پاکستان مین پولیس اور کسٹم سمگلرز کے سہولت کاربنے ہوئے ہیں: سینیٹرمشتاق احمد

پاکستان مین پولیس اور کسٹم سمگلرز کے سہولت کاربنے ہوئے ہیں: سینیٹرمشتاق احمد

  

نوشہرہ (بیورورپورٹ) امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخواہ و سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں پولیس اور کسٹم سمگلروں کے سہولت کار بنے ہوئے ہیں جس سے نہ صرف ملکی صنعت تباہ ہو کر رہ گئی ہے بلکہ ملکی سلامتی بھی داو پر لگی ہوئی ہے اگر کسٹم اور پولیس افسران و اہلکاران اپنی مٹھی گرم کرنے کی بجائے ایمانداری کے ساتھ اپنی ڈیوٹی کرتے تو ایف بی آر کو سالانہ ایک ہزار چھ سو ارب روپے کے خسارے کا سامنا نہ کرنا پڑتا اور نہ ہمارے حکمران آئی ایم ایف کے سامنے ہاتھ پھیلاتے ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز نوشہرہ کسٹم افس میں اخبار نویسوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کیا اس موقع پر جماعت اسلامی ضلع نوشہرہ کے امیر رافت اللہ، دوست محمد، افتخار احمد خان، سمیع الرحمان یوسفی،معروف وکلا ء اعجاز ایڈوکیٹ اور میاں زاکر اللہ ایڈوکیٹ بھی موجود تھے مشتاق احمد خان نے مزید کہا کہ چوکیدار خود ڈاکہ ڈالیں پاکستان میں بھی کچھ ایسی ہی صورتحال بنا ہوئی ہے کیونکہ جن اداروں کی ذمہ داری ہوتی کہ وہ قانون کی رکھوالی کریں بدقسمتی سے وہی ادارے قانون کو ہاتھ میں لیکر سمگلروں اور مافیاز کے ساتھ ملے ہوتے ہیں اور اکثرسمگلروں کے سہولت کار بنے ہوئے ہیں جو کہ ملک میں صنعتی بقا ء کیلئے انتہائی خطر ناک ہے انہوں نے مزید کہا کہ جو کپڑا باہر ممالک سے سمگل کیا جاتا ہے کیا وہ انسانی صحت پر مضر اثرات تو مرتب نہیں کرتا۔سمگلنگ کا یہ کالا دھنددہشت گردی یا دہشتگردوں کیلئے تو استعما ل ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ملکی صورتحال ایسی طرح رہی تو پاکستان کے قومی خزانے کو سالانہ ایک ہزار چھ سو ارب روپے کا خسارہ برداشت کرنا پرے گا اور اتنی ہی رقم آئی ایم ایف نے پاکستان کوقرضے کی مد میں 39ماہ میں دینے ہوتے ہیں اگر ملک کا کسٹم ایمانداری کے ساتھ اپنی ڈیوٹی کریں تو پھر ہمیں آئی ایم ایف کی بجائے ایف بی آر کی طرف دیکھنا پڑے گا اور پاکستان ایک خود کفیل ملک ہوگا انہوں نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی خیبر پختونخواہ مافیاز سمیت تمام سماجی برائیوں کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ رفاہ عامہ کیلئے ہمارے ایک ساتھی 8لاکھ روپے کا پاکستانی کپڑا لا رہا تھا کہ ان کو ہراساں کیا گیا نوشہرہ کی دوکانوں اور گوداموں میں غیر ملکی کپڑے کی بھاری کھیپ حلال جبکہ رفاہ عامہ کیلئے انہی دوکانوں نے نکلنے والا کپڑا غیر قانونی ہو کر حرام ہو جاتا ہے ایف بی آر اور کسٹم حکام ان گوداموں کو سیل کر دیں اور بڑی مچھلیوں پر ہاتھ ڈالیں عوام کے لئے تکلیف پیدا کرنا ناقابل برداشت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ قانون سے مکھڑی کا جھالہ نہ بنا یا جائے جس میں غریب پھنس جائے اور امیر آسانی سے نکل جائیں انہوں نے کہا کہ بھاڑ کھیت کا کھا گیا اور چوکیدار نے ڈاکہ ڈالا پاکستان کی بھی یہی صورتحال حال ہے۔ بعد ازاں انہوں نے نوشہرہ جی ٹی روڈ اور سپلائی موڑ کی خستہ حالی پر کہا کہ نوشہرہ خیبر پختونخواہ کا گیٹ وئے اور پاکستان کا دل ہے۔ مواصلات ترقی کی بنیاد ہے لیکن یہاں سڑکوں کی ناگفتہ بہ حالت کو دیکھ کر ترس آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اربوں روپے سڑکوں کی تعمیر و مرمت پر لگا دئیے گئے ہیں لیکن سڑکوں کی حالت ٹھیک نہیں ہو رہی کیونکہ یہاں پر کرپشن ہے اور اس کرپشن کی تحقیقات ہو نے چاہیے،انہوں نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ نوشہرہ میں اوپر سے نیچے تک پی ٹی آئی کوعوام پر زبردستی مسلط کیا گیا ہے اور یہاں پر سڑکوں کی حالت شرمناک ہے، ہمارے وزیر دفاع پرویز خان خٹک ہیں وہ بھی یہی سے ہیں ہمارے وزیر دفاع تو ہیں لیکن نہ تو ہو کشمیر کے مسئلے پر نظر آتے نہ اس طرح کے قومی مسائل کے حل میں، انہوں نے کہا کہ سڑکوں کی اس حالت کی وجہ سے عوام کو جوتکلیف ہورہی ہے،جو تیل کا خرچہ زیادہ آتا ہے شرمناک اور پی ٹی آئی کی منہ پر طمانچہ ہے انہوں نے کہا کہ میں نوشہرہ کے عوام سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس ظلم کے خلاف ٹھ کھڑے ہوں۔انہوں نے کہا کہ میں ان تمام مظالم اور بدترین کرپشن کے خلاف عید کے بعد بھرپور احتجاج شروع کرنے کا اعلان کرتا ہوں۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -