ڈرون حملے: اوباما کب تک جھوٹ کا سہارا لے سکےں گے؟

ڈرون حملے: اوباما کب تک جھوٹ کا سہارا لے سکےں گے؟
ڈرون حملے: اوباما کب تک جھوٹ کا سہارا لے سکےں گے؟

  


امریکہ میں ڈرون مخالفت کی وجہ سے امریکی صدر باراک اوباما کو ڈرون حملے جاری رکھنے کے سلسلے میں کسی قدر پسپائی اختیار کرنا پڑی ہے لیکن باراک اوباما نے اس سلسلے میں انہیں قانونی قرار دے کر اس جھوٹ کا سہارا لیا ہے جو اس کے پیش رو بش کا گھڑا ہوا صریح جھوٹ تھا۔ بالکل ویسا ہی صریح جھوٹ جیسا عراق کے وسیع تر تباہی کے ہتھیاروں کے بارے میں گھڑا گیا تھا۔ لیکن یہ بات اب طے ہے کہ باراک اوباما اس جھوٹ کا تادیر سہارا نہیں لے سکے گا۔ ہر آنے والے دن میں اس جھوٹ کی قلعی کھل رہی ہے اور ہر آنے والے دن کے ساتھ ڈرون حملوں کی مخالفت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ امریکہ کی رسوائی کا سامان اس کے گھر سے پیدا ہو رہا ہے۔ امریکی فوجی محاذ جنگ سے واپس آکر معمول کی زندگی بسر کرنے کے قابل نہیں رہے۔ انہیں ہر وقت یہ خیال ستاتا رہتا ہے کہ انہوں نے بے گناہ لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارا ہے۔ ضمیر کی اس خلش کو فوج نے بعد از صدمہ ذہنی دباﺅ Post traumatic stress disorder PTSDکا نام دے دیا ہے۔ لیکن یہ سیدھا سارا خونِ ناحق پر ضمیر کی خلش ہے اور یہ خلش روز بروز بڑھتی چلی جا رہی ہے۔

ڈرون حملوں میں نشانے کا تعین کرنے اور میزائل حملے کے بعد کی تصاویر وغیرہ لینے والے ایک کیمرہ مین Brandor Bryantنے این بی سی سے ایک انٹرویو میں ضمیر کی اسی خلش کا ذکر کیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اس نے میزائل کا نشانہ بننے والے تین افغانوں کے بہتے ہوئے خون کی تصویریں Thermal images ٹیکنالوجی سے دیکھیں تو پہلے اسے بہتا ہوا زندہ خون نظر آیا، ایک کی دائیں ٹانگ کٹ گئی اور پھر یہ خون اور یہ لاشیں ٹھنڈی پڑگئیں۔ برائنٹ کا کہنا ہے کہ وہ آنکھیں بند کرتا ہے تو یہ مناظر اس کے سامنے آ جاتے ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ جن تینوں کو اس نے پہلے روز نشانہ بنایا وہ حقیقتاً جنگ جو تھے۔ وہ امریکی فوجوں کے قریب بھی نہیں تھے۔ وہ کوئی ایسی حرکت بھی نہیں کر رہے تھے جس سے پتہ چلتا کہ کوئی جنگی کارروائی کر رہے ہیں۔ وہ تو کسی معاملے پر آپس میں بات چیت یا شاید بحث کر رہے تھے۔ برائنٹ 2006ءسے 2011ءتک نیو ادا اورنیو میکسیکو میں ڈرون آپریٹر کے طور پر کام کرتا رہا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اسے تربیت دے کر جب کام پر لگایا گیا تو اسے یہ کہا گیا تھا کہ یہ نہایت دلچسپ اور ولولہ انگیز کام ہوگا جیمز بانڈ کی فلموں کی طرح وہ ایک کمرے میں بیٹھ کر جاسوسوں کو راہنمائی فراہم کرے گا۔ لیکن برائنٹ کا کہنا ہے کہ یہ جیمز بانڈ کی مہم جوئی تھی نہ یہ وڈیو گیم تھی یہ زندہ انسانوں کا قتل تھا۔ جس دن اس نے نوکری چھوڑی اسے ایک کاغذ دیا گیا جس پر لکھا ہوا تھا کہ اب تک اس نے 1626انسانوں کا شکار کیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اس کے دل سے زندگی کا احترام اٹھ گیا ہے اور لوگ اسے قابل نفرت سمجھتے ہیں۔ جب اس نے ایک عورت کو بتایا کہ وہ ڈرون آپریٹر تھا تو عورت اس سے کنی کترا گئی۔ برائنٹ کہتا ہے کہ ایک بار میزائل فائر ہونے سے قبل اس نے اپنے کمپیوٹر کی سکرین پر ایک بچے کی جھلک دیکھی، لیکن بعد میں اسے کہا گیا۔ نہیں کوئی بچہ نہیں تھا وہ کسی کتے کی جھلک تھی۔ وہ اپنی اور اپنے ساتھیوں کی شقاوت قلبی کا ذکر کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ہم نے دیواروں پر کئی تصویریں لگا رکھی تھیں اور روزانہ ہم یہ کہا کرتے تھے دیکھیں ان میں سے کون سا .... (گالی) آج ہمارا شکار ہوتا ہے۔

