ضلعی عدلیہ میں ججوں کی تعداد میں اضافہ کے ثمرات عوام تک منتقل ہورہے ہیں: چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

ضلعی عدلیہ میں ججوں کی تعداد میں اضافہ کے ثمرات عوام تک منتقل ہورہے ہیں: چیف ...

لاہور(نامہ نگارخصوصی )چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا ہے ادارے عمارتوں سے نہیں بنتے، اداروں میں کام کرنے والے افراد انکی سربلندی کا باعث بنتے ہیں، ہماری خوش قسمتی ہے کہ لاہور ہائی کورٹ میں قابل اور محنتی جج صاحبان اور بار میں پر عزم وکلاء موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بنچ اور بار کی تمام تر توجہ فراہمی انصاف کے مشن کو پورا کرنے پر مرکوزہے۔ وہ لاہور ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن کی جانب سے اپنے اعزاز میں دی گئی افطار پارٹی سے خطاب کر رہے تھے۔ افطار پارٹی چیف جسٹس کی بطور جج سپریم کورٹ پاکستان نامزدگی اور سینئر ترین جج سید منصور علی شاہ کی لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نامزد ہونے کے حوالے سے دی گئی تھی۔ اس موقع عدالت عالیہ کے فاضل جج صاحبان، لاہو ر ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن کے عہدیداران اور سینئر و نوجوان وکلاء کی بڑی تعداد موجود تھی۔ چیف جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ وہ اللہ رب العز ت کے مشکور ہیں جو ہماری تمام کمیوں اور کوتاہیوں پردہ ڈالنے والا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنچ اور بار انصاف کی جلد فراہمی کے حوالے سے متحد ہے اور اپنے اس مقصد کے حصول کیلئے کوشاں ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کی عظیم الشان عمارت ہی نہیں ہم سب اس کی عظیم روایات کے امین ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ شہریوں کے عدلیہ پر بڑھتے ہوئے اعتماد کی بدولت عدالت عالیہ اور ضلعی عدلیہ میں مقدمات کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے اور مقدمات کو جلد نمٹانے کے حوالے سے عدالت عالیہ لاہور کے تمام جج صاحبان اپنی بھرپور کوشش جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی سے استفادہ،جوڈیشل افسران کی استعدادکار میں اضافہ اور ضلعی عدلیہ میں ججوں کی تعداد میں اضافہ کے ثمرات عوام تک منتقل ہو رہے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ضلعی عدلیہ کو دیئے گئے تمام ٹارگٹ پورے کرتے ہوئے پچھلے چند ماہ میں 50ہزار سے زائد مقدمات کا فیصلہ کیا ہے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا وہ مطمئن ہیں کہ وہ عدالت عالیہ لاہور کی باگ ڈور قابل ہاتھوں میں دے کر جارہے ہیں اور لاہور ہائی کورٹ کے آنے والے چیف جسٹس سید منصور علی شاہ سے بہت امیدیں وابسطہ ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ وہ اس ادارے کی سربلندی اور وقار میں اضافہ کریں گے۔ قبل ازیں لاہور ہائی کورٹ کے نامزد چیف جسٹس سید منصو ر علی شاہ کا کہنا تھا کہ آج کی شام چیف جسٹس اعجاز الاحسن کے نام ہے، انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس نہایت شریف المزاج اور شریف النفس انسان ہیں، جسٹس سید منصور علی شاہ نے چیف جسٹس کے بطور سپریم کورٹ جج تعیناتی پر نیک تمناؤں کا بھی اظہار کیا۔ تقریب کے اختتام پر لاہور ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن کی کابینہ کی جانب سے فاضل چیف جسٹس کو یادگاری شیلڈ اور نامزد چیف جسٹس سید منصور علی شاہ کو گلدستہ بھی پیش کیا گیا۔

مزید : صفحہ آخر