’’مفتی و قندیل‘‘واقعہ۔۔۔دینی حلقوں کیلئے لمحہ فکریہ!

’’مفتی و قندیل‘‘واقعہ۔۔۔دینی حلقوں کیلئے لمحہ فکریہ!
 ’’مفتی و قندیل‘‘واقعہ۔۔۔دینی حلقوں کیلئے لمحہ فکریہ!

  


اس وقت ’’پانامہ لیکس‘‘ اور دیگر معاملات مسائل سے کہیں زیادہ، مفتی عبدالقوی اور قندیل بلوچ کا معاملہ ’’ہاٹ کیک‘‘ بنا ہوا ہے۔ لوگ قہقہے لگا اور اپنے اپنے انداز میں تبصرہ کر رہے ہیں۔ خود دونوں، الیکٹرانک میڈیا پر جس طرح، اپنی ’’رام کہانی‘‘ سناتے اور پہلو پر پہلو بدلتے ہیں، صاف نظر آرہا ہے، وہ خود بھی اپنے سکینڈل سے لطف اندوز ہو رہے ہیں، اور کیوں نہ ہوں کہ دونوں کی غرض اور مفاد پورا ہو رہا ہے۔ ٹی وی چینلوں ہی کی نہیں، ان دونوں کی بھی ریٹنگ بڑھ رہی ہے۔ بہت پہلے شیفتہ نے کیا خوب کہا تھا ؂

ہم طالب شہرت ہیں، ہمیں ننگ سے کیا کام

بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا

لگتا ہے ان دونوں کی غرض زندگی ہی، شہرت اور ناموری ہے، اس کی خاطر وہ کچھ بھی کرنے کو تیار رہتے ہیں۔ گزشتہ روز بھی مختلف چینلوں پر ان کو دیکھا، دونوں کھل کھلا کر بات کر رہے تھے، چہروں پر سبکی یا افسوس کا نشان تک نہ تھا کہ ان کی تو ریٹنگ بڑھ رہی تھی اور آنے والے دنوں میں، مانگ میں اضافہ کا سوچ کر، دلوں میں لڈو پھوٹ رہے ہوں گے۔ دونوں کا یہ سکینڈل، کوئی پہلا واقعہ تو نہیں، میڈیا میں ان رہنے کے لئے وہ اس طرح کی بودی حرکات اور عجیب و غریب بیانات، کئی بار دہرا چکے ہیں۔ رات بھی، حرام ہے جو ان کے چہروں پر خجالت کے آثار میں سے کچھ ہو، وہ باتیں کر رہے تھے، ہنس رہے تھے اور ہم دیکھنے پر، اپنے آپ میں سمٹ سکڑ رہے تھے۔ ؂

کوئی حد بھی ہے اس احترام آدمیت کی

بدی کرتا ہے دشمن اور ہم شرمائے جاتے ہیں

قندیل بلوچ کی حرکات سے ہمیں قطعاً کوئی غرض نہیں، ہمیں تو افسوس ’’مفتی عبدالقوی‘‘ کے حوالے سے ہے کہ اس شخص نے اپنی بود و باش اور لقب و القاب کو دین کی مناسبت سے اختیار کر رکھا ہے۔ اس کو دینی اقدار اور دین کے احترام کا خصوصی خیال رکھنا چاہئے۔ اس سے کہیں زیادہ اس مکتب فکر کے زعماء کرام کو سوچنا چاہئے کہ ’’مفتی و علامہ‘‘ کے منصب کے کون کون ’’حق دار‘‘ بنے بیٹھے ہیں، اور ان کی حرکات و سکنات سے، ان ذی وقار زعماء کرام کے اپنے مسلک اور مکتب فکر کی بدنامی اور بے توقیری تو نہیں ہو رہی؟

ہمارے ہاں تو دین بیزار طبقات اور دینی اقدار کا تمسخر اڑانے والے، ایسے واقعات اور ایسے افراد کی تلاش میں رہتے ہیں، کہ جن کے ذریعے اسلامی اقدار اور دینی شعائر، مذہبی معاملات و شخصیات کو دبا یا اور رگڑا جاسکے۔ اس سے پہلے، ایک موٹے تازے شخص کو شراب کے نشے میں دھت پکڑا گیا، پھر ایک بار وہ شراب کی کئی بوتلوں کے ساتھ بھی پکڑا گیا۔ تصاویر اور خبریں عام ہوئیں، مگر ہوا تو یہ کہ، اس کا قد کاٹھ، مذہبی حوالے سے یوں بڑھا دیا گیا کہ اب نہ صرف وہ ایک ٹی وی چینل پر باقاعدہ پروگرام کرتا ہے، بلکہ کسی بھی معاملے میں سب سے پہلے اسی کا بیان نظروں سے گزرتا ہے۔

