صوبائی بجٹ۔۔۔ ترقی و خوشحالی کی جانب قدم

صوبائی بجٹ۔۔۔ ترقی و خوشحالی کی جانب قدم
صوبائی بجٹ۔۔۔ ترقی و خوشحالی کی جانب قدم

  

جون کا مہینہ مالی لحاظ سے پاکستان کی تاریخ میں بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ اس ماہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں نئے مالی سال کے اخراجات اور و صویوں کا تخمینہ اسمبلیوں میں پیش کرتی ہیں ۔ بجٹ میں حکومت کی ترجیحات اور پروگراموں کا ذکر کیا جاتا ہے جن پر حکومت نے ایک سال کے دوران عمل درآمد کرنا ہوتا ہے۔1973کے آئین کے آرٹیکل 120کے تحت اس بات کو لازمی قرار دیا گیا ہے صوبائی حکومتیں نیا مالی بجٹ تیار کرے اور اسے اسمبلی میں پیش کرے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ حکو مت پنجاب نے وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف کے ویژن کے مطابق صوبہ کو محفوظ ، خوشحال، تعلیم یافتہ، معاشی طور پر مستحکم اور زرعی و صنعتی طو رپر ترقی یافتہ صوبہ بنانے کیلئے شاندار پروگرام تشکیل دیاہے ۔ صوبائی وزیر خزانہ ڈاکٹر عا ئشہ غوث پاشا نے مالی سال 2016-17ء کا میزانیہ 13جون کو اسمبلی میں پیش کیا۔اس بجٹ کو عوام دوست، متوازن اور ترقیاتی بجٹ کہا جائے تو بے جا نہیں ہو گا۔ اس بجٹ میں تمام شعبوں خصوصا تعلیم، صحت ، زراعت، امن عامہ اور انفراسٹرکچر کے شعبوں کی ترقی پر خصوصی توجہ دی گئی ہے اور گزشتہ مالی کی نسبت ان شعبوں کے لئے زیادہ رقم مختص کی گئی ہے۔نئے مالی سال کے بجٹ کا حجم 1681 ارب 41کروڑ روپے ہے۔ جنرل ریونیو کی مد میں 1319 روپے کا تخمینہ ہے۔ این ایف سی ایوارڈ کے تحت وفاقی حکومت سے ٹیکسوں کی مد میں ایک ہزار 39 ارب روپے صوبائی حصہ موصول ہونے کی توقع ہے اور صوبائی ریونیو میں 280 ارب روپے کی آمدن متوقع ہے۔ حکومت پنجاب کا نئے مالی سال کے لئے ترقیاتی بجٹ کا حجم 550 ارب روپے ہے، جو رواں مالی سال کی نسبت 37.5 فی صد زیادہ ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتاہے کہ وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف صوبے کی ترقی پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ صوبہ میں خوشحالی کا دور دورہ ہو جس کی بدولت صوبے میں میں روز گار کے پانچ لاکھ نئے مواقع پیدا ہوں گے، جس سے بے روزگاری میں نمایاں کمی آئے گی۔ آئندہ مالی سال میں تعلیم ، صحت ، زراعت صاف پانی کی فراہمی اور امن عامہ کے شعبوں کیلئے کل بجٹ کا 57فیصد، یعنی 804 ارب روپے رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں حکومت پنجاب تعلیم کے شعبے کی ترقی ، معیاری تعلیم کی ترویج ، تعلیمی اداروں میں سہولیات کی فراہمی، پوزیشن ہولڈرز ذہین مستحق طلبا کو سکالر شپ فراہم کرنے کے لئے ا نقلابی اقدامات اٹھائے ہیں اور گزشتہ تین سالوں کے دوران لاکھوں طلبا و طالبات کو اربوں روپے کے وظائف دیئے گئے ہیں۔ وظائف صرف پنجاب کے طلبا کو ہی نہیں،بلکہ دیگر صوبوں سمیت آزاد کشمیر،گلگت بلتستان اور اسلام آباد کے طالب علموں کو بھی وظائف دیئے جا رہے ہیں۔ نئے مالی سال میں بھی تعلیم کے لئے مجموعی طور پر 312ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔50ارب روپے کی لاگت سے Strengthening of School کے جامع پروگرام کا آغاز کیا گیاہے اور دو برسوں کے دوران صوبہ بھر کے تمام سکولوں ،مخدوش عمارتوں کی بحالی اور 36ہزار نئے کلاس رومز تعمیر کئے جائیں گے۔ آئندہ مالی سال میں 28ارب روپے کی لاگت سے 19ہزار سے زائد اضافی کمرے تعمیر کئے جائیں گے۔ حکومت نے سکولوں میں بچیوں کی حوصلہ افزائی کے لئے چھٹی جماعت کی بچیوں کو ماہانہ وظیفہ کی رقم 200سے بڑھا کر ایک ہزار روپے کر دی ہے۔ اس پروگرام سے پسماندہ علاقوں کی 4لاکھ بچیاں مستفید ہوں گی۔ اِسی طرح حکومت نے نئے مالی سال کے لئے پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے لئے 12ارب روپے رکھنے کا فیصلہ کیاہے، جس سے تعلیم حاصل کرنے والوں کی تعداد 19لاکھ سے بڑھ کر 22لا کھ ہو جائے گی۔ حکومت پنجاب نے صوبے کے ہونہار کم وسیلہ بچوں کی تعلیمی پیاس بجھانے کے لئے پنجاب ایجوکیشنل انڈوومنٹ فنڈ کا اجراء کیا ہے، جس کا حجم 16ارب روپے تک پہنچ چکاہے اور نئے مالی سال میں 4ارب روپے مختص کئے جا رہے ہیں،جس سے فنڈ کا حجم 20ارب روپے تک پہنچ جائے گا اور اس فنڈ سے وظائف حاصل کرنے والوں کی تعداد 2لاکھ سے تجاوز کر جائے گی۔ حکومت نے پسماندہ علاقو ں کے غریب بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کے لئے دانش سکول قائم کئے ہیں نئے مالی سال میں منکیرہ ضلع بھکر اور تونسہ ضلع ڈی جی خان میں چار مزید دانش سکول قائم کرنے کے لئے 3ارب روپے رکھنے کا اعلان کیا ہے۔پرائمری ایجوکیشن کے ساتھ ساتھ نئے مالی سا ل میں ہائر ایجوکیشن کیلئے 46ارب 86کروڑ روپے مختص کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت آئندہ سال چار ارب روپے سے چار لاکھ ذہین طلبا و طالبات میں لیپ ٹاپس دئیے جائیں گے۔سیالکوٹ میں خواتین کی یونیورسٹی کے علاوہ آئی ٹی اینڈ انجینئرنگ یونیورسٹی قائم کی جائے گی۔ اسی طرح دُنیا بھر کی اعلی تعلیمی درسگاہوں میں ماسٹر ز اور پی ایچ ڈی کی ڈگری کے حصول کے لئے ’’شہبازشریف میرٹ سکالر شپ سکیم‘‘کا آغاز کیا جا رہاہے۔

