پنجاب اسمبلی،تحفظ بنیاد اسلام سمیت چار مسودات قوانین منظور،اپوزیشن کا احتجاج بائیکاٹ

پنجاب اسمبلی،تحفظ بنیاد اسلام سمیت چار مسودات قوانین منظور،اپوزیشن کا ...

  

لاہور(نمائندہ خصوصی) پنجاب اسمبلی نے تحفظ بنیاد اسلام سمیت چار مسودات قوانین کی منظوری دیدی، اپوزیشن نے احتجاج اور ایوان کی کارروائی کا بائیکاٹ کرتے ہوئے موقف اپنایا کہ تین مسودات قوانین کی منظوری کیلئے اسمبلی رولز کو بلڈوز کیا گیا،آئینی قانونی ماہرین سے مشاورت کر کے اس معاملے کو عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔ پنجاب اسمبلی کا اجلاس کا گزشتہ روز بھی مقررہ وقت کی بجائے ایک گھنٹہ 55 منٹ کی تاخیر سے سپیکر چوہدری پرویز الٰہی کی صدارت میں شروع ہوا۔راجہ بشارت نے ایوان کوبتایا کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت ہر قسم کی مذہبی تقاریر کو فیلڈ سکیورٹی سٹاف مانیٹر کرتی ہے،کسی بھی قسم کی نفرت انگیز تقاریر کرنے والوں کے ساتھ زیرو ٹالرنس پالیسی رکھی جاتی ہے۔ سپیکر چوہدری پرویز الٰہی نے احساس پروگرام کوغریبوں کی مالی امداد کیلئے کامیاب پروگرام قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کا احساس پروگرام کامیابی سے چل رہا ہے، چوکوں چوراہوں پر مانگنے والی خواتین اور لڑکیوں کے پاس اگر شناختی کارڈز ہیں تو وہ احساس پروگرام سے امداد لے سکتی ہیں۔سرکاری کارروائی کے دوران ایوان نے پنجاب تحفظ بنیاد اسلام بل 2020منظور کر لیا۔اس موقع پر سپیکر چوہدری پرویز الٰہی نے رولنگ دیتے ہوئے کہا کہ تحفظ بنیاد اسلام بل بنانے والی کمیٹی کو مزید ذمہ داری سونپ دی گئی۔ راجہ بشارت کی سربراہی میں کمیٹی بل پر عملدرآمد کو یقینی بنائے گی۔یہ بل دین اسلام کی حفاظت اور سربلندی کیلئے انشا اللہ سنگ میل ثابت ہوگا۔ وفاق اور صوبے اس معاملے میں ہماری تقلید کریں،یہ بل منظور کروا کے پورے پاکستان میں نافذ کیا جائے۔خصوصی طور پر اس بل کے سیکشن نمبر 3شق ایف کو پاکستان پینل کوڈ 1860کی شق نمبر 295سی میں شامل کیا جائے،اس بل کے ذریعے اللہ تعالی سمیت تمام مقدس ہستیوں کی عزت و ناموس، آخری نبی حضرت محمد رسول اللہ ﷺ، تمام انبیائے کرام، تمام آسمانی کتابیں، تمام فرشتے، تمام خلفائے راشدین، تمام امہات المومنین، تمام اہل بیت اطہار، تمام اصحابہ رسول اور اسلام کی بنیادوں کی حفاظت ہو سکے گی۔پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی بل 2020،نا پسندیدہ کوآپریٹو سوسائٹیز (تحلیل)پنجاب ترمیمی بل2020 اور دکوآپریٹو سوسائٹیز ترمیمی بل 2020 اپوزیشن کی عدم موجودگی میں کثرت رائے سے منظور کر لئے گئے۔ جب یہ بل ایوان میں پیش کئے تو اپوزیشن نے ایوان کی کارروائی کا بائیکاٹ کردیا اور ساتھ ہی کورم کی بھی نشاندہی کردی تاہم حکومت نے کورم پورا کر لیا۔ اپوزیشن کی جانب سے ایوان میں شور شرابا کیا گیا اور ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ کر ہوا میں اچھال دی گئیں۔اپوزیشن کا موقف تھا کہ مذکورہ تینوں بلوں کی منظوری کے لئے رولز آف پروسیجر زکو نظر انداز کیا گیا۔ بل ایجنڈے میں لانے سے دو روز پہلے اپوزیشن کو بتایا جاتا ہے تا کہ اگر اپوزیشن اس میں کو ئی ترامیم لانا چاہے تو لے آئے لیکن ایک روز قبل سپیشل کمیٹی نمبر8کی یہ رپورٹ ایوان میں پیش کی گئی رات کے نو بجے ایجنڈے میں شامل کئے گئے۔ اپوزیشن نے کہا کہ ان بلوں کی منظوری کے خلاف آئینی و قانونی ماہرین سے مشاورت کرکے انہیں عدالت میں چیلنج کیا جائے گا،ان بلوں کی منظوری کے لئے رولز کو بلڈوز کیا گیا ہے۔ ایجنڈا مکمل ہونے پر اجلاس آج بروز جمعرات مورخہ23جولائی دوپہر دو بجے تک کے لئے ملتوی کردیا گیا۔

پنجاب اسمبلی

مزید :

صفحہ آخر -