رمضان المبارک کے دوران ٹکیتی ،رہزنی سمیت جرائم میں اضافہ ،شہریوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھ گیا

رمضان المبارک کے دوران ٹکیتی ،رہزنی سمیت جرائم میں اضافہ ،شہریوں میں عدم ...

لاہور (وقائع نگار) صوبائی دارالحکومت سمیت مضافاتی علاقوں عید الفطرکی آمد کے ساتھ ہی میں ڈکیتی ورہزنی سمیت سنگین نوعیت کے جرائم کی وارداتوں میں اضافہ سے شہریوں میں خوف وہراس بڑھ گیا۔نمائندہ’’ پاکستان‘‘ سے گفتگو کر تے ہوئے شہریوں کا کہنا تھا کہ رمضان المبارک میں دن دیہاڑے خواتین سمیت راہگیروں سے موبائل، نقدی چھیننے کے رجحان میں خطرناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے جبکہ ڈکیتی مزاحمت میں شہریوں کو زخمی کرنے کی وارداتیں بھی بڑھ گئی ہیں جس کی وجہ سے ان میں عدم تحفظ کا احساس بڑھ گیا ہے ۔پولیس کی جانب سے شہر کے مختلف مقامات پر ناکے لگانے کا سلسلہ تو شروع کردیا گیا ہے لیکن پولیس اہلکار ناکوں پر سوائے شہریوں کو روک کر تنگ کرنے کے اور کچھ نہیں کرتے ہیں۔چند روز قبل بھی پنجاب حکومت کے امن و امان کے حوالے سے ایک اہم اجلاس میں پولیس کے آپریشنز اور انویسٹی گیشن ونگز کی کارکردگی پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام نے لاہور پولیس کو اپنا قبلہ درست کرنے کی وارننگ دی تھی۔ پچھلے ایک مہینے کے دوران شہر میں مختلف ڈویژنوں میں موثر گشت نہ ہونے اور تھانوں کی سطح پر بھی سٹریٹ کرائم والے علاقوں میں پولیس کی نااہلی کے باعث ہر پانچویں شہری کے ساتھ واردات ہو رہی ہے اور سیاسی سفارشوں نے متعلقہ پولیس کے دل ودماغ سے سزا جزا کا تصور بھی ختم کر دیاہے۔ ڈکیتی رہزنی کی وارداتوں میں 60 فیصد اضافہ ہو گیا ہے لاہور میں صدر ڈویژن کے علاقوں میں روانہ بیسیوں وارداتیں ہو رہی ہیں اور ان میں سے چند ایک بھی ٹریس نہیں ہوتیں۔اس حوالے سے پولیس حکام کا موقف ہے کہ ہم سٹریٹ کرائم کو کم کرنے کے لئے کوشاں رہتے ہیں اور اسی وجہ سے سٹریٹ کرائمز میں اضافہ نہیں بلکہ کمی ہوئی ہے لیکن معمول کی وارداتوں کو روکا نہیں جا سکتا۔

مزید : علاقائی