’’باس ‘‘

’’باس ‘‘
 ’’باس ‘‘
کیپشن: dr nadeem gilani

  


سوچ سمندر جب من کے اندر ڈوب جائے تو پھر ایسا صحرا معرضِ وجود میں آتا ہے، جس سے ادراک کے دریا شرماتے اور شعور کے بادل آنکھیں چُراتے ہیں۔ شبِ سیاہ میں چاند کو کرنوں سمیت ڈھونڈنے والے لوگوں کو کون سمجھائے کہ اندھے شہر اور گونگی بستی میں آوازیں دم توڑ دیتی ہیں، تصویریں اپنی پہچان کھو دیتی ہیں، خیال کے آتش فشاں کو منظر کی یخ بستگی چُھولے تو عنوان برفاب ہو جاتے ہیں، تحریریں ٹھٹھر جاتی ہیں، طائر تخّیل کے پروں پر حال سے ماضی کی طرف سفر کرنے والے اس راز سے بے خبر ہوتے ہیں کہ وہ مستقبل کی شاہراہ پر گامزن ہیں۔ شوم�ئ قسمت یا عصری مجبوری ہے کہ میرے مشاہدے میں تاریخ کا وہ دور نہیں آیا جب محل سراؤں میں شمع دان روشن کئے جاتے تھے اور شمعِ فروزاں رات بھر شبستانوں کی زینت بنا کرتی تھی۔ اُس زمانے میں شمع کے گرد پرواز کرتے ہوئے پروانے جب اپنی جان کا نذرانہ پیش کرتے ہوں گے تو یہ منظر ضرور نئی دنیاؤں کا انکشاف کرتا ہو گا۔ مجھے اپنے اور اپنے اردگرد بسنے والے بدن باسیوں کے ظاہر و باطن کے مکمل خدوخال اپنے اُس خیال میں نظر آرہے ہیں جو خیال وج�ۂ مرقوم ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ کارخانۂ قدرت میں ہر چیز جوڑے کی شکل میں دکھائی دیتی ہے۔ مثبت منفی، زمین و آسمان ، جھوٹ سچ، بحر و بر، دائیں بائیں، غرضیکہ قدرت کا ہر شاہکار ایک جوڑے پر مبنی مرکب دکھائی دیتا ہے۔ دل دھڑکن کی طرح آپس میں جُڑے رشتے کبھی رگِ جاں سے بھی زیادہ قریب تر اور کبھی صدیوں کی آبلہ پامسافت پر بعید دکھائی دیتے ہیں۔

دنیا کے کم و بیش تمام معاشروں میں ’’باس‘‘ کا اصطلاحی ترجمہ ایک منتظم کے طور پر کیا جاتا ہے۔ یہ ترجمہ ’’انگ بولی‘‘ کے سوا دنیا کی تمام زبانوں میں ایک تعارف اور تعریف بن کر رہ گیا ہے۔ ہر غلط باس کو بھی ہمیشہ صحیح قرار دینے والے لوگ اس انگریزی مقولے سے متاثر دکھائی دیتے ہیں کہ ۔۔۔Boss Is Always Right۔۔۔حالانکہ ’’باس‘‘ غلط بھی ہو سکتا ہے۔ میرا دوست اطہر علی خان جو محکمہ تعلقات عامہ پنجاب کا ڈائریکٹر جنرل ہے وہ کہتا ہے کہ اس امر میں کوئی شک نہیں کہ ’’باس‘‘ غلط بھی ہو سکتا ہے۔ مگر وہ غلط ہونے کے باوجود صحیح مقام پر ہوتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ انگریزی دانوں کو غلطی لگی ہے، انہیں یہ محاورہ اس طرح بنانا چاہئے تھا کہ ۔۔۔Boss Is Always At Right ۔۔۔اطہر علی خان کی’’باڈی لینگوئج‘‘ بھی اس امرکا ابلاغ کررہی ہوتی ہے کہ وہ ہمہ وقت ’’باس‘‘ کے لباس میں ملبوس رہتا ہے۔ سرتاپا ’’باس‘‘۔۔۔ وہ ’’باس‘‘ کے موضوع پر لکھی جانے والی ایک ایسی کھلی کتاب ہے کہ جو اُسے غور سے پڑھ لے، وہ زندگی کے کسی بھی مشکل امتحان میں فیل نہیں ہو سکتا ۔ یہ الگ بات کہ کوئی اُسے پڑھنے میں فیل ہو جائے ۔

