بچوں جیسے اراکین، سپیکر کو بار بار نوٹس لینا پڑا

بچوں جیسے اراکین، سپیکر کو بار بار نوٹس لینا پڑا

            پنجاب اسمبلی کا بجٹ اجلاس جاری اور ہفتہ کے روز سرکاری چھٹی کے باوجود بجٹ پر بحث تیسرے روز بھی جاری رہی۔ بحث کا 90فیصد تک حصہ مکمل ہوگیا پیر کے روز یہ سلسلہ مکمل ہونے کے بعد پنجاب اسمبلی کا ایوان صوبائی بجٹ 2013-14 کی باقاعدہ طور پر منظوری دے گا گذشتہ روز پنجاب اسمبلی کا اجلاس مقررہ وقت کی بجائے تاخیر سے شروع ہونے کی روایت برقرار رہی پہلی مرتبہ بجٹ پر حصہ لینے کے لئے حکومتی خاتون رکن ناہید نور نے اپنی تقریر انگریزی زبان میں شروع کی تو سپیکر پنجاب اسمبلی نے یہ کہہ کر انہیں انگریزی زبان میں تقریر کرنے سے روک دیا کہ بی بی یہ کیا ہے اگر آپ کو انگریزی میں تقریر کا شوق ہے تو یہ شوق پورا کرنے کےلئے باقاعدہ طور پر سپیکر سے اجازت لیں اور پھر دل کھول کر انگریزی بولیں مگر ناہید نور نے اپنی تقریر جاری رکھی۔ اپوزیشن جماعت تحریک انصاف اور (ق) لیگ نے کل سات مرتبہ کورم کی نشاندہی کی مگر اسے خاطر میں نہ لایا گیا جب تحریک انصاف کے رکن اسمبلی مراد راس نے اس انداز میں کہا کہ جناب سپیکر میرا مقصد کورم کی نشاندہی نہیں مگر کورم پورا بھی نہیں جس پر کاروائی روک دی گئی اور گھنٹیاں بجائی گئیں اس دوران گھنٹیاں بجنے میں اسمبلی کی ؟؟میں ٹہلنے اور خوش گپیوں میں موجود ن لیگ کے تمام اراکین فوراً سے پہلے ایوان میں حاضر ہوگئے اور گنتی شروع ہونے پر کورم پورا پایا گیا جس پر نشاندہی کرنے والی اپوزیشن کو ؟؟کا سامنا کرنا پڑا۔

ہفتہ کے روز صوبائی وزیر خزانہ ایک مرتبہ پھر کارروائی میں حصہ نہ لے سکے وزیر خزانہ کی عدم موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپوزیشن حکومتی بنچوں پر خوب برسی اپوزیشن نے کہا کہ جناب سپیکر وزیر خزانہ اور دیگر وزراءاور اراکین کی اکثریت آپ نے ؟؟جب دل کرے آتے ہیں جب دل کرے چلے جاتے ہیں۔ خدارا قوم کا امتحان مت لیں حکمرانوں کی بے حسی سے تنگ آکر عوام ایوانوں میں گھس کر ہمارے گریبان چاک نہ کر دیں جس پر ایوان سے حکومتی بنچوں سے آواز آئی ”کے پی کے“ میں اپنا سر بچاﺅ ہمارے گریبانوں کو بٹن لگے ہوئے ہیں جس پر ایوان میں قہقہے گونج اٹھے۔ جس پر اپوزیشن لیڈر میاں محمود الرشید نے فقرہ کہا کہ وزیر خزانہ کا ایوان میں نہ آنا ایوان کی توہین ہے۔

اجلاس میں اس بات کا بھی سپیکر کو نوٹس لینا پڑا کہ بعض حکومتی اراکین کو وزیر اعلیٰ پنجاب کا نام تک یاد نہ تھا (ن) لیگ سے تعلق رکھنے والے رکن اسمبلی محمد ثاقب خورشید بجٹ پر بحث کے لئے آئے تو انہوں نے ایک نہیں تین بار وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف کو وزیر اعلیٰ پنجاب کہہ کر پکارا۔ سپیکر نے نوٹس لیتے ہوئے ان کی تصحیح کرا دی اور انہیں بتایا کہ وزیر اعلیٰ نواز شریف نہیں شہباز شریف ہیں جس پر انہوں نے سوری کہا۔ کارروائی کے دوران بعض اراکین اسمبلی حرکات کرتے رہے جیسے پرائمری کے بچے جس کا سپیکر کو بار بار نوٹس لینا پڑا ایک سو ن لیگ کے تین اراکین اسمبلی ملک وحید، آصف باجوہ اور عرفان دولتانہ پہلی رو میں وزراءکے لئے مخصوص نشستوں کو خالی دیکھ کر وہاں آکر بیٹھ گئے جس پر سپیکر نے کہا کہ ”بھئی“ یہاں سے اٹھ جاﺅ آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ یہ نشستیں ؟؟کے لئے مخصوص ہیں جس پر انہوں نے کہا کہ خالی نشست کسی کی نہیں ہوتی پہلے آﺅ پہلے پاﺅ مگر سپیکر نے بحث لمحہ اپنایا تو وہ اٹھ کر چلے گئے

مزید : صفحہ اول


loading...