رانا ثنا ءاللہ اور ارسلان افتخار

رانا ثنا ءاللہ اور ارسلان افتخار
رانا ثنا ءاللہ اور ارسلان افتخار
کیپشن: syed mumtaz ahmad shah

  

عوامی تحریک کے سربراہ شیخ رشید کافی عرصے سے ”قربانی ہو گی“ کی پیش گوئی کر رہے تھے۔ ان کی اس پیشگوئی سے حکمران جماعت خاصی پریشان تھی، تاہم ماڈل ٹاﺅن کے بعد رد بلا کے لئے وزیراعلیٰ شہباز شریف نے بطور ”صدقہ حکومت “رانا ثناءاللہ کی قربانی پیش کر دی تاکہ طاہر القادری اور عمران خان کی بلا ٹل سکے۔ تاہم ایک دفعہ قربانی کاعمل شروع ہو جائے تو یہ آسانی سے نہیں تھمتا اور مزید قربانیوں کا تقاضا کرتا ہے اور یہی ہوا۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے رانا ثناءاللہ کی بطور ”صدقہ حکومت“ قربانی کو تسلیم نہیں کیا اور میاں نواز شریف اور شہباز شریف کی اقتدار اعلیٰ سے علیحدگی پر اپنا اصرار جاری رکھا ۔ رانا ثناءاللہ حکومتی مخالفین کے خلاف سیاسی جنگ میں پہلے دفاعی مورچہ میں بیٹھ کر گولہ باری کرتے تھے، تاہم شہباز شریف نے از خود ہی اس دفاعی مورچے کو مسمار کر دیا ہے۔ رانا ثناءاللہ جو ماڈل ٹاﺅن آپریشن کے دفاع میں اس حد تک آگے جا چکے تھے کہ ماڈل ٹاﺅن میں ہلاکتوں کے بعد بھی انہوں نے کہا منہاج القرآن کی رکاوٹیں ہٹانے کے لئے ان کی حکومت کسی کی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔

لیکن خادمِ اعلیٰ پنجاب ایک زیرک انسان ہیں۔ انہوں نے رانا ثناءاللہ کے جملے کہ کسی کی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے، پلے سے باندھ لیا اور اپنی حکومت بچانے کے لئے اپنے قریبی ساتھی رانا ثناءاللہ اور اپنے 15 سالہ درینہ دوست اور پرنسپل سیکرٹری ڈاکٹر باقر شاہ کی قربانی پیش کر دی تاکہ آئی بلا کو ٹالا جا سکے۔ شریف برادران کی بابت مشہور ہے کہ وہ دوستوں کو چھوڑتے نہیں، یہی وجہ ہے کہ رانا ثناءاللہ تو آﺅٹ ہو گئے لیکن ان کے قریبی عزیز سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے فرزد ارجمند ارسلان افتخار کو فوری طور پر بلوچستان انویسٹمنٹ بورڈ کا نائب چیئرمین مقرر کر دیا گیا، جبکہ بورڈ کے چیئر مین وزیرا علیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک ہوں گے۔ ارسلان افتخار کو ایک کامیاب تاجر کے طور پر یہ عہدہ سونپا گیا ہے۔ ماضی میں ان کی کامیاب ”تجارتی سرگرمیاں“ پوری قوم کے سامنے ہیں پہلے تو صرف ایک بحریہ ٹاﺅن تھا، اب پورے صوبے کے معدنی وسائل اور انوسٹمنٹ ان کی تحویل میں ہوں گے۔

اکیلا بلوچستان کا ریکوڈک پراجیکٹ ہی ان کی دنیاوی خواہشات کی تکمیل کے لئے کافی ہو گا ۔ ڈاکٹر ارسلان افتخار کا خواب ایف آئی اے اور پولیس سروس میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہونا تھا۔ ان کے والد محترم افتخار محمد چودھری نے بیٹے کی خواہشات کا احترام کرتے ہوئے پہلے ارسلان کو محکمہ صحت بلوچستان سے اٹھا کر ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے تعینات کرایا، پھر پبلک سروس کمیشن کا امتحان دئیے بغیر اپنے عہدے کی طاقت سے اعلیٰ پولیس سروس کی ٹریننگ کے لئے بھیج دیا۔ خداسابق صدر جنرل پرویز مشرف کا بھلا کرے کہ انہوں نے افتخار محمد چودھری اور اس کے قابل بیٹے کا خواب چکنا چور کر دیا اور چیف جسٹس کے خلاف صدارتی ریفرنس میں ارسلان کی اس خواہش کو الزام میں تبدیل کر دیا ۔ بہر حال وہ ریفرنس نہ چل چکا اور آج بھی سپریم کورٹ کے ریکارڈ میں موجود برادرز ججوں کے فیصلے کامنتظر ہے۔

