کورونا کی چوتھی لہر اور سندھ حکومت کی جانب سے پابندیوں کا اعلان ، تاجر ایکشن کمیٹی نے بھی کمر کس لی 

کورونا کی چوتھی لہر اور سندھ حکومت کی جانب سے پابندیوں کا اعلان ، تاجر ایکشن ...
کورونا کی چوتھی لہر اور سندھ حکومت کی جانب سے پابندیوں کا اعلان ، تاجر ایکشن کمیٹی نے بھی کمر کس لی 
سورس: File Photo

  

کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)حکومت سندھ کی جانب سے پیر کے روز سے کاروبار شام چھے بجے بند کرنے اور جمعہ اور اتوار کو محفوظ ایام قرار دینے کے فیصلے کے بعد تاجر ایکشن کمیٹی نے ہفتے(کل) کو ہنگامی اجلاس طلب کرلیا ہے جس کے بعد پریس کانفرنس میں لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق صوبائی حکومت کی جانب سے پیر کے روز سے لاک ڈاؤن کے فیصلے پر تاجروں نے شدید تحفظات کا اظہار کرتےہوئے کہا ہے کہ تاجر برادری حکومت سندھ کے فیصلوں کو مسترد کرتی ہے ۔چیئرمین آل کراچی تاجر اتحاد عتیق میر نے کہا کہ تاجر برادری کورونا سے بچاؤ کے تحت سندھ ٹاسک فورس کے فیصلوں کو مسترد کرتی ہے،فیصلوں میں تاجر نمائندگان کی مشاورت سے بہتری نہ لائی گئی تو احتجاج پر مجبور ہونگے۔

 عتیق میر کا کہنا ہے کورونا کے احتیاطی فیصلے غیرسودمند اور کورونا وباءسے زیادہ مہلک ہیں،روایتی پابندیوں سے پرانی اور تباہ کن غلطیوں کو دہرایا گیا ہے،مارکٹیں چھ بجے بند ہونے سے شہر ٹریفک کا جنگل بن جائیگا اور لوگوں کیلئے سماحی فاصلہ برقرار رکھنا مشکل ہوگا،شادی ہالز، ہوٹلز، ریستوران پر سخت پابندیوں سے تاجر، مزدور، یومیہ اجرت پر کام کرنے والا طبقہ فاقہ کشی پر مجبور ہوگا، مشاورت کے بغیر غلط فیصلوں سے تمام کاروباری سیکٹرز میں سخت اشتعال پیدا ہوگیا ہے،حکومت سندھ فیصلوں پر نظرثانی اور مشاورت سے قابل عمل اور سود مند اقدامات کرے ۔

تاجر ایکشن کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر شرجیل گوپلانی نے کہا کہ حکومت مارکیٹوں،شاپنگ مال،ہوٹل و ریسٹورنٹ، شادی ہال اور دیگر صنعتوں کو ایس او پیز کے ساتھ کام کی اجازت دے اور ہفتہ میں صرف ایک روز کی بندش کرے، سندھ حکومت پہلے سے تباہ حال بستر مرگ پر پڑی معیشت کو قتل کرنا چاہتی ہے،سندھ حکومت کو تاجر برادری کی تباہی اور لاک ڈاؤن کے باعث بھوک اور بے روزگاری سے مرتے لوگ نظر نہیں آرہے،جتنی پھرتیاں لاک ڈاؤن کے لئے نظر آرہی ہیں اتنی آلائشوں اور کچرے اٹھانے میں کیوں نظر نہیں آرہی ہیں؟ حکومت سندھ تاجروں کو سڑکوں پر آکر احتجاج کرنے پر مجبور کر رہی ہے اورتاجر اپنی بقا کے لئے لائحہ عمل پر مجبور ہوں گے۔

مزید :

بزنس -