این بی سی کے رچرڈ اینگل اور رابرٹ ونیڈرم کی رپورٹ کے مطابق سی آئی اے کی خفیہ دستاوےزات جو سامنے آئی ہیںان کے مطابق پاکستان میں چودہ (14) ماہ کے دوران ڈرون حملوں میں ہلاک ہونے والوں کے بارے میں سی آئی اے کو ہمیشہ یہ معلوم نہیں ہوتا تھا کہ کسے مار دیا گیا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق 3 ستمبر 2010ءسے 30اکتوبر 2011 ءتک ڈرون حملوں میں مارے جانے والے ہر چار افراد میں سے ایک ایسا ہوتا تھا جسے دوسرے جنگ جو کے کھاتے میں ڈال دیا جاتا رہا ہے۔ رپورٹ میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ ان کے بارے میں سی آئی اے یا امریکہ کِس طرح دعویٰ کرسکتا ہے کہ وہ امریکہ کے لئے خطرہ تھے۔ اس رپورٹ کے مطابق محض شبہے کی بناءپر دہشت گرد قرار دے کر لوگوں کو مارا جاتا رہا ہے اور وائٹ ہاﺅس کے ایک سابق افسر کا کہنا ہے کہ محض لوگوں کو ان کے طرز عمل آنے جانے یا کسی اور وجہ سے حرکات کو مشکوک قرار دے کر نشانہ بنا دیا گیا۔ اور لوگوں کو محض ”واقعاتی شہادتوں“ پر موت کے گھاٹ اتار دیاگیا۔ اس افسر کے مطابق سی آئی اے نے ڈرون حملوں کے بارے میں ایسی خوش نما Rosy Pictureتصویر بنا رکھی تھی کہ انہوں نے اس میں گنتی کرتے ہوئے کسی ”خطا“ یا چوک کو یکسر نظر انداز کئے رکھا۔

این بی سی نے جن دستاویزات کا معائنہ کیا ہے ان کے مطابق اگرچہ اوباما انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ اس نے ڈرون حملوں میں القاعدہ کے رہنماﺅں یا طالبان کے سینئر رہنماﺅںکو نشانہ بنایا لیکن ان دستاویزات ہی کے مطابق چھبیس حملوں میں سے ایک چوتھائی مرنے والوں کو محض ”دوسرے جنگ جو“ قرار دیا گیا ہے گویا ان کی کوئی شناخت نہیں تھی۔ جبکہ چار دوسرے حملوںمیں مرنے والوں کو غیر ملکی لڑاکا .... Foreign Fightersقرار دیا گیا۔ اکثر حملوں میں مرنے والوں کی صحیح تعداد تک معلوم نہیں تھی۔ ایک انٹری کے سامنے درج ہے کہ سات سے دس تک لوگ مارے گئے ایک اور انٹری کے مطابق بیس بائیس افراد ہلاک ہوئے۔ اس کے باوجود امریکی انتظامیہ کی ڈھٹائی دیکھئے کہ کہا گیا کہ مارے جانے والوں میں کوئی ایک بھی ایسا نہیں تھا جو ہم سے برسر جنگ نہ ہو۔ چھ سو مارے جانے والوں میں سے صرف ایک کو ”عام شہری“ تسلیم کیا گیا ہے۔ Micah Zenko جو وزارت خارجہ میں پالیسی ایڈوائزر تھے اور اب فارن ریلیشنز کونسل میں ڈرون ایکسپرٹ ہیں، کہتے ہیں کہ یہ ناقابل یقین ہے کہ اتنے مارے جانے والوں میں سے صرف ایک ”عام شہری“ تھا۔ جو لوگ فضائی طاقت کے استعمال سے واقف ہیں وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ اس طاقت کے استعمال سے کیسے عام شہری مارے جاتے ہیں اور مارنے والوں کو اس کا اچھی طرح علم ہوتا ہے کہ ان کے ہاتھوں ”عام شہری“ مارے جا رہے ہیں“۔

سی آئی اے کے حکام نے ان حملوں کے بارے میں بتایا کہ ایک وہ ہوتے ہیں جن میں کسی خاص شخصیت کے بارے میں جاسوسی اطلاعات ہوتی ہیں نگرانی ہوتی ہے اور نشان دہی ہوتی ہے پھر اس پر حملہ کیا جاتا ہے۔ جبکہ بعض دوسرے حملے Signature Strikes ہوتے ہیں جو محض مشکوک نقل و حرکت کی بناءپر کئے جاتے ہیں اور پاکستان میں 2009ءسے 2010ءتک نصف سے زیادہ Signature Strikes تھے۔ یعنی اندھا دھند حملے۔

