کیا ہم تیسری عالمی جنگ کی طرف گامزن ہیں؟

کیا ہم تیسری عالمی جنگ کی طرف گامزن ہیں؟

آج سے تقریباً 40برس پہلے پشاور۔ کوہاٹ روڈ پر پشاور سے 25میل کے فاصلے پر درہ آدم خیل میں جب میں نے پہلی بار درّہ میڈ رائفلوں کی سجی سجائی دکانیں دیکھیں تو حیران رہ گیا تھا۔ ان کا رنگ و روغن، تراش و خراش اور ظاہری شکل و صورت اصل برٹش، اطالوی اور امریکی گنوں سے تقریباً99فیصد تک مشابہت رکھتی تھی [رشین کلاشنکوف (AK-47) بہت بعد میں متعارف ہوئی اور ایسی ہوئی کہ ساری مارکیٹ پر چھا گئی۔]

اس وقت درہ میں بیٹھے میرے ذہن میں جو سوال ابھرے تھے وہ یہ تھے:

1۔ ان گنوں، ریوالوروں اور پستولوں وغیرہ کے کارخانے/ورکشاپیں کہاں ہیں؟

2۔ان کے خریدار کون ہیں؟

3۔کیا یہاں کے کاریگروں کو پاکستان آرڈننس فیکٹریز میں لے جا کر باقاعدہ ملازمتیں نہیں دی جا سکتیں؟

4۔ کیا یہاں کی اسلحی اور بارودی مصنوعات، پاکستانی معاشرے میں امن و امان کی صورت حال تہہ و بالا نہیں کر سکتیں؟

اس قسم کے کئی اور سوال بھی تھے جو میں نے کیپٹن امان اللہ آفریدی سے کئے جو میرا دوست تھا اور میرے ساتھ تھا۔ اس کے کئی رشتہ دار اسی درّے میں اسلحہ فروشی کا کاروبار کرتے تھے۔ آفریدی نے بتایا کہ: ’’ یہ کاروبار میرے قبیلے کا ایک بڑا بزنس ہے۔ دوسرا بڑا کاروبار ٹرک ڈرائیوری اور ٹرانسپورٹ سے متعلق دوسرے شعبے ہیں۔ یہ کاروبار ہمارا جدی پشتی پیشہ بھی ہے۔ شہنشاہ بابر کی توپیں جن لوگوں نے ڈھالی تھیں ان کے بستیاں کابل و قندھار اور ہمارے سرحدی علاقوں میں آج بھی موجود ہیں۔ اس کے بعد احمد شاہ ابدالی تک آتے آتے یہ بزنس ریاست دیر سے لے کر جنوبی وزیرستان تک پھیل گیا۔ پنجاب کا مہاراجہ رنجیت سنگھ یہاں کے بنائے ہوئے اسلحہ جات اور بارودات کا بڑا خریدار تھا۔ جب انگریز نے اس کی جگہ لی تو اس نے عمداً اس بازار کو بند نہ کیا۔ اس کو احساس تھا کہ یہاں کا ہر پشتون، بندوق کو اپنا زیور سمجھتا ہے‘‘۔۔۔پھر پاکستان بن گیا تو فاٹا کے بیشتر مقامات تقریباً ہرغیرپشتون پاکستانی کے لئے آؤٹ آف باؤنڈز ہو گئے۔ میں نے خود بچپن میں ’’قیدِ یاغستان‘‘ جس دلچسپی، لیکن خوف اور سراسیمگی کی فضا میں پڑھی تھی وہ کبھی نہ بھولی۔ مجھے خبر نہیں بچپن میں ان پشتونوں کو ہمارے علاقے میں ’’دمامی‘‘ کیوں کہا جاتا تھا۔ کیپٹن آفریدی سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ ہمارے بعض اجداد دمام (سعودی عرب) سے ہجرت کرکے یہاں آئے تھے۔ آج سوچتا ہوں کہ فاٹا کے ان آفریدیوں نے ’’سعودی دمامیوں‘‘ کے ساتھ گزشتہ 15برسوں میں جو پاسِ وفا نبھایا وہ کہیں اسی دور کی یادگار تو نہیں !