وہ کہتا ہے کہ ’’باس‘‘ ایک مقام کا نام ہے ۔ مقام جتنا اعلیٰ ہو گا ’’باس‘‘ اتنا ہی عمدہ ہوگا ۔ اُس کے خیالات آمرانہ بھی ہیں اور جفاکانہ بھی ۔وہ جفاکاری کو کامیابی کا راز گردانتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ مَیں ڈی جی پی آر ہوں، کوئی ڈی جی پروٹوکول نہیں، جو من کی شاہراہ پر آنے والی ہر کار کے بونٹ پر جھنڈا بن کر لہراتا پھروں، حالانکہ ڈی جی پروٹوکول اسجد غنی، جس کی دوستی میرے لئے ایک اثاثہ ہے، وہ پنجاب پروٹوکول آفس کا ’’ باس ‘‘ہے۔ وہ کہتا ہے کہ دنیا کا کوئی جھنڈا ڈنڈے کے بغیر نہیں لہرا سکتا۔ بحیثیت ’’باس‘‘ اُ س کا اپنا طرززندگی اور اپنا الگ تھلگ نقطۂ نظر ہے۔ وہ کہتا ہے کہ آفس، ریاست ، ادارہ یا مملکت چلانے کے لئے ڈنڈا قانون کی حیثیت رکھتا ہے اور اُس ڈنڈے پر لگا جھنڈا قانون کی بالادستی کا علمبردار ٹھہرتا ہے، جس سے ماتحتوں کو یہ پیغام ملتا ہے کہ قانون سلامت ہے، لہٰذا اطاعت لازم ہے۔ وہ کہتاہے کہ باس بننے کے لئے ماتحتی کی لمبی مسافتوں کا سفر اختیار کرنا پڑتا ہے ۔ گھومنے والی کرسی کو دیکھنا اور سوچنا اگرچہ کوئی جرم تو نہیں، مگر وقت سے پہلے اس کرسی پر جلوہ افروز ہونے کی بے قراری ، ذہنی خلفشار کاثبوت بن جاتی ہے ۔

یہ ایک بین الاقوامی دستور ہے کہ تب تک کوئی بھی آفس ، ادارہ یا ملک مثالی اہمیت کا حامل نہیں ہوسکتا، جب تک ماتحت کو یہ سبق نہ پڑھایا جائے کہ اس نے اپنے باس کی فرماں برداری اور اطاعت کو اپنی زندگی کا جزو لاینفک بنانا ہے ، اسی میں اس ماتحت کی ملازمت اوراُس کے مستقبل کی بقا بھی ہوتی ہے۔ آفس میں ایک متوازن ماحول بھی اسی کا مرہونِ منت ہوتا ہے۔ راقم الحروف کے خیال میں دنیا بھر کے تمام اداروں میں بھرتی کئے جانے والے افراد کو پہلے دن سے اس بات کا احساس دلایا جاتا ہے کہ انہیں اپنے باس کی نافرمانی کرنے کی پاداش میں نہ صرف ملازمت سے ہاتھ دھونے پڑیں گے، بلکہ سزا بھی بھگتنا ہوگی ۔ دنیا بھر کے کامیاب اداروں پر تحقیق کرنے والے اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ان اداروں کی کامیابی میں ایک ذہین اور دانشور ’’باس ‘‘کی صلاحیتوں کو جلا بخشنے میں اس کے اطاعت گزار ماتحتوں کا غیر معمولی کردار نظر انداز نہیں کیاجاسکتا۔ ’’باس‘‘ بے شک ایک مٹی کا بت ہی کیوں نہ ہو، اس کی اطاعت لازمی ہے ، کیونکہ مٹی کا وہ بت کسی بھی وقت حکم صادر کرنے کے لئے اپنے ساکت اور منجمد لبوں کو اذنِ تکلّم دے سکتا ہے ۔ اس کی خامشی میں بھی ماتحتوں کے لئے ایک پیغام ہوتا ہے اوراُس کی لب کشائی میں بھی ۔ وہ پیغام آنکھوں سے یا لبوں سے،فائل پر نوٹس لکھ کر دے یا نوٹ رکھ کر، ٹیلی فون پر دے یا موبائل پر ایس ایم ایس کے ذریعے اُس کے چہرے کے تاثرات اور اُس کی ’’باڈی لینگوئج‘‘ ماتحتوں کے لئے پیغام کا درجہ رکھتی ہے،کیونکہ آنکھیں بند کر کے بھی وہ ساری چیزیں دیکھ رہا ہوتا ہے، جس پر ماتحتوں کی نظر نہیں ہوتی اور آنکھیں کھول کر تو وہ ہر چیز دیکھ ہی لیتا ہے، جو ماتحت کی ظاہری آنکھ سے اوجھل ہوتی ہے۔ وہ بند آنکھوں سے دیکھنے، بند کانوں سے سننے اور بند لبوں سے بولنے کی اہلیت رکھتا ہے ۔ اس کا یہی وصف اسے ’’باس‘‘ بنا دیتا ہے ۔’’ باس‘‘ اُس وقت بھی جاگتا ہے، جب ماتحت سو رہے ہوتے ہیں اور اس وقت بھی سن رہا ہوتا ہے، جب ماتحت خاموش ہوتے ہیں۔

