ہم جنس پرستی مدرسوں میں جائز ہے تو معاشرے میں کیوں نہیں، نیشنل کالج آف آرٹس کے میگزین میں ہرزہ سرائی

ہم جنس پرستی مدرسوں میں جائز ہے تو معاشرے میں کیوں نہیں، نیشنل کالج آف آرٹس ...

ہم جنس پرستی مدرسوں میں جائز ہے تو معاشرے میں کیوں نہیں، نیشنل کالج آف آرٹس کے میگزین میں ہرزہ سرائی

ہم جنس پرستی مدرسوں میں جائز ہے تو معاشرے میں کیوں نہیں، نیشنل کالج آف آرٹس کے میگزین میں ہرزہ سرائی

  

لاہور (شہباز سعید) آرٹ، کلچر، ڈیزائننگ اور لوک ورثہ سمیت فنون لطیفہ کے حوالے سے عالمگیر شہرت کے حامل پاکستان کے نامور تعلیمی ادارے نیشنل کالج آف آرٹس کے سالانہ میگزین ”صحبت“ میں ہم جنس پرستی کے حوالے سے قابل اعتراض مضمون اور تصاویر شائع ہوئی ہیں جس پر مذہبی، سماجی اور تعلیمی حلقوں میں گہری تشویش اور سخت اضطراب پایا جاتا ہے۔ رسالے میں ہم جنس پرستی کو جس انداز سے پاکستان کے مدرسوں کے ساتھ منسوب کیا گیا ہے اس پر مذہبی حلقے سخت سیخ پا ہیں اور اس ہرزہ سرائی کو خلاف شرع، شعائر اسلام کی توہین، دین اسلام کا تمسخر اڑانے اور مذہب حقہ کے خلاف سازش قرار دیا ہے جبکہ ممتاز قانون دان چودھری ممتاز مانگٹ نے این سی اے انتظامیہ کے خلاف مقدمے کے اندراج کے لئے عدالت سے بھی رجوع کرلیا ہے۔ روزنامہ پاکستان کی طرف سے اس حوالے سے کی گئی تحقیق کے مطابق نیشنل کالج آف آرٹس کی انتظامیہ نے تین سال قبل صحبت کے نام سے سالانہ میگزین کااجراءکیا جس کی افتتاحی تقریب کے مہمان خصوصی سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر تھے۔ گذشتہ دنوں اِس رسالے کا تیسرا سالانہ شمارہ شائع کیا گیا۔ یہ میگزین این سی اے کا ریسرچ اینڈ پبلی کیشنز سینٹر ایک غیر ملکی ادارے ون نائن ٹو کے اشتراک سے شائع کرتا ہے جبکہ اِس کے ادارتی بورڈمیں عتیقہ علی، نازش عطاءاللہ، سروش عرفانی اور عائشہ جتوئی شامل ہیں۔ تیسرے شمارے کو حسنات محمود نے ڈیزائن کیا ہے جبکہ کاپی ایڈیٹر لیانہ کری سوف ہیں۔ کالج کے پرنسپل پروفیسر سجاد کوثر ایڈیٹوریل بورڈ کے سربراہ کے طور پر شامل کیے گئے ہیں۔ رسالے کے اندرونی صفحہ اول پر بغیر شرٹ پہنے نوجوان کی تصویر شائع کی گئی ہے جو ایک بیڈ پر بیٹھا ہے ، اِس کے ساتھ ایک باریش شخص بھی بیٹھا دکھایا گیا ہے جس کے ہاتھ میں تسبیح ہے۔ اِس تصویر میں حجرہ کی منظر کشی کی گئی ہے۔ "Sedding the Fig Leaf" کے عنوان سے عاصم اختر کا تحریر کردہ مضمون رسالے کا ابتدائی اور مرکزی آرٹیکل ہے جس میں ہم جنس پرستی کو مختلف زاویوں سے واضح کیا گیا ہے ۔ مضمون نگار نے محمد علی نامی فنکار کے پورٹریٹ کو نفسِ مضمون بنایا ہے اور گستاخانہ انداز میں اِس تصویر کے لئے ٹائٹل "Call for Namaz" منتخب کیا گیا ہے۔ مضمون نگار نے اسلام کے حوالے سے کئی منفی نکتے بھی تحریر کیے ہیںجبکہ یہ سوال بھی اُٹھایا ہے کہ جب پاکستان کے مدرسہ سسٹم میں ہم جنس پرستی معیوب نہیں تو معاشرے میں اِسے برا کیوں سمجھا جاتا ہے۔ ابتدائی مضمون میں ایک اور پورٹریٹ بھی شامل اشاعت کیا گیا ہے جس میں یہ ناپاک جسارت کی گئی ہے کہ مدرسے کے ماحول میں ایک مدرس کے ساتھ دو نو عمر بچے بیٹھے دکھائے گئے ہیں جن میں سے ایک سگریٹ پی رہا ہے جبکہ دوسرا برہنہ ہے۔ تصویر کے بیک گراﺅنڈ میں نعوذباللہ چاروں قل کا کتبہ نصب ہے جبکہ ہار، پھول سہروں کے ذریعے مذہبی ماحول پیدا کرنے کی کوشش بھی کی گئی ہے۔ اِس تصویر کو "نہ وہ کسی کا باپ ہے نہ وہ کسی کا بیٹا" کا ٹائٹل دیا گیا ہے جسے سورة اخلاص کی آیت کی توہین کی ناپاک جسارت قرار دیا جا سکتا ہے۔ مضمون میں کئی دیگر پورٹریٹ نما تصاویر بھی گستاخانہ انداز میں شامل اشاعت کی گئی ہیں جبکہ مضمون نگار نے ہم جس پرستی کو ایک آرٹ قرار دیا ہے۔

مزید تصاویر دیکھنے کے لیے اِس لنک کو کلک کریں

http://www.dailypakistan.com.pk/E-Paper/lahore/2012-06-23/page-2

مزید : خصوصی رپورٹ