آفریدی نے مجھے یہاں اپنے ایک انکل کی ورکشاپ بھی دکھائی تھی جو بالکل سادی سی لیتھ مشینوں پر مشتمل تھی لیکن یہ پشتون کاریگر ان پر جس انہماک اور محنت سے کام کر رہے تھے وہ دیدنی تھا۔ اس نے یہ بھی بتایا تھا کہ یہاں طیارہ شکن توپیں، بارودی سرنگیں، دستی بم، مختلف اقسام کے گولہ بارود اتنی تعداد میں تیار کئے جاتے ہیں کہ انکل کی ورکشاپ میں فارن آرڈرز کی بھرمار رہتی ہے۔ خود میرے ایک عزیز بھی آج پی او ایف (واہ) میں رائفل ساز سیکشن میں کام کرتے ہیں۔ کئی بار اٹلی اور فرانس کے دورے کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی نئے اطالوی یا فرانسیسی ویپن کو صرف چند گھنٹوں تک درہ کے ان پشتونوں کو دے دیا جائے تو اس کی کاپی کرنے میں صرف دو دن لگاتے ہیں اور آپ پہچان نہیں سکتے کہ یہ اصلی ہے یا نقلی ہے۔۔۔ کیپٹن آفریدی کے انکل نے جاتے ہوئے مجھے 25بور کا ایک خوبصورت ریوالور بھی گفٹ کیا تھا جو عرصہ ء دراز تک میرے پاس رہا۔میں اس کو سال کے سال کسی یونٹ کی آرموری (Armoury) میں بھیج کر صفائی اور پالشنگ کروا لیا کرتا تھا۔ ساتھ ہی 100راونڈوں کا ایک ڈبہ بھی مجھے انہوں نے دیا تھا جو دس پندرہ برس کے بعد بھی کارآمد رہے اور درست نشانے پر لگتے تھے۔ اس ریوالور کو مغرب میں Ante-Rape ویپن کہا جاتا ہے جو ایک عرصے تک یورپین خاتونوں کے پرس میں رہا۔۔۔ بڑا Cuteسا ریوالور تھا!

ہم اس ورکشاپ میں بیٹھے تادیر باتیں کرتے رہے اور قہوے کی ’’یک جرعی‘‘ پیالیوں سے کئی بار لطف اندوز ہوتے رہے۔ انکل نے یہ بھی کہا کہ امریکہ یا یورپ میں جب کوئی بھی چھوٹا ہتھیار (Small Arm) بن کر امریکی بازاروں میں آتا ہے تو وہاں سے ہمارے ’’آدمی‘‘ اس کی ایک کاپی ہمیں بھی بھیج دیتے ہیں اور ہم اس کی نقل تیار کرنے میں دیر نہیں لگاتے۔ یہ ’’آدمی‘‘ ہمارے بزنس پارٹنر بھی ہوتے ہیں۔ دراصل ان کے تھوک کے آرڈرز ہی درے کی فیکٹریاں اور ورکشاپیں چالو رکھتے ہیں۔ نئے ہتھیار کے ساتھ اس کا سارا متعلقہ لٹریچر بھی آ جاتا ہے۔ یہاں درّے کے آس پاس کے علاقوں میں کئی ریٹائرڈ آرمی آفیسرز رہائش پذیر ہیں۔ ہم وہ لٹریچر ان کو دکھاتے ہیں اور وہ ہمیں اس کی تمام ٹیکنیکل تفصیلات سے آگاہ کر دیتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ ویپن کا وزن کیا ہے، شرحِ فائر کیا ہے، بیرل کی لمبائی کتنی ہے، رینج کیا ہے، فائرنگ میکانزم کیا ہے ٖوغیرہ وغیرہ۔۔۔ البتہ دھات سازی (Metallurgy) میں کون کون سی دھاتیں کس شرح سے استعمال کی گئی ہیں اس کا کوئی ذکر لٹریچر میں نہیں ہوتا لیکن ہم اسلحہ دیکھ کر فوراً معلوم کر لیتے ہیں کہ کون سی دھات میں کون کون سی دوسری دھاتوں کی آمیزش کی گئی ہے۔ یہ ماہر دھات ساز ہماری بھٹیوں میں برسوں سے یہی کام کررہے ہیں۔ اتنے میں انکل نے کسی کو آواز دی اور ایک دھات ساز کو بلوا لیا۔ اس کا سراپا اور چہرہ مہرہ دیکھ کر مجھے ہنسی آ رہی تھی کہ اس کو میٹلرجی کی بھلا کیا سوجھ بوجھ ہوگی۔ لیکن جب اس نے زبان کھولی تو معلوم ہوا علاقے کے چند ماہر دھات سازوں میں اس کا شمار کیوں ہوتا ہے۔

