جامعہ پنجاب کی پروفیسر کالونی میں چوری کی وارداتیں معمول

جامعہ پنجاب کی پروفیسر کالونی میں چوری کی وارداتیں معمول

لاہور( خبر نگار )جامعہ پنجاب کی پروفیسر کالونی میں یکے بعد دیگر چوریا ں E-35اورE-11 کے بعد مزید 2گھروں میں چوریاں یہ وہ جامعہ پنجاب ہے جو سیکیورٹی اداروں کی جانب سے ہائی الرٹ کی گئی ہے جس کے بعد جامعہ کے گرد دس فٹ اونچی دیوار بھی عمل میں لائی گئی اور مستقل بنیادوں پر 350گارڈز بھی سیکیورٹی کے فرائض انجام دے رہے ہیں ان سب کے باوجود پروفیسر کالونی میں روزانہ کی بنیادوں پر چوری ہونا کسی اور طرف ہی اشارہ کر رہا ہے۔یونیورسٹی کے اندر موبائل چھیننا ، ہاسٹلوں میں سے لیپ ٹاپ چوری ہونا اور اب پروفیسر کالونی میں گھروں کے اندر چوری ایک معمول بنتا جا رہا ہے گارڈز کی نا ختم ہونے والی فوج نجانے کس کو سیکیورٹی دینے پر معمور ہے۔

اس کے علاوہ یونیورسٹی میں پولیس چوکی بھی موجود ہے جو خود ایک سوالیہ نشان بنتی جا رہی ہے ۔ناظم جامعہ اسلامی جمعیت طلبہ اسامہ نصیر کا کہنا تھا کہ اگر چوروں کو انتظامیہ روکنے میں ناکام ہے تو طلبہ و طالبات کی دہشت گردوں سے حفاظت کس طرح عمل میں لا سکے گی طلبہ و طالبات ملک و قوم کا سرمایا ہیں ان کی حفاظت ہم سب کا فرض ہے ان گارڈز کوچند لوگوں کی حفاظت پر ہی معمور کرنا مقصود ہے تو اس بات کو بھی واضح کیا جائے

مزید : میٹروپولیٹن 4