لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں طوفانی بارش ، 2افراد جاں بحق ، بجلی کا نظام درہم برہم

لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں طوفانی بارش ، 2افراد جاں بحق ، بجلی کا ...

لاہور،اسلام آباد(جنرل رپورٹر،اپنے کرائم رپورٹر سے،وقا ئع نگار،مانیٹرنگ ڈیسک)پنجاب کے مختلف علاقوں میں طوفانی بارشوں نے نظام زندگی درہم برہم کردیا، جب کہ مختلف حادثات میں 2 افراد جاں بحق اور 12زخمی ہو گئے۔ لاہور میں بدھ کو صبح تیز ہواؤں کے ساتھ ہونے والی بارش کے باعث نشیبی علاقے زیر آب آگئے جس کی وجہ سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ جب کہ لاہور ایئرپورٹ پر فلائٹ آپریشن بھی بری طرح متاثر ہوا ہے، موسم کی خرابی کے باعث علامہ اقبال انٹر نیشنل ایئر پورٹ سے اندرون و بیرون ملک جانے والی متعدد پروازیں منسوخ کردی گئی جس کے باعث 2 ہزار سے زائد مسافر ایئرپورٹ پر پھنس کر رہ گئے ۔ لاہور میں بارش کے باعث مختلف حادثات میں 2 افراد جاں بحق جب کہ صوفیہ آباد میں مکان کی چھت گرنے سے 2 افراد زخمی بھی ہوئے۔ وزیراعلیٰ پنجاب وزیراعلیٰ شہباز شریف نے بارش کے باعث نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے کا نوٹس لیتے ہوتے متعلقہ حکام کو فوری طور پر پانی نکالنے کا حکم دیا ہے۔ دوسری جانب سی پی او لاہور کیپٹن عثمان نے شہریوں کو بجلی کے پولز سے دور رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے بغیر ضرورت کے گھر سے باہر نہ نکلنے کی تلقین کی ہے۔ گوجرانوالا میں بھی موسلادھار بارش سے گیپکو ریجن میں 100 سے زائد فیڈرز ٹرپ کر گئے جس کے باعث متعدد علاقوں کی بجلی غائب ہو گئی۔ اس کے علاوہ شیخوپورہ میں بھی طوفانی بارش کے باعث نشیبی علاقے زیر آب آ گئے۔ اسلام آباد، راولپنڈی، جھنگ، چیچہ وطنی، ساہیوال، جہلم اور اٹک میں بھی تیز ہواؤں کے ساتھ بارش سے گرمی کا زور ٹوٹ گیا۔محکمہ موسمیات نے اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور اور گوجرانوالا سمیت پنجاب کے متعدد شہروں، خیبرپختونخوا اور کشمیر کے اکثر علاقوں میں مزید بارشوں کی پیش گوئی کی ۔ سکھر، لاڑکانہ ڈویژن، ڈی جی خان، کوئٹہ،ژوب، سبی، نصیر آباد اور گلگت بلتستان میں بھی چند مقامات پر تیز ہواؤں کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔ ڈی جی میٹ غلام رسول کا کہنا ہے کہ گلوبل وارمنگ کے باعث درجہ حرارت تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے، شدید گرمی سے گلیشئرز پگھلنے میں تیزی آئی ہے، رواں برس شدید بارشوں کے باعث سیلاب کا خدشہ ہے تاہم ممکنہ سیلاب سے نمٹنے کے لئے متعلقہ اداروں سے رابطے میں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مون سون بارشوں کا باقاعدہ سلسلہ 27 جون سے شروع ہوگا جو ستمبر تک جاری رہے گا جب کہ آئندہ برسوں میں ہمیں موسمیاتی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کراچی میں بھی رواں برس 25 سے 30 فیصد زیادہ بارش ہونے کا امکان ہے۔