کیا موجودہ حالات میں قربانی کی رقم صدقہ کی جاسکتی ہے؟ دارالعلوم دیوبند نے فتویٰ جاری کردیا

کیا موجودہ حالات میں قربانی کی رقم صدقہ کی جاسکتی ہے؟ دارالعلوم دیوبند نے ...
کیا موجودہ حالات میں قربانی کی رقم صدقہ کی جاسکتی ہے؟ دارالعلوم دیوبند نے فتویٰ جاری کردیا

  

دیو بند (ڈیلی پاکستان آن لائن) برصغیر کی تاریخی دینی درسگاہ دارالعلوم دیوبند کی جانب سے کہا گیا ہے کہ صاحب نصاب شخص پر قربانی واجب ہے ، صدقہ خیرات قربانی کے عمل کا بدل نہیں ہوسکتے تاہم اگر تمام تر کوشش کے باوجود قربانی نہ کی جاسکے تو زندہ جانور یا اس کی رقم صدقہ کی جاسکتی ہے۔ فتویٰ میں کہا گیا ہے کہ رواں برس صرف واجب قربانی کی جائے اور نفلی قربانی کی رقم غربا و مساکین میں تقسیم کردی جائے ۔

دارالعلوم دیوبند کے دارالافتا کی جانب سے جاری فتویٰ میں کہا گیا ہے کہ صاحب نصاب پر قربانی واجب ہے اور قربانی کا کوئی بدل نہیں ہے یعنی ایام قربانی میں قربانی کرنا ہی ضروری ہے ،قربانی کی جگہ صدقہ و خیرات کرنا یہ قربانی کا نہ بدل ہے اور نہ ہی اس سے قربانی کا فریضہ ساقط ہوتا ہے ہاں اگر قربانی کرنے کی تمام کوششوں کے باوجود ایام قربانی میں قربانی نہیں ہوسکی تو اب اس کی قضا نہیں ہے بلکہ اگر جانور زندہ ہو تو وہی جانور یا پھر جانور کی قیمت صدقہ کر دی جائے۔

دارالعلوم دیوبند کے فتویٰ میں مزید کہا گیا ہے کہ موجودہ حالات میں جب کہ کاروبار وغیرہ بند ہونے کی وجہ سے بہت سے لوگ فقر اور افلاس میں مبتلاہیں اور کھانے اور دانے کو ترس رہے ہیں ایسی صورت میں بہتر ہے کہ صاحب نصاب حضرات واجب قربانی کر لیں اور نفلی قربانی کو اس سال ترک کر کے اس کے پیسے غرباء و مساکین میں تقسیم کر دیں اس میں بھی بہتر ہوگا کہ ایام قربانی سے پہلے یا بعد میں وہ رقم تقسیم کی جائے اس لئے کہ ایام قربانی میں سب سے افضل عمل قربانی کرنا ہی ہے ،نفلی صدقات میں افضل انفع للفقر اء کی رعایت ہے اور اس وقت انفع للفقر اء یہی ہے کہ نفلی قربانی کی جگہ رقم اور دیگر اشیاء صدقہ و خیرات کی جائے۔

قربانی میں اصل حکم یہی ہے کہ فربہ اور قیمتی جانور کی قربانی کی جائے تاہم موجودہ حالات میں اگر مناسب جانور کی قربانی کر دی جائے اور اس سے بچی رقم مدارس یا ضرورت مندوں پر خرچ کر دی جائے تو اس میں شرعی طور پر کوئی قباحت معلوم نہیں ہوتی ہے ،مدارس کا اس صراحت کے ساتھ کہ اگر ہمارے یہاں نظم نہیں ہو سکا تو ہم کسی دوسرے مقامات پر آپ کی قربانی کرا دیں گے اور اگر دوسرے مقامات پر بھی ممکن نہیں ہوا تو قربانی کے ایام کے بعد آپ کی رقم مدرسہ میں لگا دیں گے یہ شرعاً درست ہے ۔اس لئے مؤکل کی اجازت سے وکیل کا کسی دوسرے کو وکیل بنانا جائز ہے اور بلا اذن موکل وکیل کا کسی دوسرے کو وکیل بنانا درست نہیں ہے ،ارباب مدارس جنہوں نے قربانی کے لئے لوگوں سے رقم وصول کی ہے انہیں موکلین کی طرف سے قربانی کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہئے لیکن اگر تمام تر کوششوں کے باوجود ممکن نہ ہو تو پھر اس رقم کو صدقات کے مصرف میں استعمال کر سکتے ہیں ۔

مزید :

بین الاقوامی -روشن کرنیں -