وہاں سے یہ پتہ بھی چلا کہ درے کی مصنوعات کے زیادہ تر خریدار غیر ملکی ہیں جبکہ ایک مختصر سی کھیپ افغانستان میں بھی جاتی ہے۔ وہاں کی اسلحہ مارکیٹوں سے درہ آدم خیل کی اسلحہ مارکیٹ کا قریبی تعاون بھی ہے اور یہ لاکھوں کا بزنس ہے(اس دور میں لاکھ روپیہ ایک بڑی بھاری رقم ہوتی تھی) معلوم ہوا کہ جو لوگ یورپ یا امریکہ سے کوئی نیا فائری ویپن یہاں بھیجتے ہیں تو ساتھ ہی ان کا یہ آرڈر بھی ہوتا ہے کہ اس کی دس ہزار کاپیاں بھیج دیں۔۔۔ میں یہ باتیں بڑے تعجب کے ساتھ سن رہا تھا۔میں نے سوال کیا کہ یہ ہزاروں کاپیاں کہاں جاتی ہیں اور کہاں استعمال ہوتی ہیں؟ انکل آفریدی سن کر ہنسے اور کہا: ’’ساری دنیا میں اسلحہ کا انڈر گراؤنڈ کاروبار چلتا ہے جس کی مالیت کروڑوں ،اربوں ڈالر ہے۔ ہمیں جو رقم بھیجی جاتی ہے وہ بھی پاؤنڈز اور ڈالرز میں ہوتی ہے‘‘۔انہوں نے مزید وضاحت کی کہ یہ جو مختلف ممالک میں انسرجنسی کی تحریکیں چل رہی ہیں ان کو اسلحہ اور گولہ بارود سپلائی کرنے کا ایک گلوبل انڈر گراؤنڈ نیٹ ورک ہے۔۔۔ یہ ایک الگ دنیا ہے۔جس میں اصل خریداروں اور اصل فروخت کرنے والوں کا سراغ لگانا تقریباً ناممکن ہے۔ یہاں جس ملک کی مہر جس اسلحہ پر چاہیں لگا دی جاتی ہے اور کوئی اندازہ نہیں کر سکتا کہ یہ ’’میڈ اِن درہ آدم خیل‘‘ ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک کی سرکاری اسلحہ ساز فیکٹریوں کے کوڈ نمبر اور لاگ نمبر وغیرہ کیا ہیں، ان کو ہتھیار کے کس حصے پر پرنٹ کرنا ہے، فانٹ سائز کیا رکھنا ہے اور اعداد اور حروف کی شکل و صورت اور حجم کیا ہے۔ وہاں میں نے مختلف ہتھیاروں پر چھپے ہوئے ’’لوگو‘‘ بھی دیکھے اور حیران ہوتا رہا کہ یہ بزنس کتنا منظم اور اور کتناپھیلا ہوا ہے۔

شائد جنرل پرویز مشرف کے زمانے میں درّہ آدم خیل کے کاریگروں کی ایک تعداد کو پی او ایف واہ میں نوکریاں فراہم کی گئی تھیں۔ مقصد یہ تھا کہ ان کے تجربے سے فائدہ اٹھایا جائے۔ پاکستان میں کوئی ایسی نجی ورکشاپ نہیں جس میں اسلحہ بنایا جاتا ہو اور اسلحہ ساز کاریگروں کی ٹریننگ کا بندوبست بھی ہو۔ جو کچھ سکھایا جاتا ہے ، وہ واہ فیکٹریز میں ’’آن جاب‘‘ سکھایا جاتا ہے۔۔۔ پھر معلوم ہوا کہ یہ تجربہ ناکام ثابت ہوا ہے۔ جو لوگ درہ آدم خیل کی ورکشاپوں سے آئے تھے، وہ آزاد پنچھی تھے۔ انہوں نے واہ فیکٹریز میں رہ کر جدید مشینوں پر وہ تمام تکنیکی معلومات سیکھیں جن کی درہ کی ورکشاپوں کو ضرورت تھی اور پھر ملازمتیں چھوڑ کر ’’غائب‘‘ ہو گئے۔۔۔ کہاں واہ میں لگی بندھی تنخواہ اور کہاں درے میں لاکھوں کا کاروبار!۔۔۔

