ایران میں احتجاجی مظاہرے خونی رنگ اختیار کرنے لگے، فائرنگ سے ایک اہلکار ہلاک ہونے کی اطلاع

ایران میں احتجاجی مظاہرے خونی رنگ اختیار کرنے لگے، فائرنگ سے ایک اہلکار ہلاک ...
ایران میں احتجاجی مظاہرے خونی رنگ اختیار کرنے لگے، فائرنگ سے ایک اہلکار ہلاک ہونے کی اطلاع

  

تہران ( ڈیلی پاکستان آن لائن) ایران میں پانی کی قلت کے خلاف احتجاجی مظاہرے اب خونی مظاہروں میں تبدیل ہونے لگے ہیں ، فورسز اور مظاہرین کی جھڑپوں میں فائرنگ سے ایک اہلکار کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے ۔

العربیہ کے مطابق ایران کے جنوب مغربی علاقے میں گزشتہ چھ روز سے پانی کی قلت کے خلاف مسلسل  احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں ، جبکہ ایران کے دارالحکومت تہران میں بھی مظاہرین حکومت مخالف نعرے بازی کر رہے ہیں ۔ ان مظاہروں کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی گئی ہیں جن میں فورسز کو مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے آنسو گیس کی شلنگ کرتے دیکھا جا سکتاہے۔

ایران کی نیم سرکاری خبر ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ صوبہ خوزستان میں شہر ماہ شہر میں بلوائیوں کی فائرنگ سے ایک پولیس اہلکار ہلاک ہو گیا جبکہ ایک کے زخمی ہونےکی اطلاع ہے ۔ واضح رہے کہ خوزستان تیل کی دولت سے مالا مال صوبہ ہے ۔

ادھر خوزستان میں پانی کے بحران کے خلاف ملک کے دیگر علاقوں میں بھی مظاہروں کی اپیل کی گئی ہے ،  دارالحکومت میں مظاہرین نے ایرانی نظام کے خلاف نعرے بازی کی گئی، ایک میٹرو سٹیشن پر بعض خواتین کو اسلامی جمہوریہ مردہ باد کے نعرے لگاتے ہوئے سنا گیا۔

ماہ شہر میں ایک عرب خاتون کی ویڈیو سامنے آئی جس میں وہ کہہ رہی ہے کہ سر سر مظاہرہ پر امن ہے ، آپ لوگ گولیاں کیوں چلا رہے ہیں ۔ واضح رہے کہ ایران کو گزشتہ نصف صدی کی بد ترین خشک سالی کا سامنا ہے جس کے باعث خوزستان میں پانی کی قلت کے خلاف 15 جولائی کو مظاہرے شروع ہوئے ، گزشتہ سات راتوں سے مسلسل احتجاجی ریلیاں نکالی جا رہی ہیں ۔

ایران کے حکام پانی کی قلت کی وجہ خشک سالی کو قرار دیتے ہیں جبکہ مظاہرین کا کہنا ہے کہ حکومت دانستہ طور پرعرب آبادی والے صوبے کا پانی فارسی نسل والی آبادی کے صوبوں کو دے کر خوزستان میں پانی کی قلت پیدا کر رہی ہے ۔

مزید :

اہم خبریں -بین الاقوامی -