روزانہ کتنی دیر ٹی وی دیکھنا ہارٹ اٹیک کا سبب بن سکتا ہے؟ تازہ تحقیق میں سائنسدانوں نے سخت وارننگ دے دی

روزانہ کتنی دیر ٹی وی دیکھنا ہارٹ اٹیک کا سبب بن سکتا ہے؟ تازہ تحقیق میں ...
روزانہ کتنی دیر ٹی وی دیکھنا ہارٹ اٹیک کا سبب بن سکتا ہے؟ تازہ تحقیق میں سائنسدانوں نے سخت وارننگ دے دی

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) بعض لوگ طویل وقت تک ٹی وی دیکھنے کی عادت میں مبتلا ہوتے ہیں جنہیں اب سائنسدانوں نے نئی تحقیق میں انتہائی تشویشناک خبر سنا دی ہے۔ میل آن لائن کے مطابق یو کے بائیو بینک کے زیراہتمام کی جانے والی اس تحقیق میں سائنسدانوں نے بتایا ہے کہ جو لوگ جتنا زیادہ وقت ٹی وی دیکھنے میں گزارتے ہیں ان کو سٹروک اور ہارٹ اٹیک آنے کا خطرہ اتنا ہی زیادہ ہو جاتا ہے۔

اس تحقیق میں سائنسدانوں نے 37سے 73سال کی عمر کے 4لاکھ 90ہزار 966مردوخواتین کی ٹی وی دیکھنے کی عادت اور ان کو سٹروک اور ہارٹ اٹیک آنے کے امکانات کا جائزہ لیا اور نتائج مرتب کیے۔ ان نتائج کی روشنی میں سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ ”لوگوں کو روزانہ دو گھنٹے سے زیادہ ٹی وی نہیں دیکھنا چاہیے۔ اگر لوگ دو گھنٹے سے زیادہ ٹی وی دیکھنا چھوڑ دیں تو دنیا میں ہارٹ اٹیک سے ہونے والی اموات میں 8فیصد سے زائد کمی ہو جائے گی۔“ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر ہمیش فوسٹر کا کہنا تھا کہ” اگر کوئی شخص روزانہ آدھا گھنٹہ ٹی وی دیکھنا کم کر دے اور یہی آدھا گھنٹہ واک کرنے لگے تو اس کے ہارٹ اٹیک اور سٹروک سے مرنے کے امکانات میں 10فیصد کمی واقع ہو جائے گی۔“

مزید :

تعلیم و صحت -