 اس دور کے واقعات کا تجزیہ کیا جائے تو لگتا ہے کہ ریفرنس سابق چیف جسٹس کے خلاف دائر نہیں ہوا تھا بلکہ اس کا مقصد ارسلان افتخار کو پولیس سروس سے نکالنا تھا۔ بھلا ہو وکلاءبرادری اور اس کی قیادت بشمول اعتزاز احسن، حامد خان، عاصمہ جہانگیر، لطیف کھوسہ جنہوں نے افتخار محمد چودھری کی بحالی کے لئے بڑی قربانیاں دیں، خون بہایا، ڈنڈے کھائے، چودھری اعتزاز احسن نے تو طشت میں رکھی ہوئی قومی اسمبلی کی رکنیت کو ٹھکرا دیا اورجیل جانے کو ترجیح دی ۔ آج پوری قوم وکلاءقائدین سے یہ سوال کرتی ہے کہ ان کے اس طرز عمل سے عدلیہ آزاد ہوئی یا جانب دار ہوئی۔ بہرحال افتخار محمد چودھری بحال ہوئے اور ارسلان افتخار کا کاروبار چل پڑا۔ آج اس وسیع تجربے کی بنیاد پر انہیں بلوچستان انویسٹمنٹ بورڈ کا وائس چیئرمین مقرر کر دیا گیا، خدا خیر کرے، اب بلوچستان کی ، یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ بھیڑ بکریا ں پالنا بلوچستان کی سب سے بڑی صنعت ہے اور ان کی رکھوالی کا منصب ارسلان افتخار کے سپر د ہے۔

ارسلان افتخار کی بلوچستان کی مخلوط حکومت میں ایک اعلیٰ عہدے پر تعیناتی نے یہ بھی ظاہر کر دیا ہے کہ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری در پردہ مسلم لیگ (ن) میں شامل تھے اور ریٹائرمنٹ کی مدت پوری ہونے تک اگر مسلم لیگ(ن) کی حکومت برقرار رہی تو وہ اس میں باقاعدہ شمولیت اختیار کر لیں گے۔ مسلم لیگ(ن) کی حکومت ان کے احسانات کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے ۔ افتخار محمد چودھری نے بطور چیف جسٹس پیپلز پارٹی کے خلاف اپنے اعلیٰ ترین منصب کا بے دریغ استعمال کیا۔ پیپلزپارٹی کی حکومت کے خلاف بڑا مضبوط افتخار کیانی نواز ٹرائیکا قائم تھا اوررانا ثناءاللہ اس کے بروکر تھے ۔ اس دوران ایک ایسا فیصلہ کن وقت بھی آیا کہ زرداری حکومت کو گھر بھیج دیا جائے تو یقین ِ کامل کے ساتھ موجودہ وزیراعظم نوازشریف کالا کوٹ پہن کر چیف جسٹس کی عدالت میں پیش ہو گئے، تاہم سابق صدر زرداری کی مصالحانہ کوششوں اور بیرونی دباﺅ کے باعث یہ کام سر نہیں چڑھ سکا تاہم افتخار محمد چودھری بنچ نے پیپلز پارٹی کو سولی پر چڑھا کر رکھا۔ بعد ازاں یہی سلوک چیف الیکشن کمشنر فخر الدین جی ابراہیم سے روا رکھا اور بالآخر سپریم کورٹ بذریعہ افتخار محمد چودھری اور پنجاب سے الیکشن کمیشن کے رکن ریاض کیانی کی بے جا مداخلت کی وجہ سے فخر الدین جی ابراہیم کو مستعفی ہونا پڑا۔ تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان بھولے بادشاہ ہیں، وہ سمجھتے تھے کہ ان کی تحریک کی وجہ سے افتخار محمد چودھری بحال ہوئے اور منصفانہ انتخابات ہوئے تو وہ پاکستان کے آئندہ وزیراعظم ہو ںگے ۔ پیپلز پارٹی، اے این پی اور مسلم لیگ(ق) کو انتخابات سے قبل ہی انتخابی نتائج کا علم تھا لیکن عمران خان خوش فہمی میں مارے گئے ۔

ایم کیو ایم کی رکن قومی اسمبلی طاہرہ آصف اس وقت دہشت گردوں کے ہاتھوں ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنی جب لاہور کی ساری پولیس کی توجہ منہاج القرآن سے رکاوٹیں ہٹانے کے مضر اثرات دور کرنے اور کور اپ کرنے پر مرکوز تھی، کیونکہ ایک روز قبل سی سی پی او شفیق گجر لاہور کے بارہ تھانوں کی نفری کے ساتھ ڈاکٹر طاہر القادری کے گھر اور منہاج القرآن کے باہر کھڑاک کر رہے تھے ۔ ماڈل ٹاﺅن سے ملتان روڈ اور فیروز پور روڈ پر لگے ناکے اٹھ چکے تھے اور پولیس کے جوان اور آفیسر ”ضرب رکاوٹوں“ کے بعد از اثرات زائل کرنے میں مصروف تھے۔ دہشت گردوں نے اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے شریف النفس، ملن سار، وضع دار طاہرہ آصف کا خو ن کر دیا۔ اس طرح منہاج القرآن کے باہر پولیس کے ہاتھوں بے گناہوں کے بہتے خون میں طاہرہ آصف کا لہو بھی شامل ہو گیا۔

مزید :

کالم -