عزوہ بدر:معرکہ خروشر

عزوہ بدر:معرکہ خروشر

مولانا صفی الرحمن مبارکپوریؒ

جب مشرکین کا لشکر نمودار ہوا اور دونوں فوجیں ایک دوسرے کو دکھائی دینے لگیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے اللہ یہ قریش ہیں جو اپنے پورے غرور و تکبر کے ساتھ تیری مخالفت کرتے ہوئے اور تیرے رسولؐ کو جھٹلاتے ہوئے آگئے ہیں۔ اے اللہ تیری مدد۔۔۔ جس کا تونے وعدہ کیا ہے۔ اے اللہ آج انہیں اینٹھ کر رکھ دے۔

’’اس موقع پر رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کی صفیں درست فرمائیں۔ پھر جب صفیں درست کی جا چکیں توآپ ؐ نے لشکر کو ہدایت فرمائی کہ جب تک اسے آپ ؐکے آخری احکام موصول نہ ہو جائیں جنگ شروع نہ کرے۔ اس کے بعد طریقہ جنگ کے بارے میں ایک خصوصی رہنمائی فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جب مشرکین جمگھٹ کرکے تمہارے قریب آ جائیں تو ان پر تیر چلانا اور اپنے تیر بچانے کی کوشش کرنا (یعنی پہلے ہی سے فضول تیر اندازی کرکے تیروں کو ضائع نہ کرنا۔) اور جب تک وہ تم پر چھانہ جائیں تلوار نہ کھینچنا۔ اس کے بعد آپؐ اور ابوبکر رضی اللہ عنہ چھپر کی طرف واپس گئے اور حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ اپنا نگران دستہ لے کر چھپر کے دروازے پر تعینات ہوگئے۔

اس معرکے کا پہلا ایندھن اسود بن عبدالاسد مخزومی تھا۔ یہ شخص بڑا اڑیل اور بدخلق تھا۔ یہ کہتے ہوئے میدان میں نکلا کہ میں اللہ سے عہد کرتا ہوں کہ ان کے حوض کا پانی پی کر رہوں گا، ورنہ اسے ڈھا دوں گا یا اس کے لئے جان دے دوں گا۔ جب یہ ادھر سے نکلا تو ادھر سے حضرت حمزہؓ بن عبدالمطلب برآمد ہوئے۔ دونوں میں حوض سے پرے ہی مڈبھیڑ ہوئی۔ حضرت حمزہؓ نے ایسی تلوار ماری کہ اس کا پاؤں نصف پنڈلی سے کٹ کر اڑ گیا اور وہ پیٹھ کے بل گر پڑا۔ اس کے پاؤں سے خون کا فوارہ نکل رہا تھا۔ جس کا رخ اس کے ساتھیوں کی طرف تھا لیکن اس کے باوجود وہ گھٹنوں کے بل گھسٹ کر حوض کی طرف بڑھا اور اس میں داخل ہوا ہی چاہتا تھا تاکہ اپنی قسم پوری کرلے کہ اتنے میں حضرت حمزہؓ نے دوسری ضرب لگائی اور وہ حوض کے اندر ہی ڈھیر ہو گیا۔

