میاں نواز شریف وطن واپس آرہے ہیں۔ ناممکن کو ممکن بنانا ہو گا؟

میاں نواز شریف وطن واپس آرہے ہیں۔ ناممکن کو ممکن بنانا ہو گا؟
میاں نواز شریف وطن واپس آرہے ہیں۔ ناممکن کو ممکن بنانا ہو گا؟

  


خبر یہ ہے کہ وزیر اعظم میاں نواز شریف اگلے ہفتے وطن واپس آرہے ہیں۔ خبر تو یہ بھی ہے کہ وہ شاید پیر کو وطن واپس پہنچ جائیں، لیکن دن آگے پیچھے ہو سکتا ہے۔بہر حال میاں نواز شریف وطن واپس آرہے ہیں ویسے تو ان کی بیماری کے حوالے سے بھی اپوزیشن نے کافی ابہام پیدا کیا ہے کہ وہ بیمار نہیں، لیکن بہر حال یہ حقیقت ہے کہ ان کا دل کا بائی پاس ہوا ہے، تا ہم اب وہ رو بصحت ہیں۔

میاں نواز شریف کے باہر جانے نے بہت سی افواہوں کو جنم دیا ۔ جب وہ پہلی دفعہ گئے تو کہا گیا کہ بس وہ چلے گئے ہیں۔ اب واپس نہیں آئیں گے۔ بس پانامہ کے بعد میاں نواز شریف اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ معاہدہ کے تحت چلے گئے ہیں۔ لیکن میاں نواز شریف ان تمام افواہوں کے دباؤ میں اپنا علاج تقریباً ادھوار چھوڑ کر وطن واپس پہنچ گئے۔ انہوں نے ایک جارحانہ حکمت عملی اپنائی۔ خیبر پختونخوا میں جلسے کئے، پارلیمنٹ سے خطاب کیا، ایک حد تک اپوزیشن کا مقابلہ کیا، کافی حد تک ماحول کو بدلا اور پھر دوبارہ باقی علاج کے لئے لندن چلے گئے۔

میاں نواز شریف کو بیرون ملک علاج کے لئے جانے سے قبل پتہ تھا کہ انہیں علاج میں چار ہفتے سے زائد وقت لگ جائے گا۔ لیکن پھر بھی انہوں نے اپنی جگہ کوئی قائم مقام وزیر اعظم نہیں بنایا۔ گو کہ قائم مقام وزیر اعظم کے لئے انہیں پہلے استعفیٰ دینا پڑتا اور اس کے بعد ہی قومی اسمبلی نیاوزیر اعظم منتحب کر سکتی تھی ۔ پاکستان کے آئین میں کوئی ایسی شق موجود نہیں کہ وزیر اعظم کسی بھی وزیر کو ایک مخصوص میعاد کے لئے کسی کو بھی قائم مقام وزیر اعظم نامزد کر سکیں۔ اسی لئے وزیر اعظم ملک میں ہوں یا بیرون ملک وہ وزیراعظم ہی ہوتے ہیں۔ ان کے قائم مقام کا کوئی وجود نہیں۔ لیکن اگر پانامہ کی وجہ سے مخصوص حالات نہ ہوتے۔ اسٹبلشمنٹ کے ساتھ حالات اس قدر خراب نہ ہوتے تو شاید کسی وزیر کو چار ہفتے کے لئے وزیر اعظم منتخب کروا دیا جاتا اور ملک میں واپس آکر دوبارہ منتخب ہو جاتے۔ لیکن مخصوص سیاسی حالات نے انہیں ایسا کرنے سے روک دیا۔ انہوں نے اپنے بیرون ملک ہونے کی تنقید کو قبول کرنا مناسب سمجھا، لیکن استعفیٰ دینا سیاسی طور پر مناسب نہیں سمجھا۔

اب وزیر اعظم واپس آرہے ہیں، ان کے آتے ہی عید کی آمد ہو گی۔ تا ہم پھر بھی ان کے آنے سے ملک میں سیاسی ہلچل ہو گی۔ ان کے مخالفین بھی تیز ہو نگے اور میاں نواز شریف کے حامی بھی ان کی وطن واپسی پر تیز ہو نگے۔ ان کے اندر بھی جذبہ جوان ہو گا۔ اس لئے میاں نواز شریف کی وطن واپسی سے ملک میں سیاست تیز ہو گی۔

