”قصّہ نصف صدی کا“:پی ٹی وی کا پروگرام اور طارق عزیز

”قصّہ نصف صدی کا“:پی ٹی وی کا پروگرام اور طارق عزیز
”قصّہ نصف صدی کا“:پی ٹی وی کا پروگرام اور طارق عزیز

  

دو گھنٹوں کی طوالت پر مبنی پاکستان ٹیلی ویژن کا پروگرام ”قصہ نصف صدی کا“ ایک سے زیادہ بار دکھایا گیا اور مَیں نے بھی اسے ٹھیک اسی دلچسپی سے دیکھا،جس دلچسپی کے ساتھ پاکستان یا پاکستان سے باہر رہنے والے پاکستانیوں نے اسے دیکھا ہوگا۔ جناب بلکہ برادرم طارق عزیز اپنی پچاس برس کی ٹیلی ویژن کی رفاقت کے قصے سنا رہے تھے۔محترم فرخ بشیر(سابق جنرل منیجر لاہور) طارق عزیز کی دوسری خوبیوں کے علاوہ انہیں ایک گلوکار کی سند بھی دے رہے تھے اور مَیں یہ سوچ رہا تھا کہ شاید طارق عزیز آنے والے دنوں میں ٹھیک ٹھاک اور مصروف گلوکار کی حیثیت سے سامنے آئیں گے۔وہ اگر منظور کریں تو مَیں لاہور جم خانہ میں جناب پرویز بشیر آغا سے گزارش کروں کہ وہ آنے والے دنوں میں جم خانہ میں جب موسیقی کی کوئی محفل منعقد کرائیں تو طارق عزیز کو بطور خاص گلوکاری کے لئے دعوت دیں، تاکہ ایک اچھی اور بھرپور ابتدا ہو سکے۔ویسے تو یہ کام فرخ بشیر کے دست داست جناب جبار صاحب بھی کر سکتے ہیں، لیکن سنا ہے کہ جب سے انہوں نے سری لنکا سے اپنے لئے نئی آنکھوں کا بندوبست کرلیا ہے،پرانی آنکھوں سے دیکھنے والے اپنے تمام لوگوں، حتیٰ کہ بیوی بچوں کو بھی بھلا بیٹھے ہیں۔

طارق عزیز اس پروگرام میں بتا رہے تھے کہ انہوں نے 1964ءمیں پاکستان میں ٹیلی ویژن کے آغاز سے پی ٹی وی کے اپنے نشان کے بعد اپنی تصویر کے ساتھ دیکھنے والی آنکھوں اور سننے والے کانوں کو اپنا سلام پیش کیا اور پہلے اناﺅنسر کی حیثیت سے پروگراموں کی تفصیل پیش کی۔اس سے قبل ریڈیو پاکستان سے تو وہ منسلک تھے ہی، لیکن ان کی پاکستانی دلیپ کمار جیسی موہنی صورت لوگوں کے سامنے اس وقت آئی، جب پاکستان یعنی مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان دونوں میں پی ٹی وی نے پہلی بار اپنے پروگراموں کا آغاز کیا۔صدر ایوب خان کی وساطت سے یہ آغاز لاہور سٹیشن سے ہوا ،پھر ڈھاکہ ، اسلام آباد، کراچی، پشاور، کوئٹہ وغیرہ سے بھی اس کا آغاز کیا گیا۔ طارق عزیز نے جہاں ریڈیوپاکستان کو خیر باد کہا، وہاں انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کی اس سیاسی پارٹی کو بھی چھوڑا جو انہوں نے روٹی، کپڑا اور مکان خود لینے اور پاکستان کے کروڑوں لوگوں کو بھی دلوانے کے لئے بنائی تھی۔وہ برادرم نذیر ناجی سے بھی دو قدم زیادہ پُرجوش جیالے تھے جو معراج محمد خان کے ساتھ نکلتے تو خود کو معراج محمد سے بھی زیادہ بڑا لیڈر قرار دیتے، بلکہ اپنے اس اقدام پر ڈٹے بھی رہتے۔

