ٹوکیو اولمپکس 2020، پاکستانی ایتھلیٹس کیلئے قومی کرکٹرز کا نیک خواہشات کا اظہار

ٹوکیو اولمپکس 2020، پاکستانی ایتھلیٹس کیلئے قومی کرکٹرز کا نیک خواہشات کا ...
ٹوکیو اولمپکس 2020، پاکستانی ایتھلیٹس کیلئے قومی کرکٹرز کا نیک خواہشات کا اظہار

  

لاہور ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) ٹوکیو اولمپکس 2020 میں پاکستانی ایتھلیٹس بھی شرکت کر رہے ہیں جن کیلئے پاکستانی کرکٹرز کی طرف سے نیک خواہشات کااظہار کیا گیا ۔

اوپنر بلے باز فخر زمان  ،فاسٹ باؤلر فہیم اشرف نے اپنے پیغام میں کہا کہ دعا ہے پاکستانی ایتھلیٹس ٹوکیو اولمپکس میں بھرپور پرفارمنس کا مظاہرہ کریں  اور کھیلوں سے لطف اندوز ہوں ۔

سابق کپتان سرفراز احمد ، فاسٹ باؤلر حسن علی ، نے کہا کہ ہماری دعا ہے تمام ایتھلٹس اچھا کھیل پیش کریں اور ملک و قوم کا نام روشن کریں ،

پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم کی آل راؤنڈر عالیہ ریاض نے ٹوکیو اولمپکس کے دستے کے لئے گُڈ لک کہا۔

ادھر پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم کی آل راؤنڈر عالیہ ریاض اورندا ڈار نے ٹوکیو اولمپکس میں شریک دستے کیلئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ 

واضح رہے کہ ٹوکیو اولمپکس کا باقاعدہ آغاز آج سے ہو رہا ہے ۔  جس میں 207 ممالک کے تقریباً ساڑھے گیازہ ہزار ایتھلیٹس شامل ہیں ۔  ٹوکیو پہنچنے والے  پاکستانی ایتھلیٹس میں شوٹنگ کی ٹیم کے تین اور تیراکی کی ٹیم کے دو ایتھلیٹ شامل ہیں ۔ بیڈمنٹ کھلاڑی ماحور شہزاد بھی دستے میں شامل ہیں ۔

 ایتھلیٹ نجمہ پروین ٹوکیو اولمپکس 2020 میں پاکستان کی نمائندگی کر رہی ہیں ، نجمہ سال 2016 میں ریوڈی جنیرو اولمپکس کے 100 میٹرز کے مقابلے میں شرکت کر چکی ہیں ، فیصل آباد کی نجمہ پروین پاک آرمی سے منسلک ہیں ۔

نجمہ پروین نے سال 2019 کی پشاور نیشنل گیمز میں 6 گولڈ میڈلز حاصل کیے ، انہوں نے 2019 میں نیپال میں ہونیوالی ساؤتھ ایشین گیمز میں ایک طلاءی ، دو چاندی اور ایک کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔

ارشد ندیم جیولن تھرو میں پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں ،  ارشد ندیم ٹوکیو اولمپکس میں براہ راست کوالیفائی کرنے والے واحد پاکستانی کھلاڑی ہیں  ورنہ ہمیشہ پاکستانی ایتھلیٹس واءلڈ کارڈز کی بنیاد پر اولمپکس میں حصہ لیتے ہیں ۔

میان چنوں سے تعلق رکھنے ارشد ندیم واپڈا سے منسلک ہیں ،ارشد ندیم نے 2019 میں نیپال میں ہونے والی ایشین گیمز میں جیولن تھرو میں 86 اعشاریہ 29 میٹر دور نیزہ پھینک کر طلائی تمغہ حاصل کیا تھا، ارشد ندیم 2018 میں جکارتہ میں ایشین گیمز میں کانسی کا تمغہ بھی حاصل کر چکے ہیں ۔

ٹوکیو اولمپکس 2020 میں ماحور شہزاد بھی پاکستان کی نمائندگی کر چکی ہیں ، ماحور  پچھلے سال کینیا میں ہونے والے انٹرنیشنل ایونٹ کے ڈبلز ایونٹ میں پلوشہ بشیر کے ساتھ رنر اپ تھیں ۔ ماحور سال 2019 میں پاکستان کی تاریخ میں ٹینس کی صف اول کی 150 کھلاڑیوں میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوئیں ۔ انہوں نے 2014 کی جنوبی کوریا میں ہونے والی ایشین گیمز میں بھی پاکستان کی نمائندگی کی ۔

ٹوکیو اولمپکس 2020 میں شاہ حسین شاہ بھی پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں ، جوڈو ماسٹر شاہ حسین شاہ پاکستان کے شہرہ آفاق باکسر حسین شاہ کے صاحبزادے ہیں ، حسین شاہ نے سال 1988 کے سیول اولمپکس میں کانسی کا تمغہ جیتا تھا جس کے بعد آج تک پاکستان اولمپکس میں کوئی انفرادی تمغہ نہیں جیت سکا۔

شاہ حسین شاہ نے سال 2014 میں کامن ویلتھ گیمز میں چاندی کا تمغہ جیتا تھا

 شاہ حسین شاہ نے 2014 میں گلاسگو میں ہونے والے کامن ویلتھ گیمز میں چاندی کا تمغہ جیتا تھا۔ وہ دو مرتبہ ساؤتھ ایشین گیمز میں طلائی تمغے جیت چکے ہیں۔

طلحہ طالب

ویٹ لفٹنگ 67 کلوگرام کیٹگری میں پاکستان کے  طلحہ طالب ٹوکیو اولمپکس 2020 میں شرکت کر رہے ہیں ، ایسا  1976 کے بعد پہلی بار ہو رہا ہے کہ کوئی ویٹ لفٹر اولمپکس مقابلوں میں پاکستان کی نمائندگی کر رہا ہو ، 1976 میں ارشد ملک نے آخری مرتبہ ویٹ لٹنگ کی کیٹیگری میں پاکستان کی نمائندگی کی تھی ۔

طلحہ طالب نے سال 2018 میں کامن ویلتھ گیمز میں کانسی کا تمغہ جیت کر نیا قومی ریکارڈ بنایا ، انہوں نے سال 2016 میں کامن ویلتھ یوتھ ویت لفٹنگ مقابلوں میں سونے کا تمغہ جیتا تھا۔

بسمہ خان تیراکی کے 50 میٹرز فی سٹائل میں پاکستان کی نمائندگی کر رہی ہیں ، بسمہ سے قبل ان کی بڑی بہن کرن خان بھی انٹرنیشنل مقابلوں میں پاکستان کی نمائندگی کر چکی ہیں ، بسمہ ساؤتھ ایشین گیمز 2019 میں دو سو میٹر انفرادی میڈلے میں چاندی کا تمغہ جیت چکی ہیں ۔

محمد حسین طارق ٹوکیو اولمپکس تیراکی 100 میٹرز فری سٹائل میں پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں ،حسیب طارق گزشتہ کچھ برسوں سے قومی چیمپئن شپ میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں ۔

ٹوکیو اولمپکس 2020 میں تین پاکستانی شوٹرز شامل ہیں ، گلفام جوزف سو میٹر ایر پسٹل ایونٹ میں پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں جبکہ خلیل اختر اور غلام مصطفی بشیر 25 میٹر ریپڈ فائر پسٹل ایونٹ میں نمائندگی کریں گے ۔

خلیل اور غلام مصطفی نے بھارت میں ہونے والے شوٹنگ ورلڈ کپ میں حصہ لینا تھا مگر بھارت حکومت کی جانب سے ویزے جاری نہ ہونے پر شرکت سے محروم رہے ۔

مزید :

قومی -کھیل -