بارش کے پانی کے باعث اورنج لائن میٹرو ٹرین کا 8 سے 10 فٹ گہرا زیر زمین ٹریک پانی سے بھر گیا۔ ایل ڈی اے حکام اور تعمیراتی کمپنی نے فوری طور پر کام روک دیا، زیرزمین حصے میں پانی داخل ہونے سے سڑک کا کٹاؤ بھی شروع ہوگیا ہے۔شہر میں ہونے والی موسلا دھار بارش نے جہاں نشیبی علاقوں کو ڈبو دیا ہے وہیں جین مندر میں اورنج لائن میٹرو ٹرین کا زیر زمین ٹریک بھی پانی سے بھر گیا ہے۔ 8 سے10 فٹ گہرے زیرتعمیر انڈر گراؤنڈ سیکشن میں پانی بھرنے سے ایل ڈی اے اور تعمیراتی کمپنی کی جانب سے فوری طور پر کام روک دیا گیا ہے۔ واسا کی غیر مناسب حکمت عملی سے ارد گرد کی آبادیوں کا پانی اور ڈرین بھی اوور فلو کر گئی ہے۔ بارشی پانی اور آبادیوں کے پانی کا اورنج لائن کے زیرزمین ٹریک میں داخل ہونے سے ایل ڈی اے ، نیسپاک اور تعمیراتی کمپنی نے متفقہ طور پر فوری طور پر کام روک دیا ہے۔ نیسپاک کے پراجیکٹ منیجر اورنج لائن میٹرو ٹرین سلمان حبیب کا کہنا ہے کہ بارشی پانی کے باعث زیر زمین ٹریک بھر گیا ہے جس کو خالی کرانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں تاہم ڈی واٹرنگ مشین اور پمپس لگا کرپانی نکالا جا رہا ہے جبکہ سڑک کا کٹاؤ روکنے کے لئے عارضی دیوار بنائی جائے گی۔ایل ڈی ایاور تعمیراتی کمپنی حبیب کنسٹرکشن سروسز کی جانب سے کسی بھی حادثے سے بچنے کے لئے زیر زمین حصے کے گرد رکاوٹیں کھڑی کر دی گئیں ہیں اور اضافی عملہ بھی تعینات کر دیا گیا ہے۔ بارشی پانی کے نکاس تک جین مندر سے چوبرجی تک زیر زمین حصے پر تعمیراتی کام نہیں کیا جائے گا۔موسلا دھار بارش نے ایک بار پھرلیسکو کا ترسیلی نظام تباہ کر دیا۔ تعمیراتی کام کی وجہ سے گھنٹوں بجلی بندش پر ہونے والے انتظامات کا پول کھل گیا۔ 350 سیزائد فیڈرز ٹرپ ہونے سے آدھے شہرمیں گھنٹوں بجلی بند رہی جس سے روزہ داروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔شہرمیں بارش کی وجہ سے لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی کے 350 فیڈرز ٹرپ کر گئیجس کی وجہ سے مختلف علاقوں میں گھنٹوں بجلی بند رہی اور روزہ دار شدید اذیت میں مبتلا رہے، فیڈرز ٹرپ ہونے کی وجہ سے آدھے شہر میں بجلی غائب رہی، متاثرہ علاقوں میں گرین ٹاون،باگڑیاں، ٹاون شپ، کالج روڈ، فیصل ٹاؤن، موہلنوال، ٹھوکر نیاز بیگ، شاہدرہ، لاجپت روڈ، ونڈالا روڈ، بیگم کوٹ، اچھرہ، رسول پارک، سمن آباد، گلشن راوی، چوک یتیم خانہ،شادمان اور شاہ جمال کے علاقے شامل ہیں۔