پرانی یادوں کا ذکر بھی عجیب افیون نما نشہ ہے۔خود مَیں نے بھی 1967ءمیں جب پی ٹی وی کراچی کا سٹیشن قائم کیا گیا۔طارق عزیز کے ساتھ بطور اسسٹنٹ پروگرام پروڈیوسر تھوڑے عرصے کے لئے کام کیا ہے۔اس وقت زیڈ اے بخاری مرحوم آل انڈیا ریڈیو کے سابق ڈائریکٹر جنرل اور ریڈیو پاکستان کے بھی پہلے ڈائریکٹر جنرل، جنرل منیجر کراچی ٹی وی تھے۔ پی ٹی وی ٹیلی کاسٹ ابھی شروع نہیں ہوئی تھیں، بلکہ ابھی صرف سٹیشن قائم کرکے مشینری لگائی جا رہی تھی اور عملہ بھرتی کیا جا رہا تھا۔مرحوم مختار صدیقی پروگرام منیجر تھے اور جناب سلیم سکرپٹ انچارج تھے۔طارق عزیز وہاں نئے بھرتی ہونے والوں کو کلاس روم میں کام سکھاتے تھے اور تربیتی لیکچر دیتے تھے۔خود زیڈ اے بخاری بھی کلاسیں لیتے تھے۔آل انڈیا ریڈیو کے ہزاروں کی تعداد میں نشر کئے جانے والے ڈراموں کے پرانے سکرپٹ ٹرنکوں میں بھر کر وہاں لائے گئے تھے۔مختار صدیقی ان میں سے سینکڑوں کی تعداد میں ڈرامے چن چن کر سکرپٹ سیکشن کو دے رہے تھے، جہاں سلیم صاحب کی یہ ڈیوتی تھی کہ ان میں سے وہ ہندی اداکاروں کے نام بدل دیں اور نئے سرے سے یہ ڈرامے لکھوائیں، کیونکہ یہ تمام ڈرامے سبق آموز کہانیوں اور مرکزی خیالوں پرمبنی تھے۔

مثال کے طور پر شکنتلا۔مدھو، گیتا، سیتا، آشا، لتا دیوی، اجے گھنشام، راہونی موہن وغیرہ کو تبدیل کرکے اسلامی نام رکھ دیئے جائیں اور مرکزی خیال وہی رہنے دیا جائے۔یہ وہ عرصہ تھا جب کلاس روم میں ہی طارق عزیز کی جھڑپ اپنے جی ایم زیڈ اے بخاری سے ہو جاتی تھی اور ان کی بعض باتوں سے اختلاف رائے کھل کر سامنے لاتے تھے۔مَیں چونکہ کراچی میں روزنامہ ” کوہستان“ کا دفتر بھی چلاتا تھا، اس لئے میری یہ دوہری نوکری پی ٹی وی انتظامیہ کو پسند نہیں تھی ،لہٰذا جلد ہی مَیں نے اس دفتر کو خیر باد کہہ دیا تھا، تاہم طارق عزیز کراچی ٹیلی ویژن کی نشریات شروع ہونے کے بعد بھی وہاں رہے۔وہ وہاں کے قصے بیان کررہے تھے۔اس پروگرام میں یادوں کے حوالے سے پی ٹی وی کراچی کے سابق جی ایم قاسم جلالی نے بھی باتیں کیں۔انہوں نے طارق عزیز کی تعریف کرتے ہوئے بتایا کہ ان دنوں جبکہ پروگرام ریکارڈ کرنے کی بجائے براہ راست چلائے جاتے تھے،طارق عزیز کو سخت محنت کرنا پڑتی تھی۔پروگرام شروع کرنے کے بعد کسی اداکار یا کردار نے آنا ہوتا تھا اور اسے آنے میں تاخیر ہوجاتی تو طارق عزیز دیکھنے والوں کو اپنی ایسی باتوں میں لگا لیتے کہ تاخیر محسوس ہی نہیں ہوتی تھی ، یوں تاخیر کا عرصہ کمال خوبی سے ازخود نکل جاتا تھا۔

