عید الاضحی منائیں احتیاط کے ساتھ!

عید الاضحی منائیں احتیاط کے ساتھ!

  

پاکستان صدقات و خیرات کرنے میں دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے یہاں مخئیر پاکستانی ہر سال اربوں روپے غریب لوگوں کی فلاح و بہبود کے لئے دیتے ہیں اور صدقات و خیرات کا یہ سلسلہ سارا سال جاری رہتا ہے، لیکن عید تہوار کے موقع پر دوسروں کی مدد کرنے کی روایت ہمارے معاشرے کی ایسی خوبصورتی ہے جس سے لاکھوں سفید پوشوں کو اپنا بھرم قائم رکھنے میں مدد ملتی ہے۔ ایسا ہی ایک موقع عید الاضحی کا بھی ہوتا ہے جب ہر پاکستانی عام دنوں سے بڑھ کر دوسروں کی مدد کے لئے تیار ہوتا ہے۔ عید قرباں پر صاحب حیثیت لوگ اللہ کی راہ میں جانور قربان کر کے اس کا گوشت غریب لوگوں میں بانٹتے ہیں اور کھال کسی ضرور ت مند کی مددکے لئے دے دی جاتی ہے۔ اس عید کی آمد کے ساتھ ہی کراچی سے خیبر تک ایک گہما گہمی شروع ہو جاتی ہے۔ کیا بچہ کیا بڑا ہر کوئی جانوروں کی خریداری اور خدمت میں مصروف ہوتا ہے۔

وطن عزیز میں اس سال عیدالاضحی یکم اگست کو منائی جائے گی اور جیسے جیسے عید قریب آ رہی ہے لوگوں میں روایتی جوش وخروش بھی بڑھتا جا رہا ہے، لیکن کرونا وائرس کی وباء کے تناظر میں اس دفعہ صورتحال ذرا مختلف بھی ہے اور اسی وجہ سے اس عید کے موقع پر پہلے سے زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔ اگر عید کے دنوں میں احتیاطی تدابیر پر عمل نہ کیا گیا تو یہ وباء اور بھی زیادہ پھیل سکتی ہے اس لئے ضروری ہے کہ قربانی کے جانور کی خریداری، قربانی کے عمل اور گوشت کی تقسیم کے وقت سماجی فاصلے کو ہر ممکن طو ر پر یقینی بنانے کی کوشش کی جائے۔ اس کے علاوہ اس دفعہ صفائی کا خیال رکھنے کی بھی پہلے سے زیادہ ضرورت ہے کیونکہ ماحولیاتی آلودگی سے وبائی امراض کے پھیلنے کا خدشہ ہوتاہے۔ اسی طرح یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ قربانی کے جانور کی کھالیں کئی کئی گھنٹے گھر کے باہر پڑی رہتی ہیں۔ یہ کھالیں ایک طرف تو دیگر آلائیشوں کی طرح تعفن میں اضافے کا باعث بنتی ہیں دوسری طرف گرمی کے موسم میں دیر تک پڑے رہنے سے کھال خراب ہو کر قابل ِ استعمال یا قابلِ فروخت نہیں رہتی۔ ایک اندازے کے مطابق ہر سال تقریباً 25فیصد کھالیں ضائع ہو جاتی ہیں جس سے کروڑوں روپے کا نقصان ہوتا ہے۔ عید کے موقع پر جہاں صفائی اور سماجی فاصلے کا خاص خیال رکھنا ضروری ہے وہیں قربانی کی کھالوں کا بھی مناسب انتظام کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ اس سلسلے میں ضروری ہے کہ آپ قربانی کے فوراً بعد قربانی کی کھال کو کسی مستند ادارے کو عطیہ کر دیں اور عطیہ کے لئے کسی ایسے ادارے کا انتخاب کریں جہاں ان کھالوں کو سنبھالنے، فروخت کرنے اور اس کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی کو بہترین طریقے سے استعمال کرنے کا باقاعدہ نظام موجود ہو۔ یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے کیوں کہ ہر سال کی طرح اس سال بھی بہت سے ادارے کھالیں اکٹھی کرنے کے لئے انتظامات کریں گے۔ یہ انتظامات شوکت خانم ہسپتال کی جانب سے بھی لاہور، پشاور، کراچی، اسلام آباد، ملتان، فیصل آباد سمیت ملک کے کئی بڑ ے شہروں میں کیے جا رہے ہیں۔ ہسپتال کی جانب سے ان کھالوں کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کینسر میں مبتلامریضوں کے علاج میں خرچ کیا جاتاہے۔

