قربانی کی رقم مستحقین میں تقسیم کرنے کا معاملہ۔۔۔ ملک بھر کے علما و مشائخ نے مخیر حضرات سے اب تک کی سب سےشاندار اپیل کردی

قربانی کی رقم مستحقین میں تقسیم کرنے کا معاملہ۔۔۔ ملک بھر کے علما و مشائخ نے ...
قربانی کی رقم مستحقین میں تقسیم کرنے کا معاملہ۔۔۔ ملک بھر کے علما و مشائخ نے مخیر حضرات سے اب تک کی سب سےشاندار اپیل کردی

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)ملک بھرکےعلما و مشائخ نے عوام الناس سے واجب قربانی ادا کرنے اور نفلی قربانی کی رقم مستحقین میں تقسیم کرنے کی اپیل کرتےہوئےکہاہےکہ قربانی ایک عبادت ہے،صاحبِ نصاب کو ایک قربانی ادا کرنی ہےاورنفلی قربانی کی رقم اگر وہ مستحقین میں تقسیم کر دے تو اللہ کریم سے زیادہ اجر پانے والا ہو گا،علما و مشائخ نے اپیل کی ہے کہ کرونا وائرس سے احتیاط کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے معتبر اداروں سے آن لائن جانور خریدیں، اجتماعی قربانی میں حصہ لیں یا پھر جانور خریداری کے وقت تمام تر احتیاطی تدابیر کو مد نظر رکھیں۔

متحدہ علما بورڈ کے دفتر میں ہونے والی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان علما کونسل و متحدہ علما بورڈ حافظ محمد طاہر محمود اشرفی، سید ضیا اللہ شاہ بخاری، مولانا ضیا الحق نقشبندی، علامہ عبد الحق مجاہد، مولانا محمد رفیق جامی، علامہ حافظ کاظم رضا، مولانا اسد اللہ فاروق، مولانا زبیر عابد، مولانا ظفر اللہ شفیق، مفتی حفیظ الرحمن، مفتی فلک شیر، مولانا محمد خان لغاری، پیر قطب الدین فریدی، مولانا اسلم صدیقی، مولانا شمس الحق، مولانا عبد القیوم فاروقی، مولانا قاری عبد الحکیم اطہر، مولانا محمد اشفاق پتافی، مولانا اسید الرحمن سعید، مولانا یاسر علوی، مولانا عمار بلوچ، مولانا عثمان بیگ فاروقی اور دیگر نے کہا کہ عید الاضحی اہل اسلام کی عقیدت اور احترام کے ایام ہیں اور کرونا کی وبا کی وجہ سے احتیاط لازم ہےلہذا عوام الناس اجتماعی قربانی اور آن لائن قربانی کیلئے معتبر اداروں کے ذریعے قربانی کر سکتے ہیں اور صاحبِ نصاب ایک قربانی کے علاوہ نفلی قربانی جو برائے ایصال ثواب یا دیگر نیک مقاصد کیلئے ہوتی ہے کی رقم اگر مستحقین میں تقسیم کر دیں تو عند اللہ زیادہ اجر کے مستحق ہوں گے ان شا اللہ۔

علما و مشائخ نےعوام الناس سےاپیل کی کہ وہ عید کےایام میں اور عام حالات میں بھی صفائی کا خصوصی خیال رکھیں، حکومت کی طرف سے جاری کردہ احتیاطی تدابیر پر مکمل عمل کر یں۔ رہنماؤں نے کہا کہ عید الاضحی کی نماز بھی عید الافطر کی طرح احتیاطی تدابیر کے ساتھ ہو گی، ضلع کی سطح پر انتظامیہ علما کے ساتھ رابطے میں ہے،کھالوں اوراجتماعی قربانی کے معاملات میں مدارس و مساجد کو کوئی پریشانی نہیں ہو گی،گذشتہ سالوں میں جن مدارس کو این او سی دئیے گئے ہیں ان کو اس سال بھی اجازت ملے گی۔ علما ومشائخ نے عوام الناس سے اپیل کی ہے کہ ماہ ذوالحج کا عشرہ اول کے ایام انتہائی محترم اور عبادت کے ایام ہیں موجودہ حالات میں رجوع الی اللہ کی ضرورت ہےلہذا عوام الناس گھروں میں، کاروباری مراکز، مساجد و مدارس میں تکبیرات، استغفار اور درود شریف کا مسلسل اہتمام کریں،مخیر حضرات خوب صدقات اور عطیات اللہ کی رضا کیلئے مستحقین میں تقسیم کریں۔

ایک سوال کےجواب میں رہنماؤں نےکہاکہ ملک میں تمام مکاتب فکر کے درمیان ہم آہنگی پائی جاتی ہے کسی بھی فرد یا گروہ کو ملک میں انتشار نہیں پھیلانے دیا جائے گا۔ پنجاب اسمبلی سے پاس ہونے والا تحفظ بنیاد اسلام بل ایک درست سمت قدم ہے، حکومت حزب اختلاف کی ذمہ داری ہے کہ قومی اسمبلی سے ایسا قانون فوری منظور کروایا جائے جس میں مقدسات اسلام کی توہین کرنے والوں کیلئے کم از کم 20 سال سزا مقرر ہو اور مقدمات دہشت گردی ایکٹ کے تحت چلائے جائیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں رہنماؤں نے کہا کہ رویت ہلال کے معاملہ میں وزیر اعظم کو دلچسپی لینی چاہیے، رویت ہلال کمیٹی کے اعلان پر ہی لوگ عید اور رمضان کے روزے رکھتے ہیں، فواد چودھری اپنی معلومات وزارت مذہبی امور سے شیئر کر لیا کریں تا کہ عوام الناس شکوک و شبہات میں مبتلا نہ ہواور اس معاملہ کا مستقل حل نکل سکے۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -