سوال

سوال
 سوال

  

سوال اْٹھانا جرم نہیں، مگر یاوہ گوئی!سوال علم کی کلید ہے۔ انسانی علوم کی تمام گرہیں سوال کی انگلیوں سے کْھلتی ہیں، مگر سوال اْٹھانے والے کے لیے ایک میرٹ بھی مقرر ہے۔ سوال جاہل کا نہیں عالم کا ہوتا ہے۔ استاد نے فرمایا کہ سوال پہاڑ کی چوٹیوں کی طرح ہوتے ہیں اور جواب پہاڑ کے دامنوں کی طرح۔ اور پہاڑوں میں اختلاف اْس کے دامنوں کا اختلا ف ہے اْس کی چوٹیوں کا نہیں۔ تمام پہاڑوں کی چوٹیاں یکساں ہوتی ہیں۔ سوال بھی انسانی ذہنوں میں چوٹیوں کی طرح یکساں چلے آتے ہیں، مگر اس کے الگ الگ زمانوں کی الگ الگ جوابات نے اْن علوم کے دامن کو وسیع اور مختلف بنائے رکھاجس پر آج کا انسان ناز بھی کرتا ہے اور نخرے بھی دکھاتا ہے، مگر جس طرح پچھلوں کے پاس ان ہی سوالوں کے الگ جواب تھے، ٹھیک اسی طرح اگلوں کے پاس بھی ان سوالوں کے جواب ہمارے پاس موجود جوابوں سے مختلف ہوں گے۔ اور وہ ہماری جہالت پر ترس اور اپنے جوابات پر اسی طرح ناز کررہے ہوں گے۔ بیچارے حمزہ علی عباسی کہیں کے!

کیا ریاست قادیانیوں کو کافر قرار دے سکتی ہے؟ جب کوئی یہ سوال اْٹھا تا ہے، تو اس سوال کو اْٹھانے کا بھی ایک تقاضا بنتا ہے۔ اس سوال کا پہلا تقاضا ہے کہ آپ یہ جانتے ہوں کہ ریاست کیا ہوتی ہے؟ دنیا بھر کی ریاستیں کیسے کام کرتی ہیں؟ اور ریاستوں نے اپنے اپنے مذاہب کے لیے کیسے کیسے دروازے اور کون کون سی کھڑکیاں کہاں کہاں کھول رکھی ہیں اور کہاں کہاں بند کررکھی ہیں؟ اس سوال کو اْٹھانے کے دوسرے تقاضے کے طور پر سائل کویہ بھی معلوم ہونا چاہئے کہ دراصل مرزائیت کیاہے؟ اس نفرت انگیز تحریک کا مالہ وماعلیہ کیا ہے؟ مسلمانوں کے اجتماعی شعور کے ساتھ اس کا کیا تعلق ہے؟ اور اس تعلق کی تاریخ کتنی پرانی اور کن نتائج کی حامل ہے؟ اس ایک سوال کو اْٹھانے کا ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ سائل کو اچھی طرح معلوم ہو کہ معلوم شدہ ریاست اور معلوم شدہ مرزائیت کو کافر کہنے کا مطلب کیا ہے؟ اْنہیں کافر کیسے قرار دیاگیا تھا؟ اور اْنہیں کافر قرار دیتے وقت تک تاریخ کا سفر کیا رہاتھا؟ظاہر ہے کہ سوال کا حق مانگنے والا حمزہ علی عباسی سوال کے اس فرض کو پورا کرنے میں پوری طرح ناکام ہے، کیونکہ وہ اپنے حقِ سوال کے دفاع میں ایک نکتہ بھی ایسا نہیں اْٹھا سکا جو اْس کے بطور سائل کسی بھی تقاضے کو پورا کرنے کا کوئی معمولی اشارہ بھی دیتاہو۔ یہ تو اس سوال کے اْٹھانے سے متعلق ایک پہلو ہے، مگر اس کا ایک دوسرا پہلو بھی نہایت دلچسپ ہے۔

درحقیقت اپنی بنیاد و نہاد میں یہ سوال نہیں ایک موقف ہے۔ اور اس کی وضاحت خود مرزا ناصر کی طرف سے قومی اسمبلی کی کارروائی میں موجود ہے۔ اب لوگوں کے ذہنوں سے وہ واقعات محو ہو چکے ہیں جو تب پیش آتے رہے۔ ملک میں مذہب کی بنیاد پر تشدد کا آغاز مرزائیوں کی جانب سے ہواتھا۔ اْن برسوں میں مسلمانوں پر مرزائیوں نے باقاعدہ تشدد شروع کیا تھا۔واقعات کے بہاؤ میں 29 مئی 1974کا واقعہ مسلمانوں کی بیداری کامحرک ثابت ہوا۔ جب نشتر میڈیکل کالج کے تقریباً ایک سو مسلمان طلبا پر ربوہ میں ایک منظم منصوبہ بندی کے ساتھ تشدد کیا گیا۔یہ طلباء چناب ایکسپریس ملتان سے پشاور کے لیے بغرض سیروسیاحت روانہ ہوئے تھے۔اور اْنہیں چناب نگر اسٹیشن (تب ربوہ) میں واپسی پر نشانہ تشدد بنایا گیا تھا۔ جس پر پورا ملک سراپا احتجاج بن گیا۔ قومی اسمبلی میں یہ مسئلہ ایک طویل تاریخی پس منظر کے بعد پہنچا تھا۔قومی اسمبلی میں ایک پرائیوٹ بل مولانا شاہ احمد نورانی کی طرف سے پیش ہوا۔ جس پر 28معزز اراکین کے دستخط تھے۔ اْن دنوں قائد حزب اختلاف مفتی محمود تھے اور قائد ایوان ذوالفقار بھٹو تھے۔ بھٹو نے سانحہ ربوہ پر غور اور مسئلہ قادیانیت پر سفارشات مرتب کرنے کے لیے پوری قومی اسمبلی کو ایک خصوصی کمیٹی کا درجہ دے دیا۔ جس کے بعد وزیر قانون عبدالحفیظ پیرزادہ نے سرکاری طور پر بل پیش کیا تھا۔ اْس وقت قومی اسمبلی کے اسپیکر صاحبزادہ فاروق علی خان تھے ، جن کی زیرصدارت قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلے پر بحث کا آغاز ہوا تھا۔ اور اس میں مرزا ناصر کو اپنا موقف پیش کرنے اور سوال وجواب کا پورا پورا موقع دیا گیا تھا۔ 5اگست سے 11 اگست تک اور20 اگست سے 21 اگست 1974ء تک یہ بحث جاری رہی۔ پھر 27 اگست سے 28 اگست تک دو روز لاہوری گروپ کے صدر الدین ، عبدالمنان عمر اورمسعود بیگ سے بحث اور جرح میں صرف ہوئے۔ اس طرح کل گیارہ روز تک سوال وجواب پر محیط یہ کارروائی جاری رہی۔ بعد ازاں اٹارنی جنرل یحییٰ بختیار نے 5 ستمبر سے 6ستمبر تک اس پوری بحث کو سمیٹا۔

کیا حمزہ علی عباسی اور جناب جاوید احمد غامدی کا مسئلہ یکساں ہے؟ دونوں میں علم ومقام کے اعتبار سے زمین آسمان کا فرق ہے، مگر دونوں کا مشترکہ مسئلہ شاید ریٹنگ ہے۔ مسلمانوں کا سواد اعظم جاوید احمد غامدی کے ’’شکوہ علم‘‘ کے باوجود اْنہیں قبول نہیں کررہا۔ اور حمزہ علی عباسی کے ٹی وی پروگرام کو کوئی پذیرائی نہیں مل رہی۔ مسلمانوں کا اجتماعی شعور سرکار دوعالمؐ کی دعا کی پہرے داری میں رہتا ہے۔ کھوٹا موقف کتنے ہی علمی وجاہت میں ملفوف ہو، کتنی ہی چکاچوندی میں پیش کیا جائے، مسلمانوں کا اجتماعی شعور اْسے اْگال دان کے حوالے کردیتا ہے۔ جاوید احمد غامدی جہاد سمیت باقی سارے حقوق ریاست کو دیتے ہیں، چاہے وہ کتنی ہی بدعنوان ہو، چاہے وہ اس قابل ہی کیوں نہ پہنچ گئی ہو کہ اْس کے خلاف خروج فرض ہو گیا ہو،مگر وہ کسی کو غیر مسلم کہنے کا حق ریاست کو دینے کے لیے تیار نہیں۔اس موقف کے پیچھے وہ اْن حقائق اور تاریخی پس منظر کو پس پشت ڈال دیتے ہیں جو مرزائیوں کو غیر مسلم قراردیتے ہوئے قومی اسمبلی میں زیربحث آئے تھے۔ جس میں یہ سوال بھی موجود تھا کہ کیا ریاست کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی کو غیر مسلم قرار دے سکے؟حیرت انگیز طور پر یہ موقف جاوید احمد غامدی اور حمزہ علی عباسی سے پہلے مرزا ناصر نے اختیار کیا تھا۔

مرزا ناصر سے قومی اسمبلی کی کارروائی کے دوران میں اٹارنی جنرل نے ایک سوال پوچھا تھا۔

’’اٹارنی جنرل:اچھا آپ نے 21جون کے خطبہ جمعہ میں کہا کہ ہر شخص اپنے مذہب کی صراحت کرنے میں آزاد ہے۔ کوئی طاقت کوئی حکومت اس حق کے استعمال میں دخل نہیں دے سکتی۔ یہی آئین کی دفعہ بیس کا تقاضا ہے۔ یہ آپ نے کہا ہے؟

مرزا ناصر:جی میری تقریر ہے، مذہبی آزادی ہے۔ دفعہ 20کے تحت کوئی مداخلت نہیں کر سکتا۔

اٹارنی جنرل: اسمبلی یا حکومت بھی؟

مرزا ناصر: کوئی بھی۔

اٹارنی جنرل: ایک آدمی جھوٹ بولتا ہے جان بچانے کے لیے، کیا اسے بھی دفعہ 20اجازت دیتی ہے کہ وہ جھوٹ بولتا رہے، اس لیے کہ مذہبی آزادی ہے؟

مرزا ناصر: آپ کو کیسے معلوم ہے کہ وہ جھوٹ بولتا ہے؟

اٹارنی جنرل: مثلاً میں کالج کا پرنسپل ہوں۔ اقلیت کے کوٹہ سے سیٹ لینے کے لیے ایک مسلمان خود کو غیر مسلم ظاہر کرتا ہے۔اب آپ کے نزدیک دفعہ 20 کے تحت ہر شخص کو اپنے مذہب کے اظہار کی اجازت ہے لہذا وہ جھوٹ بولے تو میں کوئی کارروائی نہ کروں۔ اچھا آپ سے پوچھتا ہوں کہ آپ نے مذہبی آزادی کے حوالہ سے دستور کے کچھ حصے اپنی تقریر میں پڑھے ہیں۔ میں یہاں مودبانہ طریقہ سے آپ سے پوچھتا ہوں جناب کہ کیا آپ نے پوری دفعہ کو بیان کیا ہے یا اس دفعہ کا کچھ حصہ آپ بھول گیے ہیں؟

مرزا ناصر: میں نے اس کا وہ ابتدائی حصہ چھوڑ دیا ہے جو ہر ذہن میں موجود ہے۔

اٹارنی جنرل: شکریہ، وہ حصہ؟

مرزا ناصر: قانون اور اصول اخلاق کی شرط پر۔

اٹارنی جنرل: جی ہاں، مطلب یہ ہے کہ مذہب کی آزادی مشروط ہے قانون ، اخلاقیات اور امن عامہ پر۔ یہ بات تسلیم ہے ناں؟

مرزا ناصر: ظاہر ہے، یہ ہے۔

اٹارنی جنرل: اب ایک آدمی غلط بیانی سے اپنا مذہب غلط ظاہر کرتا ہے، غلط مقاصد کی برآری کے لیے، تو اب اس پر پابندی لگائی جاسکتی ہے یا نہ؟

مرزاناصر:کسی کو حق نہیں کہ مذہب کی آزادی پر پابندی لگائے۔

چیئرمین: دیکھیں سوال کے مطابق جواب آنا چاہیے۔ چاہے گواہ اس سے متفق ہو یا نہ ہو، مگر جواب اور سوال مطابق ہونا چاہیے۔ وکیل صاحب کے سوال کا جواب دیں۔

اٹارنی جنرل: سر متفق نہ ہونے کا سوال نہیں، دنیا میں ہزاروں دھوکے باز پھرتے ہیں۔ اب وہ غلط بیانی کریں مذہب کے بارے میں تو پابندی لگائیں گے یا نہ؟

مرزاناصر: دغاباز کی ملامت کرنی چاہیے۔

چیئر مین: سوال کا جواب آنا چاہیے۔ جواب سوال کے مطابق نہیں۔

اٹارنی جنرل: بات اظہار کی ہے، ایک شخص عمداً جھوٹا بیان دیتا ہے اپنے مادی نفع کے لیے، اب جناب گواہ کی اس بارے میں رائے کیا ہے۔ جناب اگر آپ جواب نہ دینا چاہیں تو آپ کی مرضی۔

مرزا ناصر: میں ایسے آدمی کو پسندیدہ نہیں سمجھتا۔

اٹارنی جنرل: مگر آپ سمجھتے ہیں کہ حکومت پابندی۔۔۔۔۔؟

مرزا ناصر: میں مذمت کرتا ہوں اس نوجوان کی جو دستاویزات میں جعل سازی کرتاہے۔

چیئرمین: چھوڑیے(اصل سوال کا جواب گول کررہے ہیں۔ )

(کارروائی میں پندرہ منٹ کا وقفہ ہوتا ہے۔پھر جب کارروائی شروع ہوتی ہے تو بحث اسی نکتے پر مرکوز ہوتی ہے کہ ایک شخص غلط بیانی کا مرتکب ہو تو کیا اتھارٹی کو اس میں مداخلت کا حق ہے۔ مثلاایک یہودی خود کو مسلمان قرار دے کر سعودی عرب کے مقدس مقامات میں داخل ہوجائے تو کیا ریاست اْسے پکڑ سکے گی،جبکہ اْس نے غلط ڈیکلریشن جمع کرایا۔ کیا یہ اْس کی مذہبی آزادی کے زمرے میں لیا جائے گا۔ اٹارنی جنرل نے یہ نکتہ کئی دیگر مثالوں کے ساتھ مزید واضح کیااور ثابت کیا کہ مذہبی آزادی کچھ حدود وقیود کے ساتھ مشروط ہے۔ جیسے آئین میں ہر شخص کو تجارت کا حق حاصل ہے ،مگر وہ اس حق کو چرس یا اسمگلنگ کے حق کے طور پر استعمال نہیں کر سکتا۔ اس بحث کے نکتہ عروج پر یہ ثابت کیا جاتا ہے کہ تمام بنیادی حقوق دراصل کچھ پابندیوں سے مشروط ہیں اور پابندیوں کو توڑنے والا شخص کسی اتھارٹی یا عدالت کی مداخلت کا سزاوار ہے۔ مرزا ناصر مذہبی آزادی میں مداخلت یا پھر ریاست کی جانب سے کسی کو غیر مسلم قرار دینے کے جس حق کو دینے کے لیے تیار نہیں تھا۔ وہ ان سوالوں کا کوئی بھی تسلی بخش جواب دینے میں ناکام رہا۔تب مرزا ناصر تو نہ دے سکا ، اب شاید جاوید احمد غامدی یا حمزہ علی عباسی اس کاجواب دے سکیں۔قومی اسمبلی میں اٹارنی جنرل اور مرزا ناصر کے یہ دلچسپ سوال وجواب اس موضوع سے دلچسپی رکھنے والے ہر شخص کوضرور پڑھنے چاہئے۔)

