پاکستان کی پہلی الیکٹرانک کورٹ نے راولپنڈی میں کام کا آغاز کردیا

پاکستان کی پہلی الیکٹرانک کورٹ نے راولپنڈی میں کام کا آغاز کردیا

راولپنڈی(آئی این پی ) وفاقی حکومت کے ماتحت پاکستان کی پہلی الیکٹرانک کورٹ (ای ٹیک کورٹ) نے راولپنڈی میں کام کا آغاز کردیا،ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سہیل ناصر کو پہلی ای کورٹ کا جج مقرر کر دیاگیا،پہلے دن مضاربہ اسکینڈل کے5 گواہوں کے بیانات بذریعہ اسکائپ قلمبند کئے گئے،عدالت کے جج سہیل ناصر نے کہا کہ ای ٹیک عدالت کا مقصد شہریوں کو سہولت فراہم کرنا ہے۔ تفصیلات کے مطابق بدھ کو وفاقی حکومت کے ماتحت پاکستان کی پہلی الیکٹرانک کورٹ (ای ٹیک کورٹ) نے راولپنڈی میں کام کا آغاز کردیاہے،اس سلسلے میں پہلے روز ملک کے مختلف شہروں سے گواہان کے بیانات اسکائپ کے ذریعے ریکارڈ کئے گئے۔ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سہیل ناصر کو پہلی ای کورٹ کا جج مقرر کیا گیا ہے۔اس حوالے سے انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ نے 2007 میں اس حوالے سے فیصلہ دیا تھا کہ قانون میں ای کورٹس کی گنجائش موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ قانون اجازت دیتا ہے کہ بیرون ملک موجود افراد کے علاوہ اندرون ملک دوسرے شہروں میں رہنے والے گواہوں کے بیانات بھی ویڈیو لنک کے ذریعے ریکارڈ کئے جاسکتے ہیں۔راولپنڈی میں قائم پہلی ای کورٹ میں سماعت کے دوران سکھر سے ویڈیو لنک کے ذریعے بیان ریکارڈ کیا گیا۔پہلے دن عدالت میں مضاربہ کیس کے گواہوں کے بیانات بذریعہ اسکائپ قلمبند کئے گئے۔ اس موقع پر جج سہیل ناصر نے کہا کہ ای کورٹ کا مقصد لوگوں کو سہولیات فراہم کرنا ہے، مضاربہ کیس کے حوالے سے سپرنٹنڈنٹ نیب سکھر شعیب محمود اور اسلام آباد سے سیکرٹری رجسٹرار سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (ایس ای سی پی) شوکت حسین نے بیان ریکارڈ کرایا۔ویڈیو لنک کے ذریعے بیانات لینے کیلئے ای کورٹ میں بڑی اسکرین و دیگر الیکٹرانک آلات نصب کردیئے گئے ہیں۔ای کورٹ کے ذریعے بیرون ملک موجود افراد کے بیانات ریکارڈ کئے جاسکیں گے جبکہ ملک میں موجود بزرگ، بیمار یا کسی اور وجہ سے عدالت آنے سے قاصر افراد کے بیانات بھی ویڈیو لنک کے ذریعے قلمبند کیے جاسکیں گے۔اس کے علاوہ وہ سرکاری افسران جو مصروفیت کی وجہ سے عدالت نہیں آسکتے، اپنے دفتر سے بیان ریکارڈ کراسکیں گے جبکہ جیل میں موجود قیدیوں کی شہادتیں بھی اس جدید طریقے سے اکھٹی کی جاسکیں گی۔ای کورٹ میں ویڈیو لنک کے ذریعے بیان ریکارڈ کرانے کی سہولت بزرگ اور بیمار شہریوں کو بھی دی جائے گی

مزید : علاقائی