سپریم کورٹ کے باہرکئی فٹ پانی کھڑا ہونے سے سائلین اور راہ گیروں کو مشکلات

سپریم کورٹ کے باہرکئی فٹ پانی کھڑا ہونے سے سائلین اور راہ گیروں کو مشکلات

لاہور(نامہ نگارخصوصی )لاہور میں ہونے والی بارش کے نتیجے میں سپریم کورٹ کے باہرکئی فٹ پانی کھڑا ہونے سے سائلین اور راہ گیروں کو مشکلات کا سامنا، سپریم کورٹ کے از خود نوٹس کے باوجود عدالت عظمی لاہور رجسٹری کے باہر نکاس آب کے انتظامات کاغذی کارروائی ثابت ہو گئے۔صوبائی دارالحکومت میں ہونے والی تیز بارش کے نتیجے میں سپریم کورٹ لاہور رجسٹری کے باہر کئی کئی فٹ پانی کھڑا ہو گیا۔بارش کا پانی کھڑا ہوتے ہی جی پی او چوک سے جین مندر جانے والی عام ٹریفک شدید متاثر ہوئی جبکہ سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں جانے والے وکلاء ،سائلین اور عدالتی عملے کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا،بارش ختم ہونے کے کئی گھنٹوں بعد بھی واسا حکام کی جانب سے پانی نہ نکالا جا سکا جس کی وجہ سے سپریم کورٹ کے سامنے سے گزرنے والی سڑک کئی گھنٹے تک بند رہی۔تین سال قبل چیف جسٹس پاکستان نے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری کے باہر بارشوں کا پانی کھڑا ہونے کا از خود نوٹس لے کر واسا حکام کو نکاس آب بہتر بنانے کے احکامات صادر کر رکھے تھے۔حالیہ بارش کے نتیجے میں سپریم کورٹ کے از خود نوٹس کے باوجود واسا حکام کی جانب سے عدالت میں کی جانے والی یقین دہانیاں کاغذی کاروائی ہی ثابت ہوئیں۔

مزید : صفحہ آخر