تا ہم یہ بات اہم ہوگی کہ وطن واپسی پر میاں نواز شریف کی اپنی پالیسی کیا ہو گی، بیرون ملک سے وزیر اعظم نے کوئی متنازعہ اور سیاسی بیان نہیں دیا۔ انہوں نے صرف سوشل ایشوز پر بیان دیا ہے، فادر ڈے پر بیان دیا ہے، امجد صابری کی ہلاکت پر بیان دیا ہے، لیکن کسی سیاسی موضوع پر بیان نہیں دیا ہے۔تا ہم وطن واپسی پر وہ ملک کے اہم سیاسی ایشوز سے خود کو مزید دور نہیں رکھ سکیں گے۔ سوال یہ بھی ہے کہ کیا میاں نواز شریف کی وطن واپسی سے اپوزیشن کے ساتھ ٹی او آر پر ڈیڈ لاک ختم ہو سکے گا، کیا ان کی سیاسی ٹیم نے کوئی ایسا سیاسی ہوم ورک کیا ہے جس سے وزیر اعظم کی وطن واپسی پر کوئی بڑا بریک تھرو ہو سکے۔ ویسے تو اے این پی، قومی وطن پارٹی متحدہ اپوزیشن سے عملاً علیحدہ ہو چکی ہیں۔ گو کہ جماعت اسلامی نے کرپشن کے خلاف ایک پیدل مارچ کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پھر بھی جماعت اسلامی شاید اس نہج پر جانے کو تیار نہیں، جس پر تحریک انصاف جانے کو تیار ہے۔

میاں نواز شریف وطن واپسی پر کیا کر سکتے ہیں کہ ملک کے سیاسی منظر نامہ پر کوئی بڑی تبدیلی آسکے۔وہ اپنی عوامی رابطہ مہم شروع کر کے اپوزیشن کا سیاسی دباؤ کم کرنے کی کوشش تو کریں گے لیکن کیا وہ پارلیمنٹ میں موجود سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی قائدین کا کوئی اجلاس بلا کر کوئی بریک تھرو کر سکتے ہیں۔ کیا وہ پیپلزپارٹی کے ساتھ مفاہمت کا کوئی بریک تھروکر سکتے ہیں، لیکن شاید یہ دونوں کام نہیں ہو سکتے۔ اس وقت میاں نواز شریف اگر پارلیمانی قائدین کا کوئی اجلاس بلاتے بھی ہیں تو اس میں کوئی مفاہمت نہیں ہو سکتی، کوئی اتفاق رائے نہیں ہو سکے گا بلکہ سیاسی صف بندی مزید واضح ہو جائے گی۔ شاید آدھے قائدین ان کی ایسی کانفرنس میں شرکت بھی نہ کریں۔ اسی طرح بلاول بھٹو جو لائن لے چکے ہیں، اس میں اب ان کی میاں نواز شریف کے ساتھ کھلے عام مفاہمت کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔

اس کے بعد اب میاں نواز شریف کے پاس تین آپشن پھر بھی باقی رہ جاتے ہیں،لیکن یہ تینوں آپشن وہ ہیں جو میاں نواز شریف نہایت مجبوری میں استعمال کرنے کا سوچ سکتے ہیں، لیکن حکمران جماعت کے ذمہ دار حلقوں کے مطابق ان تینوں آپشن میں سے کوئی ایک آپشن تب ہی استعمال کیا جائے گا، جب میاں نواز شریف کو یہ یقین ہو جائے گا کہ ان کی حکومت کا جانا ٹھہر چکا ہے، اور وہ ایسی کسی صورتحال میں کوئی فیصلہ کریں گے۔

سب سے پہلا آپشن ان کے پاس ان ہاؤس تبدیلی کا ہوگا۔ یہ آپشن بھی وزیر اعظم تب ہی استعمال کریں گے جب ان کو ساری بساط لپیٹی جاتی نظر آئے گی۔ دوسرا آپشن ملک میں قبل از وقت انتخابات کا ہے، یہ ان ہاؤس تبدیلی سے بھی مشکل آپشن ہے کیونکہ اس میں اقتدار کے جانے کے امکانات ہو سکتے ہیں اور تیسرا آپشن جس کی بھی ہلکی ہلکی بازگشت سنائی دے رہی ہے کہ وزیر اعظم میاں نواز شریف ٹی او آر پر ڈیڈ لاک پر ریفرنڈم کی آپشن پر بھی غور کر رہے ہیں۔ کیا اپوزیشن اور حکومتی ٹی او آر پر ریفرنڈم کے ذریعے کوئی فیصلہ کیا جا سکتا ہے، لیکن یہ بھی ایک مشکل آپشن ہے، لیکن سیاست نا ممکن کو ممکن بنانے کا کھیل ہے اور میاں نواز شریف کو اب ناممکن کو ممکن بنا کر ہی دکھانا ہے، اسی میں ان کی بچت ہے۔

مزید : کالم