امریکی کاﺅنٹر ٹیررازم کے آدھ درجن حاضر سروس افسران نے کہا کہ ان اندھا دھند حملوں میں سے اکثر میں ”جنگ جو“ ہی مارے جاتے ہیں۔ لیکن اکثر حکام کو اس بارے میں علم نہیں ہوتا کہ یہ امریکہ کے معروف جنگ کوک تھے۔ ان افسران نے کہا کہ اکثر ان حملوں کے قانونی اور اخلاقی جواز پر بحث ہوتی رہی ہے لیکن پالیسی میں کوئی واضح تبدیلی نہیں آئی ہے۔ جنوری 2009ءسے مئی 2010ءتک انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر رہنے والے ریٹائرڈ ایڈمرل ڈینس بلیئر نے ان اندھا دھند حملوں پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا تاہم انہوں نے کہا کہ عراق اور افغانستان میں جہاں امریکی فوجیں موجود ہوں وہاں ان حملوں کا جواز اسی طرح ہے جس طرح توپ خانے یا ہوائی حملوں کا جواز ہے۔

بش انتظامیہ نے ڈرون حملوں کو محض اس لئے قانونی قرار دیا تھا کہ یہ جنگ کی صورت حال ہے۔ اوباما انتظامیہ اس دلیل کے ساتھ انہیں قانونی قرار دیتی ہے لیکن اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل اور دوسرے عالمی ادارے اس جواز کو تسلیم نہیں کرتے۔ اوّل تو امریکہ نے عراق، افغانستان حملوں کے لئے دوسرے کئی جواز تراشے لیکن باقاعدہ اعلان جنگ نہیں کیا۔ دوسرے اگر حالت جنگ کو جواز مان بھی لیا جائے تو پاکستان جنگ میں امریکہ کا حلیف ہے یا امریکہ نے پاکستان کے خلاف اعلان جنگ کر رکھا ہے۔ اگر پاکستان کے خلاف جنگ نہیں ہے تو پاکستان کی حدود میں کسی مداخلت، کسی حملے یا کسی ہلاکت کا کوئی اخلاقی اور قانونی جواز نہیں ہے۔ اگر امریکہ سمجھتا ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف بھی برسر جنگ ہے تو پھر پاکستان سے نیٹو سپلائی اور دوسری سہولتوں کا کیا جواز ہے اور اگر پاکستان کے ساتھ حالت جنگ ہے تو پھر پاکستان کو اخلاقی اور قانونی طور پر یہ حق حاصل ہو جاتا ہے کہ پاکستان کے خلاف برسر جنگ ملک کو اپنی سرحدوں میں مداخلت سے روک دے یا ڈرون کو گرا کر خواہ کسی دوسرے طریقے سے یا کسی دباﺅ سے۔

اس سلسلے میں پاکستان کا کیس مضبوط ہے اور امریکہ کی پوزیشن روز بروز کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ میں ان بعض تجزیہ نگاروں سے ہرگز اتفاق نہیں کرسکتا جو ڈرون گرانے کو ہی واحد حل سمجھتے ہیں اور پھر اس کے نتائج سے بھی ڈراتے ہیں اور امریکی ٹیکنالوجی کی تعریف و توصف میں زمین و آسمان کے قلابے بھی ملاتے ہیں۔ یقین مانئے امریکہ شمالی کوریا اور ایران پر حملہ کرنے کے لئے ایک سو ایک بار سوچتا ہے عراق کے بارے میں ڈی ایم ڈی کے نہ ہونے کا یقین ہونے کے بعد ہی حملہ کرتا ہے اور افغانستان کے بارے میں یہ جانتا ہے کہ اس کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ طالبان اسے بھڑوں کی طرح چیک جاتے تو پھر پریشانی اٹھانا پڑتی ہے۔ امریکی ڈرون گرانے سے امریکہ ہرگز پاکستان پر حملہ نہیں کرے گا۔ بلکہ امریکہ اس کی نوبت ہی نہیں آنے دے گا۔ اگر پاکستان کی نئی حکومت اس مسئلے کو ڈھنگ سے لیکن پورے زور سے اٹھائے اور امریکہ کو دیجانے والی سہولتوں کو اس سے مشروط کر دے تو امریکہ کوئی خوبصورت سا بہانہ بنا کر ڈرون حملے بند کر دے گا۔ یہ تو کسی وقت بھی کہا جاسکتا ہے کہ ہم نے مشن میں کامیابی حاصل کرلی ہے اب ہماری فتح کے بعد ان کا خاتمہ ہی بہتر ہے۔ امریکہ کی تاریخ یہی ہے۔ اس کے دامن میں ایسے کامیاب مشنز اور ایسی فتوحات کی کوئی کمی نہیں ہے وہ ایک اور ایسی ہی کامیابی بھی ہنسی خوشی برداشت کرلے گا۔ لیکن اوباما کے دور میں اور آئندہ انتخابات سے پہلے پہلے پاکستان کو یہ مقصد حاصل کرنا ہوگا۔   ٭

مزید : کالم


loading...