ٹیلی ویژن انتظامیہ کے ساتھ ہی جو تبدیلیاں عموماً پروگراموں اور کام کرنے والوں میں کی جاتی ہیں اور نئی انتظامیہ کس کس طرح نئے پروگرام سامنے لاتی ہے۔ طارق عزیز بتا رہے تھے کہ ان کا پروگرام نیلام گھر بے حد مقبول ہوا تو وہ بھی اس کی طوالت اور پوری دنیا میں ریکارڈ بنانے کے حوالے سے بہت سے ہم عصر لوگوں میں کھٹکنے لگے۔یوں کئی دور ایسے بھی آئے کہ ان کا یہ پروگرام بند کر دیا گیا۔خاص طور پر جب 1993ءمیں میاں نوازشریف کی حکومت میں تبدیلی ہوئی اور محترمہ بے نظیر بھٹو دوسری مرتبہ وزیراعظم چن لی گئیں۔یوں 1994ء میں پی ٹی وی انتظامیہ بدل گئی تو ان کا پروگرام نیلام گھر بند کر دیا گیا۔اتفاق کی بات ہے کہ جب طارق عزیز کا یہ پروگرام بند ہوا، یہ خادم بھی نوکری کے سلسلے میں بنگلہ دیش کے پاکستانی سفارت خانے ڈھاکہ میں پریس منسٹر کے طور پر تعینات تھا۔ان دنوں طارق عزیز اپنا پروگرام سارک کے ممالک میں پیش کرنے کے سلسلہ میں بنگلہ دیش میں اپنی ٹیم کے ہمراہ آئے ہوئے تھے۔محترم فرخ بشیر بھی ان کے ہمراہ تھے۔وہاں بنگلہ دیش ٹی وی کے تعاون سے بہت اچھے پروگرام پیش کئے گئے۔

سفارت خانے نے دعوت نامے خود تقسیم کرائے، تاکہ بھارتی لابی جعلی دعوت نامے تقسیم نہ کرا سکے اور وہاں کوئی بدنظمی نہ ہو سکے۔رش اس قدر زیادہ تھا کہ لوگ سیڑھیوں میں بیٹھ کر طارق عزیز کا یہ پروگرام دیکھتے رہے۔سفیر محترم کرم الٰہی نے پروگرام جو تین دن یا شاید دو روز کا تھا، ختم ہونے کے بعد انہیں رات کو سفارت خانے میں بھی اپنی ٹیم سمیت کھانے پر مدعو کیا، اگلے روز جب وہ پاکستان واپسی کی تیاری کررہے تھے تو ٹیم کو بتایا گیا کہ طارق عزیز کا یہ پروگرام بند کر دیا گیا ہے، کیونکہ رعنا شیخ نئی ایم ڈی لگا دی گئی ہیں اور سیکرٹری خارجہ نجم شیخ کی یہ بیگم صاحبہ ،جو خود بھی ٹیلی ویژن میں پروڈیوسر رہی تھیں، اب ایم ڈی بن کر سب سے زیادہ کمائی والے اور سب سے اچھے پروگرام کو پسند نہیں کرتیں، لہٰذا اسے بند کر دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔کہاں محترمہ بے نظیر بھٹو کا باپ ذوالفقار علی بھٹو ،جو خود طارق عزیز کو پارٹی میں لایا تھا اور کہاں اب اس کی بیٹی کہ طارق عزیز کا تعلق نوازشریف سے جوڑ کر اس کا پروگرام بند کرا دیا۔

مَیں نے اس تمام قصے کو ایک خط کے ذریعے جو چودھری شجاعت حسین کے ذریعے بھیجا،میاں نوازشریف کو درخواست کی کہ آپ اب اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے خود کو مضبوط کریں۔پارٹی کا ایک اہم مقرر شیخ رشید بہاولپور جیل میں قید ہے، لہٰذا آپ اپنے جلسوں کے لئے برادرم طارق عزیز کو اپنے قریب لائیں، چنانچہ طارق عزیز کو میاں نوازشریف نے بلوا لیا اور پھر وہ ہر جلسے کی رونق بن گئے۔ہر دل عزیز تو وہ تھے ہی، اپوزیشن کے جلسوں کو ہر جگہ بے حد کامیابی ملی ، پھر جب الیکشن 1997ءآیا تو پنجاب سے ہمیشہ کے لئے پیپلزپارٹی کا صفایا ہوگیا، جو آج کے دن تک جاری ہے۔میاں نوازشریف نے 1997ءمیں جن جن ”کھمبوں“ اور لوگوں کو پارلیمنٹ کے لئے ،یعنی قومی اسمبلی کے لئے ٹکٹ دیئے، ان میں لاہور سے طارق عزیز کو بھی ٹکٹ ملا اور وہ پارلیمنٹ کے رکن بن گئے۔اپنی ان یادوں کو بھی وہ تفصیل سے اس پروگرام میں بیان کر رہے تھے، اس گفتگو کے دوران جو باتیں انہیں بھول گئی تھیں، مَیں نے اپنے اس کالم میں ان کی کمی پوری کردی ہے۔”قصہ نصف صدی کا “پروگرام کو نورالحسن نے بہت خوبی سے پیش کیا اور دیکھنے والوں نے اسے بہت پسند کیا۔  ٭

مزید : کالم