"بھارت نے کارگل جنگ کے مرکزی کرداروں میں سے ایک اس شخص کی موجودگی میں پاکستان کیساتھ سیریز کھیلنے اوررابط کی بحالی سے انکار کردیا تھا کیونکہ۔۔۔" آئی سی سی کے سابق صدر احسان مانی نے تہلکہ خیز انکشاف کردیا

"بھارت نے کارگل جنگ کے مرکزی کرداروں میں سے ایک اس شخص کی موجودگی میں پاکستان ...

  

کراچی(ویب ڈیسک) پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین احسان مانی نے انکشاف کیا ہے کہ 2003میں بھارتی حکومت نے پی سی بی کے اس وقت چیئرمین جنرل توقیر ضیاءکی موجودگی پر اعتراض کیا تھا جنرل توقیر ضیاءکارگل جنگ کے مرکزی کرداروں اور سپہ سالاروں میں سے ایک تھے اس لئے بھارتی حکومت نے پاکستان کے ساتھ سیریز کھیلنے اور پاک بھارت کرکٹ روابط کی بحالی سے انکارکردیا تھا۔

روزنامہ جنگ کی رپورٹ کے مطابق جنرل توقیر ضیاءکارگل کی جنگ کے دوران جی ایچ کیو میں ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کے اہم عہدے پر فائز تھے۔انہوں نے کارگل جنگ کی منصوبہ بندی کی تھی۔دسمبر2003میں جب جنرل توقیر نے ذاتی اپنے عہدے سے استعفی دیا تو بھارتی حکومت پاکستان کے ساتھ سیریز کھیلنے پر رضامند ہوگئی۔ بدھ کوایک غیر ملکی ویب سائٹ کو انٹر ویو میں احسان مانی نے کہا کہ جب میں نے2003میں آئی سی سی کی صدارت سنبھالی تو کوشش کی کہ پاک بھارت کرکٹ روابط بحال ہوجائیں لیکن کارگل جنگ کے دوران پاکستان آرمی کے تھری اسٹار جنرل اور ڈی جی ایم او کی موجودگی میں بھارتی حکومت نے پاکستان کے ساتھ سیریزکھیلنے سے انکار کردیا تھا۔

جب میں نے یہ بات جنرل توقیر ضیاءکو بتائی تو انہوں نے پیشکش کی کہ اگر بھارتی کو مجھ پر تحفظات ہیں تو میں عہدہ چھوڑنے کو تیار ہوں۔اس واقعے کے کئی ماہ بعد جنرل توقیر ضیاءنے ذاتی وجوہ کی بناءپر عہدے سے استعفی دیا پھر میں نے ایک اور کوشش کی اس بار میں آئی سی سی کے صدر کی حیثیت سے راج سنگھ ڈونگر پور کے ساتھ بھارتی حکومت کے پاس گیا تو اس بار بھارتی حکومت اپنی کرکٹ ٹیم پاکستان بھیجنے پر رضامند ہوگئی۔

مزید :

کھیل -