یہ اس معرکے کا پہلا قتل تھا اور اس سے جنگ کی آگ بھڑک اٹھی، چنانچہ اس کے بعد قریش کے تین بہترین شہسوار نکلے جو سب کے سب ایک ہی خاندان کے تھے۔ ایک عتبہ اور دوسرا اس کا بھائی شیبہ جو دونوں ربیعہ کے بیٹے تھے اور تیسرا ولید جو عتبہ کا بیٹا تھا۔ انہوں نے اپنی صف سے الگ ہوتے ہی دعوت مبارزت دی۔ مقابلے کے لئے انصار کے تین جوان نکلے۔ ایک عوفؓ دوسرے معوذؓ۔۔۔ یہ دونوں حارث کے بیٹے تھے اور ان کی ماں کا نام عفراء تھا۔۔۔ تیسرے عبداللہ بن رواحہؓ،قریشیوں نے کہا: تم کون لوگ ہو؟ انہوں نے کہا: انصار کی ایک جماعت ہیں۔ قریشیوں نے کہا: آپ لوگ شریف مدمقابل ہیں لیکن ہمیں آپ سے سروکارنہیں۔ ہم تو اپنے چچیرے بھائیوں کو چاہتے ہیں۔ پھر ان کے منادی نے آواز لگائی: محمدؐ۔۔۔ ہمارے پاس ہماری قوم کے ہمسروں کو بھیجو۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: عبیدہ بن حارثؓ! اٹھو حمزہؓ! اٹھو۔ علیؓ! اٹھو۔ جب یہ لوگ اٹھے اور قریشیوں کے قریب پہنچے تو انہوں نے پوچھا۔ آپ کون لوگ ہیں؟انہوں نے اپنا تعارف کرایا۔ قریشوں نے کہا۔ ہاں آپ لوگ شریف مدمقابل ہیں۔ اس کے بعد معرکہ آرائی ہوئی۔ حضرت عبیدہؓ نے جو سب سے معمر تھے۔۔۔ عتبہ بن ربیعہ سے مقابلہ کیا۔ حضرت حمزہؓ نے شیبہ سے اور حضرت علیؓ نے ولید سے حضرت حمزہؓ اور حضرت علیؓ نے تو اپنے اپنے مقابل کو جھٹ مار لیا لیکن حضرت عبیدہؓ اور ان کے مدمقابل کے درمیان ایک ایک وار کا تبادلہ ہوا اور دونوں میں سے ہر ایک نے دوسرے کو گہرا زخم لگایا۔ اتنے میں حضرت علیؓاور حضرت حمزہؓ اپنے اپنے شکار سے فارغ ہو کر آگئے، آتے ہی عتبہ پر ٹوٹ پڑے، اس کا کام تمام کیا اور حضرت عبیدہؓ کو اٹھا لائے۔ ان کا پاؤں کٹ گیا تھا اور آواز بند ہوگئی تھی جو مسلسل بند ہی رہی یہاں تک کہ جنگ کے چوتھے یا پانچویں دن جب مسلمان مدینہ واپس ہوتے ہوئے وادی صفراء سے گزر رہے تھے ان کا انتقال ہو گیا۔

اس مبارزت کا انجام مشرکین کے لئے ایک برا آغاز تھا۔ وہ ایک ہی جست میں اپنے تین بہترین شہ سواروں اور کمانڈروں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ اس لئے انہوں نے غیض و غضب سے بے قابو ہو کر یکبارگی حملہ کر دیا۔

دوسری طرف مسلمان اپنے رب سے نصرت اور مدد کی دعا کرنے اور اس کے حضور اخلاص و تضرع اپنانے کے بعد اپنی اپنی جگہوں پر جمے اور دفاعی موقف اختیار کئے مشرکین کے تابڑ توڑ حملوں کو روک رہے تھے اور انہیں خاصا نقصان پہنچا رہے تھے۔ زبان پر احد احد کا کلمہ تھا۔

ادھر رسول اللہﷺ صفیں درست کرکے واپس آتے ہی اپنے پاک پروردگار سے نصرت و مدد کا وعدہ پورا کرنے کی دعا مانگنے لگے۔ آپؐ کی دعا یہ تھی:

’’اے اللہ! تو نے مجھ سے جو وعدہ کیا ہے اسے پورا فرما دے۔ اے اللہ! میں تجھ سے تیرا عہد اور تیرے وعدے کا سوال کر رہا ہوں۔‘‘

پھر جب گھمسان کی جنگ شروع ہوگئی، نہایت زور کا رن پڑا اور لڑائی شباب پر آگئی تو آپؐ نے یہ دعا فرمائی۔

’’اے اللہ! اگر آج یہ گروہ ہلاک ہو گیا تو تیری عبادت نہ کی جائے گی۔ اے اللہ! اگر تو چاہے تو آج کے بعد تیری عبادت کبھی نہ کی جائے۔

آپؐ نے خوب تضرع کے ساتھ دعا کی یہاں تک کہ دونوں کندھوں سے چادر گر گئی۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے چادر درست کی اور عرض پرواز ہوئے، اے اللہ کے رسولؐ! بس فرمایئے! آپؐ نے اپنے رب سے بڑے الحاح کے ساتھ دعا فرمالی۔ ادھر اللہ نے فرشتوں کی وحی کی کہ:

’’میں تمہارے ساتھ ہوں، تم اہل ایمان کے قدم جماؤ، میں کافروں کے دل میں رعب ڈال دوں گا۔‘‘

اور رسول اللہ ﷺ کے پاس وحی بھیجی کہ:

’’میں ایک ہزار فرشتوں سے تمہاری مدد کروں گا جو آگے پیچھے آئیں گے۔‘‘

اس کے بعد رسول اللہﷺ کو ایک جھپکی آئی۔ پھر آپؐ نے سر اٹھایا اور فرمایا! ابوبکر خوش ہو جاؤ، تمہارے پاس اللہ کی مدد آگئی۔ یہ جبریل علیہ السلام ہیں اپنے گھوڑے کی لگام تھامے اور اس کے آگے آگے چلتے ہوئے آ رہے ہیں اور گردوغبار میں اٹے ہوئے ہیں۔ اس کے بعد رسول اللہﷺ چھپر کے دروازے سے باہر تشریف لائے۔ آپؐ نے زرہ پہن رکھی تھی۔ آپؐ پرجوش طور پر آگے بڑھ رہے تھے اور فرماتے جا رہے تھے۔

’’عنقریب یہ جتھہ شکست کھا جائے گا اور پیٹھ پھیر کر بھاگے گا۔‘‘

اس کے بعد آپؐ نے ایک مٹھی کنکریلی مٹی لی اور قریش کی طرف رخ کرکے فرمایا: ’’چہرے بگڑ جائیں‘‘ اور ساتھ ہی مٹی ان کے چہروں کی طرف پھینک دی۔ پھر مشرکین میں سے کوئی بھی نہیں تھا جس کی دونوں آنکھوں، نتھنے اور منہ میں اس ایک مٹھی مٹی میں سے کچھ نہ کچھ گیا نہ ہو۔ اسی کی بابت اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔

’’جب آپؐ نے پھینکا تو درحقیقت آپؐ نے نہیں پھینکا بلکہ اللہ نے پھینکا۔‘‘

اس کے بعد رسول اللہﷺ نے جوابی حملے کا حکم اور جنگ کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا: چڑھ دوڑو۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمدﷺ کی جان ہے ان سے جو آدمی بھی ڈٹ کر، ثواب سمجھ کر، آگے بڑھ کر اور پیچھے نہ ہٹ کر لڑے گااور مارا جائے گا اللہ اسے ضرور جنت میں داخل کرے گا‘‘۔

جس وقت رسول اللہﷺ نے جوابی حملہ کا حکم صادر فرمایا دشمن کے حملوں کی تیزی جا چکی تھی اور ان کا جوش و خروش سرد پڑ رہا تھا۔ اس لئے یہ باحکمت منصوبہ مسلمانوں کی پوزیشن مضبوط کرنے میں بہت موثر ثابت ہوا، کیونکہ صحابہؓ کرام کو جب حملہ آور ہونے کا حکم ملا اور ابھی ان کا جوش جہاد شباب پر تھا تو انہوں نے نہایت سخت تند اور صفایا کن حملہ کیا وہ صفوں کی صفیں درہم برہم کرتے اور گردنیں کاٹتے آگے بڑھے۔ ان کے جوش و خروش میں یہ دیکھ کر مزید تیزی آگئی کہ رسول اللہﷺ بہ نفس نفیس زرہ پہنے تیز تیز چلتے تشریف لا رہے ہیں اور پورے یقین و صراحت کے ساتھ فرما رہے ہیں کہ ’’عنقریب یہ جتھہ شکست کھا جائے گا، اور پیٹھ پھیر کر بھاگے گا۔‘‘ اس لئے مسلمانوں نے نہایت پرجوش و پرخروش لڑائی لڑی اور فرشتوں نے بھی ان کی مدد فرمائی۔ چنانچہ ابن سعد کی روایت میں حضرت عکرمہؓسے مروی ہے کہ اس دن آدمی کا سرکٹ کر گرتا اور یہ پتا نہ چلتا کہ اسے کس نے مارا اور آدمی کا ہاتھ کٹ کر گرتا اور یہ پتا نہ چلتا کہ اسے کس نے کاٹا۔

