کوتاہی چھوٹی یا بڑی،حکومت کی طرف سے نہیں ہونی چاہئے ،جسٹس عامر فاروق کے چینی انکوائری کمیشن کیخلاف انٹراکورٹ ایپل پر ریمارکس

کوتاہی چھوٹی یا بڑی،حکومت کی طرف سے نہیں ہونی چاہئے ،جسٹس عامر فاروق کے چینی ...
کوتاہی چھوٹی یا بڑی،حکومت کی طرف سے نہیں ہونی چاہئے ،جسٹس عامر فاروق کے چینی انکوائری کمیشن کیخلاف انٹراکورٹ ایپل پر ریمارکس

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)چینی انکوائری کمیشن کیخلاف انٹراکورٹ اپیل پر سماعت کے دوران جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ کوتاہی چھوٹی یا بڑی،حکومت کی طرف سے نہیں ہونی چاہئے ،ان کوتاہیوں کی وجہ سے حکومت کااچھاتاثر نہیں جاتا۔

نجی ٹی وی کے مطابق اسلام آبادہائیکورٹ میں چینی انکوائری کمیشن کیخلاف انٹراکورٹ اپیل پر سماعت ہوئی،جسٹس عامرفاروق اورجسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے شوگرملز مالکان کی اپیل پر سماعت کی،اسلام آباد اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے سپریم کورٹ کے فیصلوں کے حوالہ جات پیش کیے۔

اٹارنی جنرل نے کہاکہ عدالت نے پوچھا تھا کہ انکوائری کمیشن کی تشکیل کابینہ ڈویژن کے بجائے داخلہ نے کیوں کی؟ ،انکوائری کمیشن کا نوٹیفکیشن صرف آگاہی کیلئے تھا کہ چینی سکینڈل کی تحقیقات ہونگی، نوٹیفکیشن جاری یا چھپنے میں کوئی کوتاہی رہی ہوتواسکا اثرانکوائری کمیشن پرنہیں ہوگا، اٹارنی جنرل نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ انکوائری کمیشن کی تشکیل کانوٹیفکیشن کابینہ ڈویژن کو جاری کرناچاہئے تھا،نوٹیفکیشن وزارت داخلہ کی جانب سے جاری ہونا بے ضابطگی ہے ،اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے کہاکہ عدالت نوٹیفکیشن بے ضابطگی کی بنیاد پر ہونے کو معاف کر سکتی ہے یہ کوئی غیرقانونی فیصلہ نہیں تھا جس کو کالعدم قراردینے کی ضرورت ہو۔

عدالت نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا نوٹیفکیشن پر دستخط کب ہوئے ؟،اٹارنی جنرل نے جواب دیتے ہوئے کہاکہ 16 مارچ کو ہی نوٹیفکیشن پر دستخط ہوئے ،دستخط کے بغیر نوٹیفکیشن ہوتا ہی نہیں ،2 جولائی کو سپریم کورٹ میں نوٹیفکیشن گزٹ میں شائع نہ ہونے کامعاملہ سامنے آیا،سپریم کورٹ سے واپس آکر نوٹیفکیشن گزٹ میں شائع کرنے کاکہااور6 جولائی کوہوا۔

جسٹس عامر فاروق نے کہاکہ کوتاہی چھوٹی یا بڑی،حکومت کی طرف سے نہیں ہونی چاہئے ،ان کوتاہیوں کی وجہ سے حکومت کااچھاتاثر نہیں جاتا،اٹارنی جنرل نے کہاکہ اب تمام نوٹیفکیشن بروقت گزٹ میں شائع ہو رہے ہیں،این ایف سی والا نوٹیفکیشن کل عدالت کے سامنے پیش کیاآج گزٹ میں شائع ہو چکا ہے ۔

اٹارنی جنرل نے کہاکہ انکوائری کمیشن سے کسی شوگرمل کے بنیادی حقوق متاثر نہیں ہوئے،انکوائری کمیشن نے شوگرملز کے نمایندوں کو بلاکر رائے لی تھی، یہ اعتراض درست نہیں کہ انکوائری کمیشن کی کارروائی متعصبانہ تھی، وزیراعظم نے بارہا کہا تھا ہم اس معاملے کی گہرائی میں جائیں گے۔

عدالت نے 28 جولائی کو ملز مالکان کے وکلا اور وفاقی حکومت کے وکیل سے دلائل طلب کرلیے،ستار پیرزادہ ایڈووکیٹ نے کہاکہ ملز مالکان کی درخواست پر سینئروکیل مخدوم علی خان دلائل دیں گے۔

مزید :

قومی -علاقائی -اسلام آباد -