ملا منصورپرامریکی ڈرون حملے سے افغان امن عمل کو دھچکا لگا، حملہ پاکستانی خود مختاری اور بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے:ڈاکٹر ملیحہ لودھی

ملا منصورپرامریکی ڈرون حملے سے افغان امن عمل کو دھچکا لگا، حملہ پاکستانی خود ...
ملا منصورپرامریکی ڈرون حملے سے افغان امن عمل کو دھچکا لگا، حملہ پاکستانی خود مختاری اور بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے:ڈاکٹر ملیحہ لودھی

  


اقوام متحدہ (نیوز ڈیسک) اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہا ہے کہ طالبان رہنما ملا اختر کو نشانہ بنانے کیلئے پاکستان کی سرزمین پر امریکی ڈرون حملے سے افغان امن عمل کو شدید دھچکا لگاہے،امریکی ڈرون حملہ پاکستان کی خود مختاری ، علاقائی سلامتی ، اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے ،اس ناقابل قبول اقدام نے افغان مسئلہ کی پیچیدگی اور شدت میں اضافہ کردیا ہے۔سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق سلامتی کونسل میں افغانستان کی صورتحال پر مباحثے کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے ڈاکٹر ملیحہ لودھی کا کہنا تھا کہ ڈرون حملے نے اس حوالے سے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں کہ بین الاقوامی برادری افغانستان میں امن کے قیام میں دلچسپی رکھتی ہے یا جنگ جاری رکھنی ہے؟ گزشتہ 15سال کے دوران طاقت کے استعمال کے ذریعے افغانستان میں امن قائم نہیں کیا جاسکا، اس لئے اب اس حکمت عملی سے گریز کرنا چاہیے۔انہوں نے اس موقع پر افغان مندوب محمود سیکال کے اس الزام کو بھی سختی سے مسترد کیا جس میں انہوںنے کہاتھاکہ” پاکستان ان کے ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کررہاہے اور پاکستان میں افغان مخالف دہشت گرد گروپوں کے ٹھکانے موجود ہیں“ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہاکہ افغان مندوب کابیان بلاجواز ، حقائق کے برعکس اور پاکستان اور اس کے سرکاری اداروں پر بے بنیاد الزامات ہیں، پوری دنیا دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پاکستان کے کردار اور اس کی قربانیوں کا اعتراف کرتی ہے ، افغان حکومت اپنی ناکامیوں کاملبہ دوسروں پر ڈالنے سے گریز کرے، افغانستان کے بعد پاکستان دہشت گردی سے بہت زیادہ متاثر ہواہے اور اس وقت دہشت گردی کے خلاف سب سے بڑا آپریشن پاکستان میں جاری ہے، موثر بارڈر منیجمنٹ پاکستان کا حق ہے اور اپنی سرحد کے اندر تعمیرات میں کوئی بات غیر قانونی نہیں ،پاکستان اپنی سرحد پر موثر اور ضروری اقدامات کرے گا،اس حوالے سے افغان مندوب کے الزامات غلط ہیں تاہم پاکستان افغان امن عمل کیلئے تعاون جاری رکھے گا۔

ڈاکٹر ملیحہ لودھی کا کہنا تھا کہ امن عمل پر تحمل اور مستقل مزاجی سے پیش رفت کیلئے چار فریقی گروپ قابل عمل میکنزم ہے، تاہم اس میں کامیابی اسی صورت میں ممکن ہے جب تمام افغان فریق خود س بات پر اتفاق کریں کہ ملک میں امن صرف غیر مشروط مذاکرات سے ہی ممکن ہے۔ پاکستانی مندوب نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کی حالیہ رپورٹ کاحوالے دیا جس میں کہاگیا ہے کہ افغانستان میں سیاسی ، اقتصادی اور سلامتی کے حوالہ سے صورتحال میں کوئی بہتری نہیں آئی ۔ انہوںں کہاکہ افغان حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے عوام سے کئے گئے وعدے پورے کرے ۔ قبل ازیں افغانستان کیلئے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندہ نکولس سوم نے سیاسی کونسل کی رپورٹ میں افغانستان میں سلامتی کے حوالے سے صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اور کہاکہ اس بار ماضی کے برعکس رمضان المبارک کے دوران بھی پرتشدد واقعات جاری ہیں۔

مزید : اسلام آباد /اہم خبریں