قر ضہ وا پس نہ کیا تو پا کستا ن ڈیفا لٹ کر جا ئیگآٓٓ

قر ضہ وا پس نہ کیا تو پا کستا ن ڈیفا لٹ کر جا ئیگآٓٓ

        ٓٓٓ    اسلام آباد( خصوصی رپورٹ) وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کا قرض اتارنے کے لئے اسی سے پھر لینا پڑے گا۔ اگر قسطیں واپس نہ کیں تو پاکستان ڈیفالٹ کر جائے گا، قرض کسی نے بھی لیا ہو پاکستان کی عزت اسی میں ہے کہ یہ واپس کیا جائے گزشتہ پانچ سال میں آئی ایم ایف سے ساڑھے آٹھ ارب ڈالر کا قرض لیا گیا، یہ ادارہ بھی اتنے قرض پر لکیریں نکال رہا ہے۔ ہم قرض لینے کے لئے پاکستان اور عوام کے مفادات کے خلاف کوئی شرط تسلیم نہیں کریں گے۔ قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث سمیٹتے ہوئے اپنی تقریر اور ارکان کے سوالوں کے جواب میں انہوںنے کہا کہ یہ وقت الزامات لگانے کا نہیں مل کر ملک کو مسائل سے نکالنے کا ہے وہ گردشی قرضے دو ماہ میں ختم کرنے کا وعدہ پورا کریں گے۔ پانچ سو تین ارب روپے کے گردشی قرضوں کی وجہ سے سترہ سو میگا واٹ بجلی کی کمی کا سامنا ہے۔وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ ایٹمی میزائل پروگرام کے حوالے سے حساس اثاثوں کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم ٹھوس بنیادوں پر قائم کیا گیا ہے جبکہ ان اثاثوں کی حفاظت کے لئے جدید ہتھیاروں سے لیس فورس تعینات ہے جو پچیس ہزارا رکان پر مشتمل ہے۔ انہوںنے کہا کہ ایسی کوئی ریڈ لائن مقرر کرنے کی ضرورت ہے جو کسی بھی صورت میں عبور نہیں کی جانی چاہئے۔ سکینڈ لائن کے طور پر ایک اور دفاعی لائن بھی موجود ہے جو تیزی سے کارروائی کرنے والی فورسز پر مشتمل ہے۔ خبر ایجنسیوں کے مطابق اسحاق ڈار نے کہا کہ جنرل سیلز ٹیکس میںایک فیصد اضافہ کسی صورت واپس نہیں لیا جائے گا۔و سائل نے اجازت دی تو مستقبل میں اس ٹیکس کی شرح کم کردیں گے، حکومت کو ساڑھے چودہ ہزار ارب روپے کا قرضہ تحفے میں ملا ہے۔ ان کی ادائیگی کے لئے آئی ایم ایف سے رجوع کرنا پڑرہا ہے تاہم کسی بین الاقوامی ادارے سے بات چیت میں پاکستان اور عوام کے مفاد پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ ہمیں مل جل کر ملکی معیشت کو مضبوط بنانا ہوگا۔ بہت سی اقتصادی بیماریوں کا علاج سب کو مل کر کرناہوگا۔ صنعت اور علاقائی تجارت کو نئی زندگی دینا ہوگی۔ اگلے مالی سال میںتقریباًتین ارب ڈالر کی خطیر رقم ادا کرنی ہے پانچ سو ارب روپے کے گردشی قرضے بھی تحفہ میں ملے ہیں۔ انتہا پسندی کی طرح توانائی کا مسئلہ بھی ہے اور عوام بلبلا رہے ہیں تاہم حکومت الزامات کی گیم میں نہیں پڑنا چاہتی۔ پچھلے دور میں قرضے لے کر اورنوٹ چھاپ کر چودہ سو پچاسی ارب کی سبسڈی دی گئی ہم ملک کو بہتر معاشی روڈ میپ پر لانا چاہتے ہیں قرضے لے کر نوٹ چھاپ کر 1485ارب روپے کی سبسڈی دی گئی ہے۔ اس سے بہتر تھا کہ بجلی مفت کردی جاتی۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ کھاتہ داروں کے بینکس اکاﺅنٹس کی انفارمیشن اصلاحات سے مطابقت رکھتی ہے۔ یہ رسائی صرف اور صرف چیئرمین اور ممبرز ایف بی آر کو ہوگی۔ اس معلومات کے ناجائز استعمال یا لیک کرنے پر جرمانے کو بڑھا کر 5لاکھ روپے اور قید کی سزا کو ایک سال کردیا گیا ہے۔ دودھ، ڈیری، مصنوعات، سٹیشنری آئٹم اور بائیکل پر زیرو ٹیکس کو بحال کردیا گیا ہے۔ سیلولر فون پر ودہولڈنگ ٹیکس دس فیصد سے بڑھا کر پندرہ فیصد کردیا ہے۔ رینٹل انکم کے حوالے سے دو سلیب ہوں گے 10اور 15فیصد کی دو شرحوں سے ودہولڈنگ ٹٰیکس کا ریٹ رکھا جائے گا انہوں نے کہا کہ بجلی تعلیمی ادارے دوسرے بزنسز میںبھی شامل ہوچکے ہیں سرپلس آمدنی مل رہی ہے یہ ادارے ایک بار انکم ٹیکس کمشنر سے سرٹیفکیٹ حاصل کریں اور اس کے بعد اپنا ٹیکس فری سٹیٹس حاصل کریں تحقیق کاروں اور اساتذہ پر میسر ٹیکس میں 75فیصد کے ریبیٹ کو 40فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ گزشتہ حکومت کیجانب سے لئے گئے قرضوں کی واپسی اخلاقی طور پر ہم پر عائد نہیں ہوتی اور نہ ہی ہم اس کے ذمہ دار ہیں لیکن پاکستان کو عالمی سطح پر نادہندہ ہونے سے بچانے کے لئے اگلے سال آئی ایم ایف کو 3ارب ڈالر کا قرض واپس کرنا ہے جس کے لئے ہمیں ایک بار پھر آئی ایم ایف کے پاس جاناپڑے گا، لیکن ملکی مفاد کے خلاف کسی بھی شرط کو نہیں مانا جائے گا۔

اسحاق ڈار

مزید : صفحہ اول


loading...