حکومت پنجاب نے صوبہ بھر کے عوام خصوصا دیہی علاقوں کے لوگوں کو علاج معالجہ کی جدید سہولیات کی فراہمی کے لئے نئے مالی سال کے تخمینہ میں 207ارب 30کروڑ روپے رکھنے کا فیصلہ کیاہے۔اس پروگرام کے تحت 30ارب روپے سے عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔پانچ ارب روپے کی لاگت سے صوبہ بھر کے تمام ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتالوں اور 15بڑے تحصیل ہیڈ کوارٹرز ہسپتالوں کو Revamp کیا جائے گا، جس سے لوگوں کو ان کی دہلیز پر طبی سہولیات دستیاب ہوں گی، جس سے بڑے ہسپتالوں پر دباؤ کم ہو گا۔ سپیشلائزڈ ہیلتھ کئیر کے لئے نئے مالی سال میں 24ارب 50کروڑ روپے مختص کئے جا رہے ہیں۔ اسی طرح حکومت نے مریضوں کو مفت ادویات کی فراہمی کے لئے نئے مالی سال میں14ارب 74کروڑ روپے رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ ہیلتھ انشورنس پروگرام کے لئے ایک ارب50کروڑ روپے رکھے جا رہے ہیں۔ میو ہسپتال میں سرجیکل ٹاور بہاولپور وکٹوریہ ہسپتال، بہاولپور میں کارڈیالوجی اور کارڈیک سرجری بلاک کی تعمیر کے علاوہ چلڈرن ہسپتال ملتان میں اضافی بیڈز کے یونٹ کے قیام کے منصوبے بھی شامل ہیں۔ مری میں 100 بستروں پر مشتمل زچہ بچہ ہسپتال قائم کیا جائے گا۔