قارئین گرامی! جو سوالات میرے ذہن میں 35،40 برس پہلے درۂ آدم خیل کی اس وزٹ کے دوران پیدا ہوئے تھے ان میں (جیسا کہ میں نے سطور بالا میں عرض کیا) ایک سوال یہ بھی تھا کہ اسلحہ اور بارود کا یہ کاروبار کیا پاکستان کے پُرامن معاشرے کو ڈسٹرب نہیں کر سکتا؟۔۔۔ تو اس کا جواب آخر دو اڑھائی عشروں کے بعد مل ہی گیا۔۔۔ یعنی ماضی قریب میں نہ صرف فاٹا میں کئی جگہ آدم خیل کی طرح کے درّے قائم ہو گئے بلکہ القاعدہ کی آمد نے اس کاروبار کو مزید چمکایا،وسعت دی اور اس کو ’’سٹیٹ آف دی آرٹ‘‘ ٹیکنالوجی کے مترادف کر دیا۔ مصری، عربی اور شامی اسلحہ سازوں نے فاٹا کے آدم خیل دروں جیسے بازاروں میں جدید اسلحہ سازی اور بارود سازی کے پیوند لگائے اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ وبا سارے پاکستان میں پھیل گئی۔ کراچی اس کا خاص مرکز بن گیا۔ یہ جو ہم آئے روز سینکڑوں چھوٹے بڑے ہتھیار، بارودات (Explosives)، فائرنگ میکانزم کے مختلف حصے پرزے ، خودکش جیکٹیں، مختلف سائزوں کی گولیاں (راؤنڈز)، فلیتے، فیوز اور دوسرا الابلا (پیرا فرنیلیا) جو دہشت گردوں سے پکڑا جاتا ہے اپنی ٹی وی سکرینوں پر بڑی بڑی میزوں پر سجا دیکھتے ہیں، یہ سب خانہ ساز (Indigenous) فیکٹریوں میں تیار کیا جاتا ہے۔ کچھ بھی دساور سے امپورٹ نہیں کیا جاتا لیکن ہلاکت انگیزی میں اس کے اثرات ، جینوئن اسلحہ اور گولہ بارود سے کم موثر نہیں ہوتے۔

بارودات بنانے کا فن جو قبل ازیں پشت درپشت چلتا تھا اور سینہ گزٹ کہلاتا تھا، اب کوئی راز نہیں رہا۔ اب تو دہشت گردوں نے جگہ جگہ اسلحہ ساز ورکشاپیں قائم کر لی ہیں۔ دیہاتوں تک میں یہ کاروبار پھیل چکا ہے۔ گنجان آباد محلوں کے اندر اور تنگ عمارتوں میں چھوٹے سائز کی برآمد شدہ اسلحہ ساز مشینوں کی تنصیب اب کوئی انوکھا یا مشکل کام نہیں رہا۔ یہ ایک روٹین بن چکا ہے۔ اب ہر زبان میں آپ کو بم سازی کی تراکیب پر باتصویر مطبوعہ لٹریچر بھی دستیاب ملے گا۔ یہ کام سب سے پہلے امریکہ میں ایک شخص ولیم پاول نے شروع کیا تھا۔ اس نے ایک ضخیم کتاب میں مختلف مہلک اور تباہ کن اسلحہ جات اور بارودات کے ایسے نسخے تحریر کر دیئے تھے جو آپ اپنے کچن میں بھی بنا سکتے ہیں۔ اس کتاب کا نام ’’انارکسٹ کُک بک‘‘ (Anarchist Cookbook) تھا جو 1971ء میں شائع ہوئی تھی۔ اس کتاب نے خود امریکہ میں کیا گُل کھلائے اور کیا کیا تباہیاں مچائیں یہ ایک حیرت انگیز داستان ہے۔ یہ ’’لاگ‘‘ وہیں سے پہلے عربوں اور پھر پاکستانی دہشت گردوں کو لگی۔1990ء کے عشرے میں اس کتاب پر پابندی لگا دی گئی تھی اور ساری کاپیاں مارکیٹ سے اٹھا لی گئی تھیں لیکن جب لاکھوں کاپیاں دنیا بھر میں فروخت ہو جائیں تو آپ کس کس کو تلف کریں گے؟

انسان بھی کیا عجیب چیز ہے؟۔۔۔ امن چاہتا ہے لیکن جنگ کی جستجو میں مارا مارا پھرتا ہے۔ا بتدائے آفرینش سے لے کر اب تک کوئی دور ایسا نہیں گزرا جو جنگ و جدل سے خالی ہو۔ حد یہ ہے کہ جوہری قوت کی ایجاد اور اس کی ہلاکت خیزی کے تجربات دیکھنے کے بعد بھی اگست 1945ء سے لے کر اب تک لاتعداد غیر جوہری جنگیں ہو چکی ہیں اور آج بھی ہو رہی ہیں۔۔۔۔ پاکستان اپنے قیام سے لے کر اب تک کئی جنگوں کا تماشائی اور فریق رہا ہے اور کئی دہشت گردانہ کارروائیوں کا نشانہ بھی بنتا رہا ہے ۔لیکن اس پلازے کی بہت سی اینٹیں باہر سے نہیں آئیں، ہم میں سے ہی کسی نے ’’پھینکی‘‘ ہیں۔ اس لئے سچی بات ہے کہ آنے والے دور سے مجھے تو بہت ڈر لگنے لگا ہے۔۔۔ دنیا ایک طرف عالمی امن کا پرچار کرتی ہے لیکن دوسری طرف تیزی سے تیسری عالمی جنگ کی طرف گامزن ہے۔

مزید : کالم