دینی حلقوں کیلئے ایسے افراد اور ایسے واقعات، ایک المیے سے کم نہیں۔ دیکھئے کہ ’’مفتی و قندیل‘‘ کا اسکینڈل نمایاں ہوا تو، ان دونوں کا تو نہ کچھ بگڑا نہ بگڑے گا، وہ تو شاداں و فرحاں ہی دکھائی دے رہے ہیں۔ البتہ مذاق اڑایا جا رہا ہے تو طبقۂ علماء اور دینی حلقوں کا۔ کوئی یہ نہیں سوچتا کہ ترچھی ٹوپی اور ’’علامہ و مفتی‘‘ کے القاب اختیار کر لینے سے کسی کو دین کی ’’ذمہ داری‘‘ کس طرح حاصل ہو جاتی ہے؟ اسلام میں تو پایائیت کا کوئی تصور نہیں۔ افراد کے چال چلن سے دین پر حرف کیوں آئے! لیکن ہوتا یہی ہے کہ کسی بھی نام کے عالم دین، مفتی یا کسی دینی جماعت کے عہدے دار کی کوئی بوالعجبی سامنے آتی ہے تو سارے دین دار طبقات کو رگیدنا شروع کر دیا جاتا ہے، ایسے میں، دینی حلقوں کے ذمہ داران اور دینی جماعتوں کے وابستگان و عہدیداران پر لازم آتا ہے کہ وہ آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کریں، یہ ان کا فرض منصبی ہے کہ اپنی جماعتوں کو اس طرح کے افراد سے پاک کریں جو اپنی ہوس کاری کی کہانیاں عام کر رہے ہیں۔ کسی کو محض اس کی شہرت یا دولت اور حکومتی اداروں میں راہ و رسم کی وجہ سے مناصب سے نوازنے کی بجائے، ان لوگوں کو اہمیت دی جائے جو نیک نامی کا باعث بنیں۔۔۔

اسی طرح، وہ مذہبی رہنما اور دین پسند حضرات، جو ’’مفتی عبدالقوی‘‘ پر غم و غصہ کا اظہار کر رہے ہیں۔ وہ اپنی ’’اسلامی غیرت‘‘ اور ’’ملی حمیت‘‘ کو صرف یہیں تک محدود نہ رکھیں، اپنے ماحول اور اپنے اردگرد بھی نظر دوڑائیں، کہ کہیں ان کے اپنے حلقے میں بھی، ایسے ’’معزز و محترم‘‘ حضرات تو موجود نہیں، جو (مختلف اصطلاحات کا سہارا لے کر) اپنی ہوس پوری کرنے اور دین بیزاری کو بڑھاوا دینے میں مصروف ہیں۔ (اللہ معاف کرے ایسی ایسی کہانیاں ہیں کہ کیا کہیں! ؂

عاقل کو خاموشی زیبا

عارف کو بے ہوشی زیبا

’’مفتی و قندیل‘‘ واقعہ سے، چند سوالات بھی پیدا ہوئے ہیں، جن کے جوابات از بس ضروری ہیں، اور تمام مکاتب فکر کے مفتیان کرام کو ان کے ہر حال میں جوابات دینے چاہئے۔

-1 مفتی عبدالقوی کا کہنا ہے ’’شادی ایک ہوتی ہے، نکاح متعدد ہوسکتے ہیں‘‘ اس سے کیا مراد ہے؟ ان نکاحوں کی تعداد کہاں تک محدود ہے؟

یہ سوال یوں بھی ضروری ہے کہ ایک اور دینی جماعت کے اعلیٰ عہدیدار کے ایک صاحبزادے، ایک فائیو سٹار ہوٹل کی ایک مجلس میں زور و شور سے فرما رہے تھے۔ ’’صرف چار بیویوں کی حد تک جو بات کی جاتی ہے، یہ صحیح نہیں، ایک آدمی بیک وقت جتنی چاہے بیویاں رکھ سکتا ہے اور چار سے زیادہ بیویاں رکھنے کی کوئی ممانعت نہیں۔‘‘

وفاقی وزیر مذہبی امور سردار یوسف نے کہا ہے کہ ’’مفتی عبدالقوی والا معاملہ، اسلامی نظریاتی کونسل کے سپرد کیا جائے گا۔‘‘

وزیر صاحب کی بات ہماری سمجھ میں نہیں آئی کہ ان کو مناصب دینا (رویت ہلال کمیٹی کا ممبر بنانا) حکومت کا انتظامی کام ہے (اور سیاسی عہدہ تحریک انصاف نے دیا تھا) پھر اس کو کونسل کے سپرد کیوں کیا جا رہا ہے۔ وہ اس معاملے کو اسمبلی میں مذہبی امور کی سٹینڈنگ کمیٹی کے حوالے بھی کرسکتے ہیں اور سینیٹ میں بھی لیکن عہدے سے ہٹانا تو ان کمیٹیوں اور کونسل کا کام نہیں، خود وزیر صاحب کا ہے۔ ہاں البتہ نظریاتی کونسل سے یہ ضرور پوچھا جاسکتا ہے کہ : ایک آدمی بیک وقت کتنی عورتوں سے شادی کرسکتا ہے؟

چار بیویوں کے باوجود کسی اور سے نکاح کے نام سے تعلق بنایا جاسکتا ہے؟ ’’نکاح مسیار‘‘ کی حیثیت کیا ہے؟ کیا یہ عورت کے تقدس کی پامالی نہیں۔ اپنے ملک میں شادیوں کی گنتی پوری کرکے، دوسرے ممالک میں ’’مسیار‘‘ کے نام سے عورتوں سے تعلق کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ سوال اور کہانیاں بے شمار ہیں مگر ؂

افسوس بے شمار سخن ہائے گفتنی

خوفِ فسادِ خلق سے ناگفتہ رہ گئے

۔۔۔*۔۔۔

مزید : کالم