ابلیس لعین، سراقہ بن مالک بن جعشم مدلجی کی شکل میں آیا تھا اور مشرکین سے اب تک جدا نہیں ہوا تھا، لیکن جب اس نے مشرکین کے خلاف فرشتوں کی کارروائیاں دیکھیں تو الٹے پاؤں پلٹ کر بھاگنے لگا، مگر حارث بن ہشام نے اسے پکڑ لیا، وہ سمجھ رہا تھا کہ یہ واقعی سراقہ ہی ہے، لیکن ابلیس نے حارث کے سینے پر ایسا گھونسا مارا کہ وہ گر گیا اور ابلیس نکل بھاگا، مشرکین کہنے لگے: سراقہ کہاں جا رہے ہو؟ کیا تم نے یہ نہیں کہا تھا کہ تم ہمارے مدد گار ہو ہم سے جدا نہ ہو گے؟ اس نے کہا! میں وہ چیز دیکھ رہا ہوں جسے تم نہیں دیکھتے۔ مجھے اللہ سے ڈر لگتا ہے اور اللہ بڑی سخت سزا والا ہے، اس کے بعد بھاگ کر سمندر میں جا رہا۔

تھوڑی دیر بعد مشرکین کے لشکر میں ناکامی اور اضطراب کے آثار نمو دار ہو گئے۔ ان کی صفیں مسلمانوں کے سخت اور تابڑ توڑ حملوں سے درہم برہم ہونے لگیں اور معرکہ اپنے انجام کے قریب جا پہنچا۔ پھر مشرکین کے جتھے بے ترتیبی کے ساتھ پیچھے ہٹے اور ان میں بھگدڑ مچ گئی۔ مسلمانوں نے مارتے کاٹتے اور پکڑتے باندھتے ان کا پیچھا کیا یہاں تک کہ ان کو بھر پور شکست ہو گئی۔

البتہ ابو جہل اب بھی اپنے گرد مشرکین کا ایک غول لئے جما ہوا تھا۔ اس غول نے ابو جہل کے چاروں طرف تلواروں کی باڑھ اور نیزوں کا جنگل قائم کر رکھا تھا، لیکن اسلامی ہجوم کی آندھی نے اس باڑھ کو بھی بکھیر دیا اور اس جنگل کو بھی اکھیڑ دیا۔ اس کے بعد یہ طاغوت اکبر ابو جہل دکھائی پڑا۔ مسلمانوں نے دیکھا کہ وہ ایک گھوڑے پر چکر کاٹ رہا ہے۔ ادھر اس کی موت دو انصاری جوانوں کے ہاتھوں اس کا خون چوسنے کی منتظر تھی۔

حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ کا بیان ہے کہ میں جنگ بدر کے روز صف کے اندر تھا کہ اچانک مڑا تو کیا دیکھتا ہوں کہ دائیں بائیں دو نو عمر جوان تھا۔ گویا ان کی موجودگی سے میں حیران ہو گیا کہ اتنے میں ایک نے اپنے ساتھی سے چھپا کر مجھ سے کہا: چچا جان! مجھے ابو جہل کو دکھلا دیجئے۔ میں نے کہا بھتیجے تم اسے کیا کرو گے؟ اس نے کہا: مجھے بتایا گیا ہے کہ وہ رسول اللہؐ کو گالی دیتا ہے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر میں نے اس کو دیکھ لیا تو میرا وجود اس کے وجود سے الگ نہ ہو گا۔ یہاں تک کہ ہم میں جس کی موت پہلے لکھی ہے وہ مر جائے۔ وہ کہتے ہیں کہ مجھے اس پر تعجب ہوا۔ اتنے میں دوسرے نے مجھے اشارے سے متوجہ کرکے یہی بات کہی۔ ان کا بیان ہے کہ میں نے چند ہی لمحوں بعد دیکھا کہ ابو جہل لوگوں کے درمیان چکر کاٹ رہا ہے۔ میں نے کہا: ارے دیکھتے نہیں! یہ رہا تم دونوں کا شکار جس کے بارے میں تم پوچھ رہے تھے۔ ان کا بیان ہے کہ یہ سنتے ہی وہ دونوں اپنی تلواریں لیے جھپٹ پڑے اور اسے مار دیا۔ پھر پلٹ کر رسول اللہؐ کے پاس آئے۔ آپؐ نے فرمایا: تم میں سے کس نے قتل کیا ہے؟ دونوں نے کہا: میں نے قتل کیا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: اپنی اپنی تلواریں پونچھ چکے ہو؟ بولے نہیں۔ آپؐ نے دونوں کی تلواریں دیکھیں اور فرمایا: تم دونوں نے قتل کیا ہے۔ البتہ ابو جہل کا سامان معاذ بن عمرو بن جموح کو دیا دو حملہ آوروں کا نام معاذ بن عمرو بن جموح اور معاذ بن عفرا ہے۔

