صوبائی بجٹ....ترقی وخوشحال کا زینہ

صوبائی بجٹ....ترقی وخوشحال کا زینہ
صوبائی بجٹ....ترقی وخوشحال کا زینہ

  



صوبائی حکومت نے جنوبی پنجاب کی ترقی و خوشحالی اور پسماندہ علاقوں کو ترقی یافتہ علاقوں کے برابر لانے کے لیے جامع اور عملی اقدامات اٹھائے ہیں اور آئندہ بجٹ میں صوبے کے کل ترقیاتی بجٹ کا 36فی صد حصہ جنوبی پنجاب کے اضلاع کے لیے مختص کیاہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ماضی میں جنوبی پنجاب سے وفاقی اور صوبائی سطح پر کئی سیاستدانوں اہم عہدوں پر فائز رہے اور انہوں نے ان علاقوں کی ترقی پر کوئی توجہ نہیں دی اور نہ ہی یہاں کے عوام کی محرومیوں کو کم کرنے کے لیے کوئی ٹھوس کام کیا۔ یہ کریڈٹ بھی وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف کو جاتاہے کہ انہوں نے جنوبی پنجاب کی ترقی کے لیے 263ارب روپے کے منصوبے شروع کئے ہیں اور آئندہ بجٹ میں ان منصوبوں پر اخراجات کے لیے119۔ ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی ہے۔ جنوبی پنجاب میں صحت کے منصوبوں پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی ہے جن میں رحیم یار خان میں شیخ زید میڈیکل کالج کی تکمیل،بہاولنگرمیں میڈیکل کالج کا قیام، بہاول و کٹوریہ ہسپتال میں تھیلسیمایونٹ، بون میرو ٹرانسپلانٹ ، امراض قلب و ہارٹ سرجری کے شعبوں کا قیام ملتان، وہاڑی، ڈی جی خان اور مظفرگڑھ میں ضلعی ہسپتالوں کی اپ گریڈیشن اور ملتان میں چلڈرن ہسپتال کا قیام شامل ہے۔ اس کے علاوہ رحیم یارخان میں خواجہ فرید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی، ملتان میںصوبے کی طویل ترین میٹروبس، بہاولپور میں پہلے سولر پارک کاقیام، سلیمانکی بیراج اور پاکپتن کینال کی بحالی و تعمیر نو، بہاولپور تا حاصل پور دور ویہ سڑک کی تعمیر، فورٹ منرومیں سیاحتی مقام کے لیے چیئرلفٹ، فورٹ منرو تونسہ میں دانش سکولوں کا قیام اور بہاولپور میں وٹرنری یونیورسٹی قائم کی جائیں گی۔

یقینا ان منصوبوں کی تکمیل کے بعد وہاں کے مکینوں کو صحت عامہ اور تعلیم کی جدید سہولیات دستیاب ہوں گی اور اب اعلیٰ تعلیم کے لیے سنٹرل پنجاب کا رخ نہیں کرنا پڑے گا۔ اس کے علاوہ جنوبی پنجاب کے امیدواروں کے لیے بہاولپور اور ڈیرہ غازی خان میں پنجاب پبلک سروس کمیشن کے دفاتر ،امتحانی مراکز اور ملتان اور بہاولپور میں بورڈ آف ریونیو کے دو اراکین کی مستقل تعیناتی کا فیصلہ بھی کیاہے۔ پنجاب حکومت تعلیم کی اہمیت سے بخوبی سے آگاہ ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کا وژن ہے کہ تعلیم کے حصول کے بغیر دہشت گردی پر قابو نہیں پایا جاسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ نئے بجٹ میں274ارب رکھے ہیں جو کہ ضلعی اور صوبائی حکومت کے کل اخراجات کا 26. 25فی صد ہے۔ آئندہ مالی سال میں حکومت نے پنجاب ایجوکیشنل انڈوومنٹ فنڈ کے لیے2۔ ارب روپے رکھے ہیں جبکہ دانش سکولوں کے لیے بھی 2۔ ارب روپے مختص کئے ہیں۔ آنے والے مالی سال میں میلسی، لودھراں، جھنگ،تونسہ اور فورٹ منرو میں پانچ دانش سکول قائم کئے جائیں گے۔ اسی طرح پنجاب ایجوکیشن فاﺅنڈیشن کے لیے7۔ارب 50کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ سپیشل ایجوکیشن اور خواندگی کی ترویج کے لیے مجموعی طور پر 3۔ ارب 20کروڑ روپے اور کھیلوں کی ترقی کے لیے عدم دستیاب سہولتوں کی فراہمی کے لیے ایک ارب 25کروڑ جبکہ آئی ٹی لیب کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے لیے ایک ارب 20کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ صوبے میں نئے کالجوں کے قیام کے لیے 3۔ارب 42کروڑ روپے، ہونہار طلبا کو میرٹ پرایک لاکھ لیپ ٹاپ دینے کے لیے 3۔ارب 50کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔

دوسرے شعبوں کی طرح حکومت نے صوبے کے عوام کو علاج معالجہ کی سہولیات کی فراہمی کے لیے خصوصی اقدامات کئے ہیں اور نئے مالی سال میں 121۔ ارب روپے کا تخمینہ لگایا گیاہے۔ جو صوبائی اور ضلعی حکومتوں کے کل اخراجات کا 11.66فی صد ہے۔ ہیلتھ انشورنس کے شعبے کے لیے 4۔ ارب روپے رکھے گئے ہیں جس سے کم آمدنی والے افراد کو سرکاری و نجی ہسپتالوں میں علاج کی مفت سہولیات ملیں گی۔ ہسپتالوں اور علاج معالجہ کی سہولیات کے لیے47ارب 44کروڑ ، ماں بچے کی صحت کے لیے ایک ارب 80کروڑ، ادویات کی فراہمی کے لیے8۔ ارب 75کروڑ روپے، موبائل ہیلتھ یونٹس کے لیے ایک ارب روپے رکھے گئے ہیں ۔جگر اور گردے کی پیوند کاری اور کینسر کے علاج معالجے کے لیے نئے ہسپتالوں کی تعمیر کا منصوبہ بھی پروگرام میں شامل ہے۔

ملک کو اس وقت دہشت گردی کے چیلنج کا سامنا ہے ۔ اس ناسور پر قابو پانے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جدید اسلحہ سے لیس کرنا، ان کی بین الاقوامی معیارکے مطابق تربیت ، حساس آلات کی فراہمی اور سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ حکومت ان تمام حالات کاادراک رکھتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ بجٹ میں 81۔ ارب 68کروڑ روپے اس مقصد کے لئے رکھے گئے ہیں جو گزشتہ سال کے مقابلے میں16فی صد زیادہ ہیں۔ علاوہ ازیںحکومت نے دہشت گردی سے نمٹنے اور امن عامہ کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے 5۔ ارب روپے کی رقم رکھی ہے۔

پنجاب کے عوام صاف پانی کی سہولت سے محروم ہیں۔ ایک وہ طبقہ ہے جو منرل واٹر استعمال کرتاہے جبکہ دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو تالابوںاور جوہڑوں سے پانی پیتے ہیں۔ حکومت نے صوبے کے عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور نکاسی آب کے منصوبے کے لیے مجموعی طور پر 17۔ ارب 11کروڑ روپے کی خطیر رقم رکھی ہے۔ اس کے علاوہ صاف پانی کی فراہمی کے لیے ایک میگا پراجیکٹ تیار کیاگیا ہے جس کے لیے 5۔ ارب روپے کی رقم رکھی گئی ہے۔

حکومت نے زرعی شعبے کی ترقی اور کاشتکاروں کی بہبود کے لیے 14۔ ارب 97کروڑ مختص کئے ہیں اور یہ رقم دوآب ایریگیشن ، لیزر لینڈلیونگ اور کھالوں کو پختہ بنانے پر صرف کی جائے گی۔ اسی طرح کاشتکاروں کو کھاد کی فراہمی کے لیے 5۔ ارب روپے کی خطیر رقم رکھی ہے۔ بجلی اور ڈیزل سے چلنے والے20ہزار ٹیوب ویلوں کا بائیو گیس پر منتقل کرنے کے لیے ایک ارب87کروڑ روپے خرچ کئے جائیں گے جس سے ایندھن کی مد میں4۔ ارب روپے کی بچت ہوگی۔ پنجاب کا نہری نظام زرعی معیشت کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھتاہے۔ نہری نظام کو بہتر بنائے بغیر زرعی خود کفالت کا تصور ناممکن ہے۔ حکومت نے نہری نظام کی بحالی، نہروں کی دیکھ بھال اور آبی وسائل کی ترقی کے لیے50ارب80کروڑ روپے رکھے ہیں۔ اسی طرح مواصلات و تعمیرات کے شعبے کے لیے 39۔ ارب 56کروڑ روپے رکھے ہیں۔ راولپنڈی، اسلام آباد، میٹرومنصوبے کا آغاز ہوچکاہے جس پر41ارب 40کروڑ روپے لاگت آئے گی۔ ملتان میٹرومنصوبے پر30۔ ارب روپے خرچ کئے جائیں گے۔ اس کے علاوہ چین کی سرمایہ کاری سے صوبائی دارالحکومت میں اورنج ٹرین کا منصوبہ شروع کیا جائے گا۔ غریب آدمی کو اپنا گھر فراہم کرنے کے لیے بھی اقدامات کئے گئے ہیں اور آئندہ مالی سال میں مزدوروں کے لیے20ہزار گھر بنائے جائیں گے جبکہ آشیانہ کی چارنئی سکیمیں بھی شروع کی جائیں گی۔