حمزہ علی عباسی اور جاوید احمد غامدی جن نوجوان ذہنوں کو پراگندہ کررہے ہیں ، اْنہیں شاید یہ معلوم نہ ہو کہ قومی اسمبلی کی اس کارروائی میں دراصل مرزائیوں کو غیر مسلم قرار دینے سے پہلے ان مرزائیوں پر یہ ثابت کیا گیا تھا کہ وہ مسلمانوں کو غیر مسلم قرار دیتے ہیں۔ یہی وہ نکتہ تھا جسے سن کر ذوالفقار بھٹو کو اشتعال آیا تھا۔

اٹارنی جنرل نے دلچسپ پیرایئے میں یہ بحث چھیڑی کہ وہ جو مسلمان احمدیوں(مرزائیوں ) کو نہیں مانتے اْنہیں خود کیا سمجھتے ہیں؟ تو مرزا ناصر کا جواب تھا کہ ’’کافر‘‘۔ گویا ریاست کو کافر قراردینے کا حق نہ دینے والا یہ حق اپنے پاس ضرور رکھنا چاہتا تھا۔اس مکالمے کا ایک دلچسپ حصہ پیش نظر رہنا چاہئے۔

اٹارنی جنرل:شرعی اور غیر شرعی نبی میں کیا فرق ہے؟

مرزا ناصر:شرعی نبی وہ ہے جس پر شریعت نازل ہو، غیر شرعی جو پہلے کی شریعت پر عمل کرائے۔

اٹارنی جنرل: غیر شرعی کا منکر کافر ہوگایا نہیں؟

مرزاناصر:کافر کا معنی انکار کرنے والا،تو وہ ہوگا۔

اٹارنی جنرل: مرزا صاحب غیر شرعی(نبی) تھے تو ان کا منکر کافر ہوگا؟

مرزاناصر: منکر ہوگایعنی کافر، لغوی۔

یہ بحث مزید کچھ سوالوں کے ساتھ بالکل واضح کردی جاتی ہے کہ مرزائی دراصل مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی نہ ماننے والوں کو کافر سمجھتے ہیں۔ اس ضمن میں اٹارنی جنرل سانحہ ربوہ پر قادیانیوں کی انگلینڈ میں موجود جماعت کی ایک قرارداد بھی پیش کرتے ہیں۔ جس میں کہا جاتا ہے کہ ’’چونکہ پاکستان کے طول وعرض میں احمدی مسلمانوں پر غیر احمدی پاکستانیوں نے ظلم وتعدی توڑ دی ہے۔‘‘

اس قرارداد کے الفاظ سے اٹارنی جنرل وضاحت چاہتے ہیں کہ آپ دوسرے مسلمانوں کو ’’غیر احمدی پاکستانی‘‘ کہتے ہیں۔ اور خود کو احمدی مسلمان۔یہ خود بحث کا بہت ہی دلچسپ موڑ ہے۔

یہاں صرف ایک نکتہ پیش کرنا مقصود تھا کہ حمزہ علی عباسی جسے سوال کہہ رہے ہیں ، وہ دراصل سوال نہیں مرزا ناصر کا موقف تھا۔ اور وہ جس موقف نما سوال کا جواب چاہتے ہیں، اٹارنی جنرل یحییٰ بختیار نے اْس کا نہایت عمدہ دلائل کے ساتھ قومی اسمبلی کی کمیٹی میں نہ صرف جواب دیا تھا، بلکہ مرزا ناصر سے تسلیم کرایا تھا کہ اس میں ریاست کے مداخلت کا حق کیسے اور کیوں بنتا ہے۔اس تاریخی فیصلے تک مرزائیوں کی سرگرمیوں کی ایک مسلسل چلی آتی تاریخ ہے، جس کے سامنے مسلم شعور اپنے پورے وفور کے ساتھ کھڑا رہا۔ یہ نکتہ پھر کبھی!

(محمد طاہر ایک پیشہ ور صحافی، تجزیہ کار اور کالم نگار ہیں۔)

مزید : کالم