جب معرکہ ختم ہو گیا تو رسول اللہؐ نے فرمایا: کون ہے جو دیکھے کہ ابو جہل کا انجام کیا ہوا؟ اس پر صحابہ کرامؓ اس کی تلاش میں بکھر گئے۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے اسے اس حالت میں پایا کہ ابھی سانس آ جا رہی تھی۔ انہوں نے اس کی گردن پر پاؤں رکھا اور سر کاٹنے کے لئے داڑھی پکڑی اور فرمایا: او اللہ کے دشمن! آخر اللہ نے تجھے رسوا کیا نا؟ اس نے کہا: مجھے کاہے کو رسوا کیا؟ کیا جس شخص کو تم لوگوں نے قتل کیا ہے اس سے بھی بلند پایہ کوئی آدمی ہے؟ یا جس کو تم لوگوں نے قتل کیا اس سے بھی اوپر کوئی آدمی ہے؟ پھر بولا: کاش! مجھے کسانوں کے بجائے کسی اور نے قتل کیا ہوتا۔ اس کے بعد کہنے لگا: مجھے بتاؤ آج فتح کس کی ہوئی؟ حضرت عبداللہ بن مسعود نے فرمایا: اللہ اور اس کے رسولؐ کی۔ اس کے بعد حضرت عبداللہ بن مسعود سے۔۔۔ جو اس کی گردن پر پاؤں رکھ چکے تھے۔۔۔ کہنے لگا: او بکری کے چرواہے ! تو بڑی اونچی اور مشکل جگہ پر چڑھ گیا۔۔۔

اس گفتگو کے بعد حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے اس کا سر کاٹ لیا اور رسول اللہ کی خدمت میں لا کر حاضر کرتے ہوئے عرض کیا: یارسولؐ اللہ! یہ رہا اللہ کے دشمن ابو جہل کا سر۔ آپؐ نے تین بار فرمایا: واقعی۔ اس خدا کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اس کے بعد فرمایا:

’’ اللہ اکبر، تمام حمد اللہ کے لئے ہے جس نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا، اپنے بندے کی مدد فرمائی، اور تنہا سارے گروہوں کو شکست دی‘‘۔

پھر فرمایا: چلو مجھے اس کی لاش دکھاؤ۔ ہم نے آپؐ کو لے جا کر لاش دکھائی۔ آپؐ نے فرمایا: یہ اس امت کا فرعون ہے۔

اس معرکے میں قدم قدم پر ایسے مناظر پیش آئے جن میں عقیدے کی قوت اور اصول کی پختگی نمایاں اور جلوہ گر تھی۔ اس معرکے میں باپ اور بیٹے میں بھائی اور بھائی میں صف آرائی ہوئی۔ اصولوں کے اختلاف پر تلواریں بے نیام ہوئیں اور مظلوم و مقہور نے ظالم و قاہر سے ٹکرا کر اپنے غصے کی آگ بجھائی۔

حضرت عمر بن الخطابؓ نے اپنے ماموں عاص بن ہشام بن مغیرہ کو قتل کیا۔ حضرت ابو بکر صدیقؓ نے اپنے بیٹے عبدالرحمن کو۔۔۔ جو اس وقت مشرکین کے ہمراہ تھے۔۔۔ پکار کر کہا: او خبیث! میرا مال کہاں ہے؟ عبدالرحمن نے کہا۔