حکومت نے نئے مالی سال میں کسان کی فلاح و بہبود و خوشحالی اور انکا معیار زندگی بلندکرنے کیلئے کئی اقدامات کا اعلان کیاہے۔اگر حقیقی معنوں میں اسے کسان دوست بجٹ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ آئندہ مالی سال میں وزیراعلیٰ کسان پیکیج کیلئے 50ارب روپے رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ حکومت نے یوریا کھادکی قیمت فی بوری 400روپے اور ڈی اے پی کھاد کی قیمت میں 300روپے فی بوری کمی کا اعلان کیا ہے اس کیلئے حکومت نے 11ارب 60کروڑ روپے مختص کئے ہیں، جس سے 52 لاکھ گھرانوں کو فائدہ ہوگا ۔ کھاد ، پانی ، بیج اور دیگر زرعی مداخل کی سستے داموں فراہمی کیلئے چھوٹے کا شتکاروں کو بنکوں کے ذریعے100ارب روپے کے قرضے فراہم کئے جائیں گے۔ زرعی مداخل کے لئے کاشتکاروں کے قرض پر پنجاب حکومت ادا کرے گی، جس کیلئے 17 ارب 70 کروڑ روپے کی رقم بطو ر سبسڈی مختص کی جا رہی ہے۔بجلی سے چلنے والے زرعی ٹیوب ویلوں پر جنرل سیلز ٹیکس کی ادائیگی کیلئے 7ارب روپے کی سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا ہے۔اس سبسڈی سے 2لاکھ زرعی ٹیوب ویلوں اور 25 لاکھ ایکڑ زرعی زمین کے مالکان کو فائدہ ہوگا۔صوبہ بھر میں جدید زرعی مشینری کی فراہمی کیلئے سروس سنٹر قائم کئے جائیں گے، جس کیلئے ایک ارب 80کروڑ روپے مختص کئے جا رہے ہیں۔بیماریوں کے خلاف مذاحمت رکھنے والے بیج کی ٹیکنالوجی کے حصول کیلئے کاٹن سیڈ ریفارمز پراجیکٹ کا آغاز کیاجا رہاہے، جس کیلئے آئندہ مالی سال میں3ارب روپے مختص کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ سولر ڈرپ ایری گیشن سسٹم اور ٹنل فارمنگ کے ذریعے 1500 ایکڑ پر موسمی فصلیں حاصل کرنے کے منصوبے کے لئے 2ارب 50کروڑ روپے مختص کرنے کا اعلان کیا گیاہے۔ دیہی علاقوں کے مکینوں کو جدید اور آرام دہ ذرائع نقل وحمل فراہم کرنے کیلئے 150 ارب روپے مالیت کا خادم پنجاب رورل روڈ پروگرام شروع کیا گیاہے۔نئے مالی سال میں اس پروگرام کیلئے 27ارب روپے رکھے جارہے ہیں۔یاد رہے کہ 31ارب روپے کی لاگت سے 3590 کلو میٹرطویل سڑکوں کی تعمیر نو اور توسیع کا کام مکمل ہو چکاہے۔نئے مالی سا ل میں محکمہ آبپاشی کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 41ارب روپے، جبکہ لائیو سٹاک کی ترقی کیلئے 9ار ب 22کروڑ روپے مختص کئے جا رہے ہیں۔

