پی آئی اے میں طیاروں کی تعداد 34، 31 کو مرمت کی ضرورت لیکن تین کی حالت کیسی ہے؟ وزیر برائے ہوا بازی غلام سرور خان نے نیا بیان داغ دیا

پی آئی اے میں طیاروں کی تعداد 34، 31 کو مرمت کی ضرورت لیکن تین کی حالت کیسی ہے؟ ...
پی آئی اے میں طیاروں کی تعداد 34، 31 کو مرمت کی ضرورت لیکن تین کی حالت کیسی ہے؟ وزیر برائے ہوا بازی غلام سرور خان نے نیا بیان داغ دیا

  

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وزیر برائے ہوا بازی غلام سرور خان کا کہنا ہے کہ پی آئی اے میں طیاروں کی تعداد 34 ہے جن میں سے قابل مرمت طیاروں کی تعداد 31 اور 3 ناقابل مرمت ہیں۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق وزیر برائے ہوا بازی غلام سرور خان نے قومی ایئر لائن (پی آئی اے) کے جہازوں کی تفصیلات سے متعلق تحریری جواب قومی اسمبلی میں جمع کروا دیا۔

اپنے جواب میں وزیر ہوا بازی نے بتایا کہ پی آئی اے میں طیاروں کی تعداد 34 ہے، اس وقت قابل مرمت طیاروں کی تعداد 31 اور 3 ناقابل مرمت ہیں۔وزیر ہوا بازی کے مطابق بی 777 کی تعداد 12 اور اے 320 طیاروں کی تعداد بھی 12 ہے، اے ٹی آر 72 کی تعداد 5 اور اے ٹی آر 42 کی تعداد 5 ہے۔

ان کے مطابق قابل مرمت طیاروں میں بی 777 کی تعداد 12، اے 320 کی تعداد 12، اے ٹی آر 72 کی تعداد 4، اور اے ٹی آر 42 کی تعداد 3 ہے۔اسی طرح ناقابل مرمت طیاروں میں بی 777 اور اے 320 شامل نہیں جبکہ ایک اے ٹی آر 72 اور 2 اے ٹی آر 42 ناقابل مرمت ہیں۔

خیال رہے کہ کرونا وائرس اور برطانیہ، یورپی یونین اور امریکا کے لیے آپریشن کی بندش سے قومی ایئر لائن کو رواں سال 100 ارب روپے سے زائد کے نقصان کا اندیشہ ہے۔

پی آئی اے کو امریکا میں آپریشن کی بندش کی وجہ سے 5 پروازوں پر 28 کروڑ روپے سے زائد کے نقصان کا سامنا ہے۔یورپی یونین کی جانب سے پابندی کی وجہ سے پی آئی اے کو برطانیہ اور یورپ سے 33 ارب روپے سے زائد ریونیو کے نقصان کا خدشہ ہے جبکہ حج آپریشن نہ ہونے کے باعث بھی قومی ایئر لائن کو 12 ارب روپے کے نقصان کا سامنا ہے۔

مزید :

علاقائی -اسلام آباد -