ہتھیار، تیز رو گھوڑے اور اس تلوار کے سوا کچھ باقی نہیں جو بڑھاپے کی گمراہی کا خاتمہ کرتی ہے۔

اس جنگ میں حضرت عکاشہ بن محصن اسدیؓ کی تلوار ٹوٹ گئی۔ وہ رسول اللہؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپؐ نے انہیں لکڑی کا ایک پھٹا تھما دیا اور فرمایا عکاشہ! اسی سے لڑائی کرو۔ عکاشہ نے اسے رسول اللہؐ سے لے کر ہلایا تو وہ ایک لمبی، مضبوط اور چم چم کرتی ہوئی سفید تلوار میں تبدیل ہو گیا۔ پھر انہوں نے اسی سے لڑائی کی یہاں تک کہ اللہ نے مسلمانوں کو فتح نصیب فرمائی۔ اس تلوار کا نام عون، یعنی مدد، رکھا گیا تھا۔ یہ تلوار مستقلاً حضرت عکاشہؓ کے پاس رہی اور وہ اسی کو لڑائیوں میں استعمال کرتے رہے یہاں تک کے دور صدیقی میں مرتدین کے خلاف جنگ کرتے ہوئے شہید ہو گئے۔ اس وقت بھی یہ تلوار ان کے پاس ہی تھی۔

خاتمہ جنگ کے بعد حضرت معصب بن عمیر عبدریؓ اپنے بھائی ابو عزیز بن عمیر عبدری کے پاس سے گزرے۔ ابو عزیز نے مسلمانوں کے خلاف جنگ لڑی تھی اور اس وقت ایک انصاری صحابی اس ہاتھ باندھ رہے تھے۔ حضرت معصبؓ نے اس انصاری سے کہا: اس شخص کے ذریعے اپنے ہاتھ مضبوط کرنا، اس کی ماں بڑی مالدار ہے وہ غالباً تمہیں اچھا فدیہ دے گی۔ اس پر ابو عزیز نے اپنے بھائی مصعب سے کہا: کیا میرے بارے میں تمہاری یہی وصیت ہے؟ حضرت مصعب نے فرمایا۔۔۔(ہاں!) تمہارے بجائے یہ۔۔۔ انصاری۔۔۔ میرا بھائی ہے۔

جب مشرکین کی لاشوں کو کنویں میں ڈالنے کا حکم دیا گیا اور عتبہ بن ربیعہ کو کنویں کی طرف گھسیٹ کر لے جایا جانے لگا تو رسول اللہؐ نے اس کے صاحبزادے حضرت ابو حذیفہؓ کے چہرے پر نظر ڈالی، دیکھا تو غمزدہ تھے، چہرہ بدلا ہوا تھا۔ آپؐ نے فرمایا: ابو حذیفہ! غالباً اپنے والد کے سلسلے میں تمہارے دل کے اندر کچھ احساسات ہیں؟ انہوں نے کہا: نہیں واللہ یا رسول اللہ! میرے اندر اپنے باپ کے بارے میں اور ان کے قتل کے بارے میں ذرا بھی لرزش نہیں، البتہ میں اپنے باپ کے متعلق جانتا تھا کہ ان میں سوجھ بوجھ ہے۔ دور اندیشی اور فضل و کمال ہے۔ اس لئے میں آس لگائے بیٹھا تھا کہ یہ خوبیاں انہیں اسلام تک پہنچا دیں گی، لیکن اب ان کا انجام دیکھ کر اوراپنی توقع کے خلاف کفر پر ان کا خاتمہ دیکھ کر مجھے افسوس ہے۔ اس پر رسول اللہؐ نے حضرت ابو حذیفہؒ کے حق میں دعائے خیر فرمائی اوران سے بھلی بات کہی۔

یہ معرکہ مشرکین کی شکستِ فاش اور مسلمانوں کی فتح مبین پر ختم ہوا اوراس میں چودہ مسلمان شہید ہوئے۔ چھ مہاجرین میں سے اور آٹھ انصار میں سے، لیکن مشرکین کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ اس کے ستر آدمی مارے گئے۔

مزید : ایڈیشن 2