ترقیاتی فنڈز کے لئے ہمارے پاس کوئی ریکارڈ نہیں ہوتا،پلاننگ ونگ حکام کا انکشاف

ترقیاتی فنڈز کے لئے ہمارے پاس کوئی ریکارڈ نہیں ہوتا،پلاننگ ونگ حکام کا ...
ترقیاتی فنڈز کے لئے ہمارے پاس کوئی ریکارڈ نہیں ہوتا،پلاننگ ونگ حکام کا انکشاف

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ترقی ومنصوبہ بندی کے اجلاس میں پلاننگ ونگ کے حکام نے انکشاف کیا کہ ترقیاتی فنڈز کے لئے ہمارے پاس کوئی ریکارڈ نہیں ہوتا پلاننگ حکام کی جانب سے تسلی بخش بریفنگ نہ دینے پر سینیٹر ہدایت اللہ اور عتیق شیخ کا واک آوٹ، قائمہ کمیٹی نے اگلے اجلاس میں وزارت خزانہ پلاننگ ونگ، کابینہ ڈویژن کو طلب کر لیا۔

تفصیلات کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ترقی ومنصوبہ بندی کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر آغا شاہ زیب درانی کی سربراہی میں پارلیمنٹ لاجز میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں سینیٹر انجینئر رخسانہ زبیری، کے علاوہ عتیق شیخ، شاہین خالد بٹ، ہدایت اللہ کے علاوہ وزارت پلاننگ ڈویژن کے حکام نے شرکت کی۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر آغا شاہ زیب درانی نے کہا کہ ا گر پلاننگ ونگ والے مانیٹرنگ پر ایک فی صد خرچ کردیں تو ترقیاتی کاموں پر بیس فی صد بچ جائیں گے، پائیدار ترقی کا ہدف گذشتہ 23سالوں میں حاصل نہیں کیا جاسکا تو آئندہ تین سالوں میں کیسے حاصل ہوگا؟۔

پلانگ ونگ کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ پشاور موڑ سے نیو ائیر پورٹ منصوبہ 16,427,880ملین روپے کی لاگت سے مکمل کیا جا رہاہے، منصوبے کا پی سی ون وزارت مواصلات کے ذیلی ادارے این ایچ اے کے ذریعے مکمل کیا جا رہاہے ،این ایچ اے نے مئی 2020تک سو فی صد کام مکمل کر دیا ہے، اب باقی مینڈیٹ سی ڈی اے اور ضلعی انتظامیہ اسلام آباد کا ہے۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ خضدار بسیمہروڈ میں استعمال ہونے والا میٹریل بہت ناقص ہے، کمیٹی نے اگلے اجلاس میں خضدار بسینہ روڈ کی رپورٹ طلب کر لی۔

سینیٹر عتیق شیخ نے کہا کہ پائیدار ترقی کا ہدف2016.17وسے2020تک پروگرام تھا عالمی بنک اور آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان میں ایم ڈی جی میں پاکستان کا نمبر دنیا میں سب سے کم ہے، اب اس کا نام تبدیل کر کے ایس ڈی جی رکھ دیاگیا ہے، بتایا جائے اسے کون سا ادارہ دیکھ رہاہے؟ جس پر پلانگ ونگ کے حکام نے بتایا کہ اسے وہ دیکھ رہے ہیں،پہلے اس کانام غربت مکاو پروگرام تھا جسے اب ایس ڈی جی کا نام دے دیا گیا ہے۔ سینیٹر عتیق شیخ کا کہناتھا کہ کاغذات میں دس ٹریلین روپے خرچ ہو چکے ہیں ایس ڈی جی کے ذریعے 2015سے2020تک رقم ظاہر کی جا رہی ہے،پراجیکٹ کدھر ہیں؟۔سینیٹر ہدایت اللہ نے کہا کہ بتایاجائے کہ ایس ڈی جی کا یونٹ کب بنا اور اسے کون دیکھتا ہے؟کابینہ یا پلاننگ ونگ جس پر سیکرٹری پلانگ ونگ نے کہا کہ کابینہ اس کو دیکھتی ہے،وہ ترقیاتی کام کہاں ہوئے؟اس کی کوئی تفصیل نہیں،جس پر پلانگ ونگ کے حکام کا کہناتھا کہ اس بارے میں کابینہ ڈویژن ہمیں بتاتی ہے،ہم اجازت دے دیتے ہیں، اگلے اجلاس میں بریفنگ دینے کو تیار ہیں۔

ایس ڈی جی پر بریفنگ نہ دینے پر سینیٹر عتیق شیخ اور ہدایت اللہ نے واک آوٹ کر دیا۔ چیئرمین کمیٹی نے اگلے اجلاس میں کابینہ حکام، فنانس اور پلاننگ ونگ کو طلب کر لیا ہے۔

مزید :

علاقائی -اسلام آباد -