و فا قی بجٹ ۔۲۰۱۳۔۱۴ میں متعا ر ف کر وا ی¿ جا نیوالی ینکم سپورٹ لیو ی ڈبل ٹیکسیشن ھے

و فا قی بجٹ ۔۲۰۱۳۔۱۴ میں متعا ر ف کر وا ی¿ جا نیوالی ینکم سپورٹ لیو ی ڈبل ...

       لاہور(صبغت اللہ چودھری) بجٹ 2013-14 ءمیں متعارف کروائی جانیوالی انکم سپورٹ لیوی ”ڈبل ٹیکسیشن“ ہے، اس نئے ٹیکس کی روشنی میں 10 لاکھ روپے سے زیادہ منقولہ جائیداد رکھنے والا شخص حکومت کے خزانے میں 0.5 فیصد جمع کروائے گا، پاکستان میں کاروبار کرنیوالا ہر شخص جو ایف بی آر کے ٹیکس نیٹ کا حصہ ہے اپنی آمدنی پر 5 فیصد سے لے کر 35 فیصد تک انکم ٹیکس جمع کروا رہا ہے جبکہ اپنی مجموعی پیداوار پر 16 فیصد سیلز ٹیکس جمع کر کے حکومتی خزانے میں جمع کرواتا ہے، اس سارے عمل اور مشقت کے نتیجے میں بعد از ٹیکس خالص منافع پر اگر کوئی شخص برے وقت کیلئے سٹاک مارکیٹ کے شیئرز، سونا یا اس قسم کی کوئی منقولہ جائیداد بنا لے تو اس پر بھی حکومت نے 0.5 فیصد ٹیکس لگا دیا ہے ، ”انکم سپورٹ لیوی ایکٹ 2013 ء“ کے ذریعے کاروباری افراد کی بعد از ٹیکس آمدنی سے بنائی گئی منقولہ جائیداد سے آدھا فیصد ٹیکس پر بزنس کمیونٹی میں شدید رد عمل پایا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ٹیکس اہداف حاصل کرنے کیلئے نئے لوگوں کو ٹیکس میں لانے کی بجائے پہلے سے ٹیکس ادا کرنے والوں کا مزید خون نچوڑنے کا پروگرام بنا لیا ہے، کیونکہ سالانہ گوشوارے داخل کرتے وقت منقولہ جائیداد کی تفصیلات مانگی جاتی ہے اور اس کی زد میں ہر وہ شخص آ جائے گا جس کے زیر استعمال 1000 سی سی گاڑی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے کاروباری افراد کی حوصلہ شکنی ہوئی ہے جو اپنی خالص آمدنی پر ’سیونگ‘ بھی نہیں کر سکیں گے۔ ذرائع کے مطابق ایف بی آر کا ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے والا شعبہ ”بی ٹی بی“ بری طرح ناکام ہوا ہے، نئی گاڑی کی خریداری پر بی ٹی بی ٹیکس کا نوٹس بھجوا دیتا تھا لیکن سابق چیئرمین ایف بی آر علی ارشد حکیم نے اسے ختم کروا دیا، ماہرین کہتے ہیں کہ ٹیکس گزاروں کا گھیرا تنگ کرنے کی بجائے نئے لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لانا ہوگا، اس کیلئے کمرشل بنیادوں پر بجلی یا گیس کا کنکشن حاصل کرنیوالے، کوئی صنعتی نقشہ پاس کروانے والے یا اسی قسم کی کوئی بھی کاروباری سرگرمی کی بنیاد رکھنے والے افراد سے نیشنل ٹیکس نمبر کا تقاضا ہونا چاہیے تا کہ نئے لوگ نیٹ میں آئیں اور پہلے سے ٹیکس ادا کرنیوالوں کو”ڈبل ٹیکسیشن“ نہ کی جائے۔ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت کی جانب جائیداد کی خریدو فروخت پر کیپیٹل گین ٹیکس بھی دہری ٹیکسیشن ہے کیونکہ وفاقی حکومت پہلے سے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 ءکے سیکشن 36 کے تحت یہ ٹیکس وصول کر رہا ہے۔

ڈبل ٹیکسیشن

مزید : صفحہ اول


loading...