حکومت بے روزگار نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی کے لیے تمام وسائل بروئے کار لارہی ہے۔ ییلو کیب سکیم کی کامیابی کے بعد اسے دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور آئندہ بجٹ میں اس مدمیں 25۔ ارب روپے رکھے ہیں جس سے50ہزار مزید ییلو کیب بے روزگار نوجوانوں کو دی جائیں گی جس سے 50ہزار نوجوانوں کو روزگار دستیاب ہوگا۔ اس کے علاوہ خود روزگار سکیم کے تحت بلا سود قرضوں کی فراہمی کے لیے 2۔ارب روپے مختص کئے جارہے ہیں۔ حکومت نے آئندہ چار سالوں میں روزگار کے چالیس لاکھ مواقع پیدا کرنے کی حکمت عملی تیار کی ہے اور اس دوران 20لاکھ افراد کو فنی تعلیم دی جائے گی۔ تربیت کے اس پروگرام کے لیے6۔ ارب روپے رکھے جارہے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک میں ٹیکس دینے کا رجحان بہت کم ہے ہر کوئی چاہتاہے کہ ٹیکس نہ دیا جائے مگر اس کے بغیر ملک کی معیشت کو مضبوط، مستحکم اور توانا نہیں کیا جاسکتا۔ اگر ہم دوسرے ملکوں کے ٹیکس نظام پر نظر ڈالیں تو صورتحال قابل رشک ہے۔ ہر فرد ایمانداری سے اپنا حصے کا ٹیکس ادا کرتا ہے جس سے حکومت کے محاصل میں اضافہ ہوتاہے اور یہی ٹیکس عوام کی ترقی پر خرچ کئے جاتے ہیں۔ پاکستان کے عوام کی اکثریت کی رائے ہے کہ حکومت ٹیکسوں سے حاصل ہونے والے آمدنی کو عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ نہیں کرتی بلکہ اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتی ہے۔ حکومت اور عوام دونوں کو اس سلسلے میں ایمانداری سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ حکومت نے موجودہ ٹیکسوں کی وصولی کے نظام کو بہتر بنانے اور ٹیکس چوروں کے سدباب کے لیے ٹیکس اصلاحات متعارف کی ہیں۔ امید کی جاتی ہے کہ حکومت کے اس اقدام سے بہتری آئے گی۔ ان اقدامات سے کم از کم 15 ارب روپے کی اضافی محاصل کی توقع کی گئی ہے۔ اس بجٹ کے ذریعے حکومت نے محلات، لگژری گاڑیوں پر ٹیکس لگا کر اشرافیہ سے رقم لے کر ترقی کا رخ غریب عوام کی طرف موڑ دیاہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومت نے بجٹ میں تمام شعبوں کا احاطہ کیا ہے اور ہرشعبے کی ترقی کے لئے خطیر رقوم مختص کی ہیں لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ ان پر خلوص نیت اور ایمانداری سے عمل کیا جائے ۔خصوصا ٹیکس ریکوری کے لئے فرض شناس اور اہل افسران تعینات کئے جائیں اس کے علاوہ سیاسی قیادت کو یہ بات ذہن میں رکھنی ہوگی کہ وہ کسی ایسے شخص کی سفارش نہ کریں جو ٹیکس نادہندہ ہے-امید کی جاتی ہے کہ حکومت نے آئندہ چار سال کے لئے جو اہداف مقرر کئے ہیں ان سے صوبے میں خوشحالی آئے گی، عوام کا معیار زندگی بلند ہوگا، پنجاب کی معیشت مضبوط و مستحکم ہوگی- ٭

مزید : کالم