میرا دوست کرنل شاہد عباس کرمانی کہتا ہے کہ ’’باس ‘‘ کے خیال کی گھنٹیاں وجدان سے ٹکراجائیں تو وہ زیر نقاب چہروں کو بے نقاب کرنے کے لئے یہ بتانے کا ہنر بھی جانتا ہے کہ تندرستی کی حالت میں بیماری کی درخواست کس ماتحت نے کیوں لکھی ہے ؟ اسے اس بات کا بھی ادراک ہوتا ہے کہ مختصر چھٹیوں کی حاجت کس کو ہے اور زندگی سے بھی لمبی رخصت کون حاصل کرنا چاہتا ہے ؟اور کون چاہتا ہے کہ اسے گھر کی بجائے کہیں اور جانا ہے ۔ وہ کہتا ہے کہ’’ باس‘‘ میں یہ صلاحیت بھی ہوتی ہے کہ وہ ہاتھ دکھانے والے ماتحتوں کے قدموں کی چاپ سے اندازہ لگا لیتا ہے کہ کسے آج رخصت چاہئے اور کسے مہینہ ختم ہونے سے پہلے تنخواہ؟ میرا یہ خیال ہے کہ خوش بخت ہوتے ہیں وہ ماتحت جنہیں پیار کے انداز میں غصہ ہونے والا ’’باس‘‘ میسر آجائے اور بدنصیب ہوتا ہے وہ ’’باس‘‘ جسے وفاکے رنگ میں جفا کرنے والے ماتحت فراہم کر دئیے جائیں ۔ ایک اچھے ماتحت کی یہ خوبی بھی ہوتی ہے کہ وہ اپنے ’’باس‘‘ کی سانسوں میں یوں رچ بس جاتا ہے، جیسے اس کی سانسیں بدن میں رچی بسی ہوتی ہیں اور جو لوگ ’’باس‘‘ کی سانسوں میں رچ بس جائیں ، ایک دن وہ بھی ’’باس‘‘ بن ہی جاتے ہیں اور’’ باس‘‘ بن کر وہ اس اہل ہوجاتے ہیں کہ کوئی ان کی سانسوں میں رچ بس جائے۔

جو لوگ رچنے بسنے کے ہنر سے عاری ہوں، وہ لوگ کسی کے ماتحت تو ہوسکتے ہیں، کسی کے ’’باس‘‘ نہیں بن سکتے ۔ میرے نزدیک معاشرے کا وہ کردار جسے ’’باس‘‘ کہا جاتا ہے، معاشرے کی تمام تر لطافتوں کا نہ صرف مصدر ٹھہرتا ہے، بلکہ محترم اور مظہر بھی۔’’باس‘‘ سے نہ صرف آفس کا پورا اثاثہ اُس سے عبارت ہوتا ہے، بلکہ ارتقا پذیر معاشرے کے لئے وہ منزل بہ منزل ایک راہ بر بھی بن جاتا ہے۔ بڑا ’’باس‘‘ وہی ہوتا ہے جو خواب دیکھتا ہے اور خواب رقم کرتا ہے ۔ خواب چونکہ حقائق سے متصادم ہوتے ہیں، اسی لئے کچھ ’’بے خواب‘‘ لوگ ’’باس‘‘ کے خوابوں کی تعبیر سے مزاحم ہو جاتے ہیں۔ مزاحمت کے یہی رویئے انسان کو اُس ظاہری اور باطنی اشکال میں مرتب کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، جن سے ’’باس‘‘ اور ماتحت کا رشتہ ’’انگ بولی‘‘ کی راہ گزر سے ہوتا ہوا ’’مُنہ بولی‘‘ تک آجاتا ہے۔ یہ وہ رشتہ ہوتا ہے، جسے کوئی نام نہیں دیا جا سکتا، مگر دنیا کے لئے وہ ایک مثال بھی بن جاتا ہے اور بے مثال بھی۔۔۔ زندگی ایسے ہی تجربات سے عبارت ہوا کرتی ہے۔ *

مزید :

کالم -