پاکستان میں اس وقت جن بڑے مسائل کا سامناہے ان میں سرفہرست دہشت گردی کا ناسور ہے۔ گزشتہ دو عشروں سے پاکستانی قوم اس ناسور سے نبرد آزما ہے، جس میں ہزاروں قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ حکومت پنجاب صوبے میں امن وامان کے قیام، دہشت گردی کے خاتمے، پولیس ریفامز، تھانہ کلچر کے خاتمے کیلئے اقدامات کررہی ہے۔آئندہ مالی سال کے بجٹ میں امن وامان کے قیام کے لئے مجموعی طور پر 145 ارب 46کروڑ روپے کی خطیر رقم مختص کی جارہی ہے۔ حکومت کے بروقت اقدامات کی بدولت صوبہ میں دہشت گردی کے واقعات میں 67فیصد کمی ہوئی ہے۔ پنجاب کے 6بڑے شہروں میں پنجاب سیف سٹی پراجیکٹ کا آغاز کیا گیاہے، جس کا کل تخمینہ 44ارب روپے لگایا گیا ۔13ارب روپے کی لاگت سے لاہور میں سیف سٹی پراجیکٹ جون 2017 میں مکمل ہو جائے گا۔اس منصوبے کے تحت جدید سیکیورٹی کیمروں اور کنٹرول رولز کے ذریعے شہر بھر کی نگرانی کی جائے گی، جس سے لاقانونیت اور سٹریٹ کرائم کا سد باب ہو گا۔ مُلک کو اس وقت توانائی کے بحران کا سامنا ہے۔ جب سے موجودہ حکومت برسر اقتدار آئی ہے توانائی کے بحران کے حل کیلئے دن رات کوشاں ہے ۔اسی وقت پنجاب میں پبلک سیکٹر اور نجی شعبے کے اشتراک سے 6545میگا واٹ پاور پراجیکٹ کے منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے۔ملکی تاریخ کے پہلے سولر پاور پراجیکٹ سے مین گریڈ میں بجلی شامل ہو رہی ہے۔ قائداعظم سولر پارک میں سی پیک منصوبے کے تحت 900میگا واٹ کیلئے پراجیکٹ پر کام جاری ہے جس سے جلد ہی 300 میگا واٹ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل ہو جائے گی ۔حکومت پنجاب اور وفاق کے اشتراک سے بھکھی،حویلی بہادر شاہ اور بلوکی میں گیس سے چلنے والے 3پاور پراجیکٹ پر بیک وقت کام جاری و ساری ہے اور یہ منصوبے دسمبر 2017میں مکمل ہو جائیں گے، جس سے 3600میگا واٹ بجلی نیشنل گریڈ میں شامل ہو جائے گی ۔آئندہ مالی سال کے بجٹ میں انفراسٹرکچر کیلئے130 ارب 28ارب کروڑ روپے اور جنوبی پنجاب جاری و نئے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 173 ارب روپے مختص کئے جا رہے ہیں ۔

اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے۔ اپوزیشن کا حق ہے کہ وہ حکومت پر تنقید کرے اور حکومتی پالیسیوں سے اختلاف کرے تا ہم اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ہر مسئلے کا مثبت اور جامع حل بھی پیش کیا جائے تا کہ حزب اقتدار اور حزب اختلاف باہم مل کر عوام کی خدمت اور ان کی مشکلات ومسائل کے حل کے لئے قانون سازی کریں ۔بجٹ سیشن میں اپوزیشن کا رویہ انتہائی افسوسناک تھا۔اپوزیشن کے گلے شکوے اپنی جگہ ہوں گے، لیکن شائستگی اور جمہوری و اخلاقی اقدار کی پاسداری ہم سب کا فرض ہے وزیر خزانہ جب بجٹ تقریر کے لئے کھڑی ہوئیں تو اپوزیشن ارکان نے نعرے بازی اور ڈیسک بجانا شروع کر دیئے ۔ایوان مچھلی منڈی کا منظر پیش کر رہا تھا ۔اپوزیشن کے ارکان کو اپنے رویئے پر نظر ثانی کرنی چاہیے اور جمہوری اداروں کے وقار کو ہر حال میں پیش نظر رکھنا چاہئے تا کہ مُلک میں جمہوریت پنپ سکے۔بد قسمتی سے اپوزیشن اپنا وہ کردار ادا نہیں کر سکی،جس کے لئے ان کے حلقوں کے عوام انہیں مینڈیٹ دیا تھا ۔چاہئے تو یہ تھا کہ اپوزیشن بجٹ تقریر کو اطمینان اور کھلے دل سے سنتی۔اسی میں جو نقائص یا خامیاں رہ گئی تھیں ان کو دور کرنے کے لئے حکومت کو تحاویز دیتی تا کہ ان کی روشنی میں حکومت آئندہ کے لئے لائحہ عمل مرتب کرتی،مگر بد قسمتی سے اپوزیشن نے مثبت رویئے کی بجائے منفی انداز اپنایا اور عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی۔اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومت نے بجٹ میں تمام شعبوں کا احاطہ کیا ہے اور ہر شعبے کی ترقی کے لئے خطیر رقوم مختص کی ہیں، لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ ان پر خلوصِ نیت اور ایمانداری سے عمل کیا جائے ۔خصوصاً ٹیکس ریکوری کے لئے فرض شناس اور اہل افسران تعینات کئے جائیں ،اس کے علاوہ سیاسی قیادت کو یہ بات ذہن میں رکھنا ہو گی کہ وہ کسی ایسے شخص کی سفارش نہ کریں جو ٹیکس نا دہندہ ہے ۔امید کی جاتی ہے کہے حکومت نے بجٹ میں جو اہداف مقرر کئے ہیں ان سے منصوبے میں خوشحالی آئے گی ،عوام کا معیار زندگی بلند ہو گا اور پنجاب کی معیشت مضبوط و مستحکم ہو گی۔

مزید :

کالم -