اسی طرح گلبرگ، ڈیفنس، جوہرٹاون، کینٹ، گلدشت ٹاون، بہار کالونی،شمالی لاہور، باغبانپورہ، بادامی باغ اور دھرمپورہ کے علاقوں میں بجلی بند رہی، ذرائع نے بتایا کہ رواں سال تیز بارشوں کی پیش گوئی کے باوجود لیسکو چیف قیصرزمان نے ترسیلی نظام کو بہتر بنانے کی طرف توجہ نہیں دی ، اس لئے چند روز قبل ہونے والی بارش میں بھی 100 سے زائد فیڈر بند ہوئے اور بدھ کو ہونے والی بارش کی وجہ سے 350 فیڈرز بند ہوئے، بجلی بندش کی وجہ سے صارفین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ موسم گرما کی پہلی بارش نے ہی لاہوریوں کو امتحان میں ڈال دیا، گلبرگ کے پوش علاقے بھی نشیبی علاقوں میں بدل گئے۔گزشتہ روز سحر کے بعد ہونیوالی تیز بارش نے شہر کے پوش علاقوں کو بھی نشیبی علاقوں میں بدل دیا۔ ظہور الٰہی روڈ کے اطراف رہائشی علاقوں کی گلیوں میں بدستور بارشی پانی موجود ہے جبکہ سیوریج کا موثر نظام نہ ہونے کی وجہ سے ایف سی کالج کے اطراف بھی رہائشی کالونیوں میں پانی جمع ہے۔ گلبرگ کی سڑکوں پر بارشی پانی کی موجودگی کے باعث شہریوں کو گزرنے میں دشواری کا سامنا ہے ، ٹریفک کا نظام متاثر ہونے سے علاقہ مکینوں کی پریشانی مزید بڑھ گئی ہے۔نشترپارک سپورٹس کمپلیکس میں بھی بارش کا پانی جمع ہوگیا، سیوریج سسٹم نہ ہونے کی وجہ سے قذافی سٹیڈیم کے اطراف سڑکیں تالاب کا منظرپیش کرنے لگیں۔گزشتہ صبح شہر میں ہونیوالی تیز اورطویل بارش نے قذافی سٹیڈیم کے اطراف کی سڑکوں کو تالاب میں بدل دیا۔ کھیلوں کے مرکز نشترپارک سپورٹس کمپلیکس کی سڑکوں سے بارشی پانی نکالنے کیلئے تاحال واسا کی ٹیمیں نہیں پہنچ سکیں، سپورٹس کمپلیکس میں قذافی سٹیڈیم، ہاکی سٹیڈیم اور فٹبال سٹیڈیم موجود ہیں۔ فیروزپور روڈ اورلبرٹی گیٹ سے آنیوالی گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کو دشواری اٹھانا پڑی جبکہ سڑکوں پر فٹ پاتھ تک بارشی پانی سے بھر جانے کے باعث شہریوں کیلئے پیدل گزرنا بھی محال ہوگیا۔بارشی پانی الحمرا کلچرل کمپلیکس اور پنجابی کمپلیکس کے باہر بھی جمع ہوگیا۔ سپورٹس بورڈ نے گزشتہ سال دسمبر میں نشترپارک سپورٹس کمپلیکس میں سیوریج سسٹم لگانے کیلئے پی سی ون بھیجا تھا جو محکمہ پی اینڈ ڈی نے بدستور منظور نہیں کیا۔شہرمیں پری مون سون کی موسلا دھاربارش کے باعث یونین کونسل 80 کی گلگشت کالونی ،رستم پارک ، شہباز کالونی سمیت مختلف آبادیاں زیر آب آگئیں، پانی گھروں میں بھی داخل ہوگیا۔یونین کونسل 80 کی آبادیوں میں مون سون سے قبل ہونے والی بارش نے جھل تھل ایک کر دیا،،بارش کا پانی گلیوں اور گھروں میں جمع ہوگیا، بارش تھمنے کے باوجود پانی کا نکاس نہ ہوسکا۔گلدشت کالونی سمیت دیگر آبادیوں میں بارش کا پانی سڑکوں پر جمع ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تاہم علاقہ مکین واسا اور متعلقہ محکموں کے انتظار کے بجائے اپنی مددآپ کے تحت مین ہولز کے ڈھکن اٹھا کر پانی کے نکاس کے لیے کوشش کرتے رہے۔ علاقہ مکینوں کا کہنا تھا کہ جب بھی بارش ہوتی ہے یہاں متعلقہ محکموں کے اہلکار نکاسی آب کے لیے نہیں آتے، بارش کا پانی کئی گھنٹوں تک سڑکوں پرجمع رہتا ہے جس سے زندگی مفلوج ہو کر رہ جاتی ہے۔اس حوالے سے ایم ڈٰ واسا نصیر چودھری کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز سال کی سب سے بڑی اور تیز ترین بارش ہوئی ایک گھنٹے میں 76ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی لیکن اللہ کے فضل سے شہر سے پانی ریکارڈ وقت میں نکال دیا گیا۔لاہور سے اپنے کرا ئم ر پو رٹر کے مطابق نکا سی نہ ہو نے سے لاہور ڈوب گیا ،صوبائی دارلحکو مت کے مختلف مقامات میں گز شتہ روز تیزطو فا نی بارش کے باعث چھت گر نے کر نٹ لگنے درخت گر نے سے ایک شخص بلاک ہو گیا جبکہ 12افراد شدید زخمی ہو گئے پو لیس اور امدادی ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر زخمیوں کو شہر کے مختلف ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ،تفصیلات کے مطا بق گز شتہ روز ہو نے والی طوفا نی بارش کے باعث سٹرکیں تلاب بن گئی پا نی جمع ہو نے سے ٹریفک کا نظام درہم بر ہم ہو گیا گاڑیوں کی لمبی لمبی لا ئنیں لگ گئی ،جبکہ بارش کی وجہ سے پورہ شہر ڈوب گیاما نگا منڈی میں بجلی کی تاریں گر نے سے 30سالہ زاہد جاں بحق ہو گیا ، ہنجر وال کے علاقہ میں واقعہ ٹھو کر نیاز تیز بارش کے باعث خستہ حال مکان کی چھت گر نے سے ایک ہی خاندان کے 7افراد ملبے تلے دب کر شدید زخمی ہو گئے اطلاع ملنے پر امدادی ٹیموں سمیت پو لیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی زخمیوں کو فوری طبی امداد کے لئے مقامی ہسپتال میں منتقل کر دیا گیا جہاں پر ایک کی حالت نازک بیا ن کی جاتی ہے ،بتا یا گیا ہے کہ گز شتہ روز ہو نے والی تیز بارش کے باعث ہنجر وال کے علاقہ میں محنت کش کے مکان کی خستہ حال مکان کی چھت اچانک زور دار دھما کے سے گر گئی گھر میں موجود ایک ہی خاندان کے 2بچوں سمیت 7افراد شدید زخمی ہو گئے زخمیوں میں ،ڈیر سالہ مونہ ،کلشوم بی بی ،20 سالہ سکندر، 25سالہ انعام ،اور15 سالہ عمران شامل ہیں پو لیس کے مطا بق ایک کی حالت نازک ہے امدادی ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر ملبے سے زخمیوں کو نکال لیا تھا ، جبکہ ریس کورس میں سلیم موٹر سائیکل سے گر کر زخمی ہو گیا ،سول لائنز امجد، اور اسلام پورہ میں اسلم شدید زخمی ہو ،صو فیا آ با د کے علا قے میں ہو ٹل کی چھت گر نے سے 2افر اد زخمی ہو گئے اور علا مہ اقبا ل روڈ کیر ن ہسپتا ل کے قر یب بھی چھت گر نے سے 3بچے زخمی ہو گئے جنہیں طبی امد د کیلئے ریسیکو 1122اور اید ھی کی گا ڑ یو ں نیطبی امداد کے لئے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ،اور اسلام پورہ میں واقعہ ابدالی روڈ میں درخت گر نے سے سٹرک بلاک ہو گئی گاڑیوں کی لمبی لمبی لائنیں لگ گئی ،

بارش

مزید : صفحہ اول