اسی سال کے آغاز میں کرونا وائرس کی وبا کی وجہ سے زندگی کی ہر شعبے میں ایک دم بہت سی تبدیلیاں آئیں تھیں۔ ان میں سے ایک تبدیلی آن لائن سہولیات حاصل کرنے کے رحجان میں تیزی سے اضافہ تھا اور اس رحجان کی ایک جھلک عید قربان کی تیاریوں پر بھی نظر آرہی ہیں۔ اس سال جہاں لوگ روایتی طریقے سے مویشی منڈیوں سے جانوروں کی خریداری کر رہے ہیں وہیں ایک بڑی تعداد ایسے افراد کی بھی ہے جو قربانی کے فریضے کی ادائیگی کے لئے آن لائن خدمات حاصل کر رہے ہیں۔ آن لائن خرید و فروخت ایک آسان طریقہ ہے جس سے آپ اپنا بہت سا قیمتی وقت بچا کر ہر طرح کی سہولیات گھر بیٹھے حاصل کر سکتے ہیں لیکن اس ضمن میں اہم ترین بات قابل اعتماد اور درست ادارے کا انتخاب ہے۔جس طرح دوسری آن لائن چیزیں خریدنے کے لئے اچھی طرح جانچ پڑتال ضروری ہوتی ہے اسی طرح قربانی جیسے اہم فریضے کے لئے بھی اچھے ادارے کا انتخاب کرنا بہت ضروری ہے۔ اگرچہ اس وقت بہت سارے ادارے اس حوالے سے سہولیات فراہم کر رہے ہیں، لیکن شوکت خانم ہسپتال کی آن لائن قربانی سروس پر اندرون و بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے بہت اعتماد کیا جا رہا ہے۔ یہ قربانی کا ایک مکمل پیکج ہے جس میں آپ کو صرف پیسے دینے ہوتے ہیں باقی سارا کام شوکت خانم ہسپتال کے زیزِ انتظام اسلامی تعلیمات کے عین مطابق سر انجام دیا جاتا ہے۔ سب سے اچھی بات یہ ہے کہ قربانی کا گوشت انتہائی اچھی پیکنگ میں غریب اور مستحق لوگوں میں تقسیم کیا جاتا ہے جبکہ جانوروں کی کھالوں کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی ہسپتال میں زیرِ علاج مستحق کینسر کے مریضوں کے علاج میں صرف کی جاتی ہے۔ اس میں ایک تو مذہبی فریضے کی احسن طریقے سے ادائیگی ہوجاتی ہے دوسرا بنا کسی دقت کے قربانی کا گوشت ضروتمند خاندانوں تک پہنچ جاتا ہے۔

ایک ایسے وقت میں جب ہر کسی کی خواہش ہے کہ وہ بہترین جانور کی قربانی کر کے اپنے اللہ کے حضور سرخرو ہوجائے۔اس بات کا دھیان بھی ضروری رکھنا ہے کہ سنتِ ابراہیمی کے اس مقدس عمل کی ادئیگی کے دوران ہم احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔ اس وقت کرونا وائرس سے خود اور دوسروں کو محفوظ رکھنا ہماری اخلاقی اور سماجی ذمہ داری ہے۔ ہم نے بحیثیت قوم قربانی کے عمل کے ہر مرحلے کو زیادہ سے زیادہ محفوظ اور دوسروں کے لئے فا ئدہ مند بنانے کی کوشش کرنی ہے تا کہ عید کے بعد نہ صرف کرونا وائرس کے خلاف جاری اس جنگ میں کامیابی کا سفر تیزی سے جاری رہے بلکہ ہزاروں خاندانوں کے لئے باعزت اور محفوظ طریقے سے خوراک کا انتظام بھی ممکن ہو جائے۔

مزید :

رائے -کالم -