوں نے حکومت بھی کی اور اپوزیشن بھی جم کے کی جی ہاں جناب ہاشمی نے بھٹو کے دور میں بھی اپوزیشن کی.ضیاء الحق اور نواز شریف کے ہمنوا بن کے اقتدار کے مزے لوٹے لیکن اپنے اصولوں پہ سمجھوتا نہیں کیا عمران خان کا ساتھ اسوق چھوڑ دیا جب وہ اقتدار پہ پہنچ گیا اپنی پارٹی سیٹ چھوڑ دی ن لیگ کی سیٹ سے بھی استعفی دیا اور جناب کپتان کی جماعت سے بھی استعفی دیا جی ہاں دوستوں جناب ہاشمی اپنی دبنگ گفتگو میں فرما رہے تھے کہ ہم عدالتوں کا احترام کرتے ہیں انکا صاف لفظوں میں کہنا تھا کہ عمران خان سکیورٹی رسک بن چکا ایسا سلیکٹڈ ہے جس نے کر کٹ میں بھی جواء کھیلا اور میدان سیاست میں بھی جواء گھیل رہا ہے انکا مزید کہنا تھا کہ نواز شریف مجھ سے ناراض رہے کیونکہ وہ لاہور الیکشن لڑنے سے روکتے تھے جبکہ عمران خان اسلام آباد میں انتخاب لڑنے سے منع کرتے تھیلیکن انھوں نے الیکشن لڑا اور جیت کے اپنی سیٹ پارٹی کو واپس کر دی جی ہاں یہ بات بھی ٹھیک ہی تھی کہ انھوں نے جب بھی الیکشن لڑا زیادہ تر جیت انکا مقدر بنی اور یہ بات بھی ٹھیک ہے کہ میاں برادران کی غیر موجودگی میں پارٹی کی صدارت سنبھالی اور ن لیگ کی ڈوبتی کشتی کو سہارا بھی دیا تھا بہر حال ایک دفعہ پھر جناب باغی جوش میں آئے اور حکومت کے خلاف دل کا خوب غبار نکالا جی ہاں دوستوں جناب ہاشمی نے مزید کہا کہ جمہوریت سیاست کا حسن ہو اور جہاں اپوزیشن سمیت تمام جماعتیں اکٹھی ہوں تو وہاں جمہوریت مر جاتی ہے جی ہاں ایک دوسرے پہ تنقید کرنا سیاسی جماعتوں کا حق ہے جی دوستوں جناب ہاشمی نے پاک فوج کے سپہ سالار اور جوانوں کو بھی خراج تحسین پیش کیا اور تو اور نیب پہ بھی کھل کے تنقید کی بہر حال کہا تو بہت کچھ جناب ہاشمی نے بہر حال دوستوں اب جب سے خواجہ برادران کو ریلیف ملا تب سے ہی سب سیاسی و غیر سیاسی ماہرین حرکت میں آ چکے ہیں لیکن اب دیکھنا ہیکہ اپوزیشن جماعتیں پھر سے متحد ہو رہی ہیں اور اگر اپوزیشن جماعتیں متحد ہو گئیں تو پھر شائد حکومت کسی بڑے خطرے سے دو چار ہو سکتی ہے جس کے بچاؤ کے لئے حکومت کو ابھی سے کچھ نہ کچھ حکمت عملی اختیار کرنی پڑے گی کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے تو بہر حال دوستوں یہ بات بھی سچ ہے کہ ایک دفعہ پھر سیاسی میدان میں گویا ہلچل سی مچ چکی جی ہاں معزز عدالت کے حالیہ فیصلے نے ن لیگ کی ڈوبتی کشتی کو امید کی کرن دے دی جی ہاں خواجہ برادران کے حق میں معزز عدالت نے نیب ک خلاف فیصلہ دے دیا جی ہاں معزز عدالت نے خواجہ برادران کیخلاف نیب کیس کو انسانی تزلیل کی بدترین مثال قرار دیا اور نیب کے خلاف عدالتی فیصلے سے ن لیگ کے رہنماؤں میں خوشی کی لہر دوڑ پڑی اور ن لیگی رہنماؤں نے عدالتی فیصلے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے نیب کو ختم کرنے کا مطالبہ بھی کر دیا لیگی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے نیب کی حقیقت بے نقاب کر دی سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ نیب حکومتی ارکان کی کرپشن نہیں دیکھتا جبکہ احسن اقبال کا بھی یہی کہنا تھا کہ خواجہ برادران کو حبس بے جا میں رکھا گیا جی ہاں دوستوں خواجہ برادران پہ لگائے گئے نیب الزامات من گھڑت ثابت ہوئے جی ہاں دوستوں بتلاتے چلیں کے نیب کے بنائے گئے کیسز میں میاں شہباز شریف سابق وزیر اعلی پنجاب کو بھی ملزم قرار دیا گیا ہے اور گزشتہ دنوں نیب میں میاں شہباز شریف پیش بھی ہوئے پھر معزز عدالت سے شہباز شریف نے ضمانت بھی حاصل کی جبکہ شاہد خاقان عباسی جو کہ سابق وزیراعظم رہے سمیت متعدد لیگی رہنماؤں پہ نیب نے کیسز بنائے اور لیگی رہنما تو پہلے ہی نیب پہ سوالات اٹھا رہے تھے اور برملا کہہ رہے تھے نیب جو ہے وہ محض اور محض انتقامی کاروائی پہ زور دے رہا ہے اور معزز عدالت کے حالیہ فیصلے سے نیب کی کارکردگی یقینا سوالیہ نشان بن گئی جی ہاں اب ہر کوئی نیب بارے سوچنے پہ مجبور ہو گیا ہے بہر حال اب یہ بات بھی وقت ہی بتائیگا کہ میدان سیاست میں کیا اتار چڑھاؤ آئیگا اور معزز عدالت کے فیصلے بعد نیب اپنی ساکھ اور حیثیت کیسے بچا پائے گا یہ بات بھی آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ نیب کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے تو بہر حال اجازت چاہتے ہیں آپ سے ملتے ہیں لیکن جلد آپ سے دوستوں تو چلتے چلتے اللہ نگھبان رب راکھا

مزید :

رائے -کالم -